فرانس میں مہنگائی، معاشی عدم مساوات اور تعلیمی اداروں کی صورت حال کے خلاف احتجاج نے شدت اختیار کرلی ہے۔ ملک گیر ہڑتال کے باعث ایفل ٹاور بھی بند کرنا پڑا، جبکہ ہزاروں سیکوریٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 1:16 PM IST | Paris
فرانس میں مہنگائی، معاشی عدم مساوات اور تعلیمی اداروں کی صورت حال کے خلاف احتجاج نے شدت اختیار کرلی ہے۔ ملک گیر ہڑتال کے باعث ایفل ٹاور بھی بند کرنا پڑا، جبکہ ہزاروں سیکوریٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔
فرانس میں کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کے درمیان جمعرات کو ملک گیر ہڑتال کے باعث پیرس کا مشہور ایفل ٹاور عوام کیلئے بند کردیا گیا۔ ہڑتال سے اسکولوں اور ٹرینوں سمیت متعدد خدمات متاثر ہوئیں۔ ایفل ٹاور کی سرکاری ویب سائٹ نے بھی اس کی بندش کی تصدیق کی۔ یادگار کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق، ایفل ٹاور کو بند کرنے کا فیصلہ ملک گیر ہڑتال کے باعث کیا گیا، جس سے اسکولوں اور ٹرینوں کی آمد و رفت سمیت کئی خدمات متاثر ہوئیں۔ یہ تعطل ایسے وقت میں سامنے آیا جب فرانس بھر میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر مظاہرے اور احتجاجی ریلیاں منعقد ہوئیں۔ احتجاج میں شدت آنے کے ساتھ جمعرات کو ہڑتال کرنے والے ملازمین نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے خلاف ملک بھر میں مارچ کیا۔ توقع تھی کہ اس روز لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلیں گے۔ فرانس کی بڑی مزدور یونین ’سی جی ٹی‘ کے مطابق، جمعرات کی دوپہر تک ۷۳؍ شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں ۲؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار سے زائد افراد شریک ہوچکے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران میں ٹرمپ کی فرضی پھانسی کا منظر، امریکی و اسرائیلی لیڈرز کا بینر نذرِ آتش
فرانس بڑے پیمانے پر احتجاج کی زد میں، مظاہرے کیوں شروع ہوئے؟
یورپ کی سب سے بڑی معیشت فرانس کئی ہفتوں سے بڑے پیمانے پر احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔ حکومت کو ملک کے مالیاتی مسائل سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون کے جانشین کے انتخاب کیلئے انتخابات قریب آنے کے ساتھ احتجاج میں بھی شدت آرہی ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کو برتری حاصل ہے۔ احتجاج کا آغاز اس وقت ہوا جب طلبہ نے اسکولوں کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے خلاف مظاہرے شروع کیے۔ طلبہ کے احتجاج کے ساتھ ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف عوامی غصہ بھی سامنے آیا، جس کے نتیجے میں ۱۷؍ اکتوبر کو فسادات پھوٹ پڑے۔ یہ حالیہ برسوں میں فرانس کے بدترین فسادات میں شمار کیے گئے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق، جمعرات کو ملک بھر میں ۲۲۰؍ سے زائد عوامی مظاہروں کا امکان تھا۔
جنوب مغربی فرانس میں ہائی اسکول کو آگ لگادی گئی
اطلاعات کے مطابق، جمعرات کو لیون شہر میں فرانسیسی پولیس نے مظاہرین کے ایک گروپ کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ملک گیر احتجاج کی تازہ کال مزدور یونینوں نے دی تھی۔ جنوب مغربی فرانس میں تولوز کے قریب جمعرات کی صبح ایک ہائی اسکول کو آگ لگادی گئی۔ اس سے قبل جمعرات کی صبح پیرس میں ہائی اسکول کے طلبہ اور دیگر مظاہرین نے سڑک پر کچرے کے ڈبے رکھ کر راستہ بند کردیا، جس کے بعد ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔
فرانسیسی حکام نے مظاہروں کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ملک بھر میں تقریباً ۷۰؍ ہزار پولیس اہلکاروں اور مسلح جنڈارمری فورس کے اہلکاروں کو تعینات کیا۔ اکتوبر میں ہونے والے سابقہ احتجاج کے دوران جھڑپوں، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے تھے، جن کے بعد بدامنی نے فسادات اور سرکاری بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی شکل اختیار کرلی تھی۔ اسی پس منظر میں سیکوریٹی انتظامات مزید سخت کردیے گئے۔