• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عراق: شہریوں نے امریکی فوج کے حتمی انخلاء کا جشن منایا، حکومت نے سلامتی انتظامات سنبھال لئے

Updated: October 01, 2026, 5:05 PM IST | Baghdad

امریکہ کے آخری فوجی دستے بنیادی طور پر عراق کے نیم خود مختار کرد خطے میں واقع اربیل کے ایک ایئربیس سے واپس روانہ ہوئے، جس کے بعد عراقی شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر اس کا جشن منایا اور عراقی فوجیوں نے دارالحکومت بغداد اور نجف میں پریڈ کی۔ تاہم، کچھ ماہرین نے ان خدشات کا اظہار کیا کہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سلامتی کا خلاء ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کو مضبوط کر سکتا ہے یا دولتِ اسلامیہ (داعش) کے دوبارہ ابھرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

Photo: X
عراقیوں کے جشن کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

بدھ کے روز دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد امریکی افواج نے عراق سے آپنا انخلاء مکمل کر لیا ہے۔ امریکہ کے آخری فوجی دستے بنیادی طور پر عراق کے نیم خود مختار کرد خطے میں واقع اربیل کے ایک ایئربیس سے واپس روانہ ہوئے، جس کے بعد عراقی شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر اس کا جشن منایا اور عراقی فوجیوں نے دارالحکومت بغداد اور نجف میں پریڈ کی۔ تاہم، کچھ ماہرین نے ان خدشات کا اظہار کیا کہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سلامتی کا خلاء ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کو مضبوط کر سکتا ہے یا دولتِ اسلامیہ (داعش) کے دوبارہ ابھرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یمن میں بے گھر افراد کی خیمہ بستیوں میں بیماریاں پھیلنے کا خطرہ

عراقی وزیرِ اعظم علی فالح الزیدی نے کہا کہ یہ اقدام عراق کے ”ایک ایسے مرحلے میں منتقلی کی نشاندہی کرتا ہے جس میں وہ اپنی سلامتی اور استحکام کی مکمل ذمہ داری خود سنبھالے گا۔“ تاہم تجزیہ کاروں نے اس کے خطرات سے خبردار کیا۔ تجزیہ کار جاسم البہادلی نے کہا کہ ”گزشتہ دو دہائیوں کا سبق یہ ہے کہ سیکوریٹی کا خلاء انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔“ استاد عادل سلمان نے کہا کہ عراقیوں کو ”جشن منانے میں جلدی نہیں کرنی چاہئے۔“ انہوں نے نشان دہی کی کہ عسکریت پسند گروہ اب بھی سرگرم ہیں اور دولتِ اسلامیہ ختم نہیں ہوئی ہے۔

ایران، جس نے اتحادی مسلح گروہوں کے ذریعے عراق میں اثر و رسوخ قائم کیا ہے، نے اس انخلاء کو اپنے ”محورِ مزاحمت“ (axis of resistance) کی فتح قرار دیا۔ تجزیہ کار احمد یونس نے خبردار کیا کہ ایران کے حمایت یافتہ گروپس اب ریاستی اداروں میں اپنا کردار بڑھانے کیلئے زیادہ پرعزم محسوس کر سکتی ہیں۔ سیکوریٹی حکام نے دولتِ اسلامیہ کے سلیپر سیلز کے خطرات سے بھی خبردار کیا۔ ریٹائرڈ جنرل محمد الجبوری نے متنبہ کیا کہ عراق کے پاس اب بھی ممکنہ ڈرون خطرات کے خلاف مناسب فضائی دفاعی نظام کی کمی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دبئی: حافظ ڈیلیوری رائیڈر کا قرآن پڑھتے ہوئے ویڈیو وائرل، انعام سے نوازا گیا

واضح رہے کہ امریکی افواج نے ۲۰۰۳ء میں صدام حسین کا تختہ الٹنے کیلئے عراق پر حملہ کیا تھا اور ابتدا میں ۲۰۱۱ء میں انخلاء کے بعد وہ ۲۰۱۴ء میں دولتِ اسلامیہ کا مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرنے کیلئے دوبارہ واپس آئیں، جس نے ملک کے ایک تہائی حصے پر قبضہ کرلیا تھا۔ ’عراق باڈی کاؤنٹ‘ پروجیکٹ کے مطابق، اس تنازع کے دوران ۴۵۰۰ سے زائد امریکی فوجی اور دو لاکھ سے زائد عراقی شہری ہلاک ہوئے۔ پینٹاگون نے کہا کہ اس نے باضابطہ طور پر ”آپریشن انہیرنٹ ریزالو“ (Operation Inherent Resolve) کا خاتمہ کر دیا ہے اور وہ تربیت اور انٹیلی جنس امداد کی فراہمی جاری رکھے گا۔ اس انخلاء کا معاہدہ ۲۰۲۴ء میں صدر جو بائیڈن کے دور میں طے پایا تھا اور اس پر عمل درآمد ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK