ممبئی کے ذمہ داران ِ مدارس نے بھی کہا: تنبیہ کی توگنجائش ہے مگرتشددکی ہرگزنہیں ۔رابطہ مدارس اسلامیہ ممبئی اور تھانے کے مطابق وقفے وقفے سے میٹنگ میں اس جانب توجہ دلائی جاتی ہے۔متعلقہ مدرسے کےسربراہ نے بتایاکہ تینوں معلمین کوہٹایا جاچکا ہے۔
گنگوہ کے دارالعلوم زکریا میں ایک کمسن طالب علم کی دو اساتذہ کے ذریعے بے رحمی سے پٹائی کی چہار جانب سے مذمت کی جارہی ہے۔ ممبئی کے ذمہ داران مدارس نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی اور ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی تنبیہ کے لئے ’تادیب‘ کی تو گنجائش ہے ’تعذیب‘ کی ہرگز نہیں۔ نمائندۂ انقلاب نےاس تعلق سے ممبئی کے دینی مدارس کے ذمہ داران سے بات چیت کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ مدرسے کے مہتمم قاری عبدالجبار گنگوہی سے بھی فون پر بات چیت کی۔
مدرسے کے مہتمم حضرات کیاکہتے ہیں؟
مذکورہ واقعے کے تعلق سے دارالعلوم امدادیہ کے سکریٹری مولانا محمودخان دریابادی نے کہاکہ’’ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے ،اسے دیکھ کرسخت حیرت ہوئی۔ ہمارے ادارے میںاس طرح کی سز ا کےتعلق سے سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ حضرت مولانا شاہ ابرارالحقؒ ہردوئی نے متعدد مقامات پر تحریر فرمایا ہے کہ طلبہ کے ساتھ تنبیہ کا معاملہ تو ہو لیکن تعذیب کاہرگز نہیں، ہمارے یہاں اسی پر عمل کیا جارہا ہے ۔‘‘
مدرسہ معراج العلوم چیتا کیمپ کے نائب مہتمم مولانا محمدزاہد خان قاسمی کے مطابق ’’ اس ویڈیو میں جس طرح ایک کمسن طالب علم کی بے رحمی سے پٹائی کی جارہی ہے اورایک استاد اسے پکڑےہوئے ہے،وہ انتہائی حیران کن ہے۔ ہمارے ادارےمیں تو شروع سال ہی میں میٹنگ میںاساتذہ پر واضح کردیاجاتا ہے کہ اگرکوئی طالب علم شریر ہو یا سبق سنانے میں زیادہ ناغہ کرےتواستاد تنبیہ کے ساتھ اسے اپنے قریب کرے تاکہ وہ مانوس ہو اوراس کی اصلاح ہوسکے۔ اسی کے ساتھ والدین سے بھی رابطہ قائم کرکے ان کو حالات سے آگاہ کرادیا جائے مگر زیادہ مارپیٹ کی قطعاً گنجائش نہیں ہے ۔‘‘ جامعہ قادریہ اشرفیہ (دوٹانکی) کے سربراہ مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاں نے کہاکہ ’’طلبہ کے ساتھ شفقت کا برتاؤ ضروری ہے، اس سے وہ مزیدانہماک سے علم حاصل کریںگے ۔ زیادہ سختی ہوئی تو وہ بدظن ہوجائیں یا خدانخواستہ حصولِ علم سے ہی برگشتہ ہوجائیں۔ اس لئے جامعہ میں اساتذہ کو اس جانب متوجہ کیا جاتا ہے اور وہ اس پر عمل بھی کرتے ہیں، اس انداز سے طلبہ میںاساتذہ کے تئیں احترام بھی بڑھتا ہے ۔ ‘‘
رابطہ مدارس کا موقف کیا ہے؟
رابطۂ مدار س اسلامیہ ممبئی وتھانے کے ترجمان مولانا عبدالقدوس شاکر حکیمی نے بتایا کہ ’’رابطہ مدارس اسلامیہ کے ذریعے وقفے وقفے سے ہونے والی میٹنگ میں اِس جانب توجہ دلائی جاتی ہے کہ طلبہ کو تنبیہ کی جائے مگر شدت پسندی اور بے رحمی کا اندازہرگز نہ اپنایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ممبئی اور اطراف کے دینی اداروں میں آج تک ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ گنگوہ کے جس مدرسے میںکمسن طالب علم کی بے رحمی سے پٹائی کی گئی اور اساتذہ کو گرفتار کیاگیا، اس واقعے نے سبھی مدارس کے ذمہ داران کو نہ صرف شرمندہ کیا بلکہ سوچنے پرمجبور کردیا ہے۔‘‘انہوںنے یہ بھی بتایاکہ ’’ اُن کے ادارہ مدینۃ المعارف میں ایک استادکے ذریعے کچھ زیادہ سختی برتنے کی شکایت ملنے اوراس کی تصدیق ہونے کےبعد انہیں بلاتاخیرہٹادیا گیا۔اس لئے بھی کہ ہم یہ سمجھتے ہیںکہ اگرکسی طالب علم کے ساتھ حد درجہ سختی کی گئی تو وہ استاد سے خوفزدہ رہے گا اور نفسیاتی طور پر اس کا پڑھنا مشکل ہوجائے گا۔‘‘
متعلقہ مدرسے کےسربراہ کاکیاکہنا ہے؟
گنگوہ قصبہ میںواقع دارالعلوم زکریا کے مہتمم قاری عبدالجبار گنگوہی نے انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے اس کااعتراف کیا کہ ’’اس واقعے سے حددرجہ افسوس اور شرمندگی ہوئی ہے اور یہ واقعہ پوری علماء برادری کی کردار کُشی کے مترادف ہے ۔یہی وجہ ہے کہ تینوں اساتذہ (ایک استاد ،دومنشی ہیں) کو مدرسے سے نکال دیا گیا ہے، جن میں سے دو پولیس کی گرفت میں ہیں جبکہ ویڈیوبنانے والے کی میڈیا کا طبقہ ستائش کررہا ہے کہ وہ اِس واقعے کو منظرعام پرلانے کا ذریعہ بنا ۔‘‘قاری عبدالجبار نے صفائی دیتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ’’وہ طالب علم اکثر بھاگ جاتا تھا، اسی سبب اس کے ساتھ سختی کی گئی مگر جو ویڈیو وائرل کیا گیا ہے، اس سے چھیڑچھاڑ کی گئی ہے اوراس کی اس قدر بے رحمی سے پٹائی نہیںکی گئی جتنا دکھایا گیا ہے۔ دوسرے یہ واقعہ آج نہیں ۹؍ماہ قبل محرم الحرام میں پیش آیا تھا اورطالب علم کے والد کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے معاملہ رفع دفع کردیاگیا تھا مگر ایک سازش کے تحت اب یہ ویڈیو وائرل کیا گیا ہے۔ادارہ میںیہ ہدایت دی گئی ہے کہ کوئی بھی استا دطلبہ سے سختی سے پیش نہیں آئے گا ۔‘‘