فرانس میں ماہی گیروں نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملک بھر میں تیل کے ڈپو بلاک کر دیے، جبکہ نیس میں، تقریباً نصف درجن چھوٹی کشتیوں نے مبینہ طور پر سمندر سے بندرگاہ کے داخلی راستے کو بلاک کر دیا۔
EPAPER
Updated: September 17, 2026, 10:06 PM IST | Paris
فرانس میں ماہی گیروں نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملک بھر میں تیل کے ڈپو بلاک کر دیے، جبکہ نیس میں، تقریباً نصف درجن چھوٹی کشتیوں نے مبینہ طور پر سمندر سے بندرگاہ کے داخلی راستے کو بلاک کر دیا۔
براڈکاسٹر فرانس انفو کے مطابق، جمعرات کو تقریباً۱۰۰؍ ماہی گیروں نے ہیرالٹ کے فرونٹیگنان کمیون میں تیل کے ڈپو اور نیس سمیت کئی بندرگاہوں کو بلاک کر دیا۔ماہی گیر پیر سے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف متحرک ہیں، جبکہ احتجاج فرانس بھر کے کئی جنوبی محکموں میں پھیل رہا ہے۔اس کے علاوہ نیس میں، تقریباً نصف درجن چھوٹی کشتیوں نے مبینہ طور پر سمندر سے بندرگاہ کے داخلی راستے کو بلاک کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: روسی تیل خریدنے پر ہندوستان پر ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف عائد کرنے والا بل منظور
چونکہ بندرگاہ فیری ٹریفک کو ہینڈل کرتی ہے، ایک جہاز کو اٹلی کی طرف موڑنا پڑا، جبکہ ایک یاٹ جو اس دن بندرگاہ سے نکلنے والی تھی اسے انتظار میں رکھا گیا۔بعد ازاں ماہی گیروں نے ایک بار پھر فرونٹیگنان میں تیل کے ڈپو تک رسائی کو بھی بلاک کر دیا تاکہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی طرف توجہ مبذول کرائی جا سکے۔جبکہ ہیرالٹ پولیس نے مبینہ طور پر کہا کہ تقریباً ۱۵۰؍ سے ۲۰۰؍ ماہی گیروں نے فرونٹیگنان ریفائنری تک اور اس سے رسائی کو روکا، جب کہ تقریباً۳۰؍ کشتیوں نے سیٹ کی بندرگاہ کو بلاک کر دیا۔علاوہ ازیں آڈے محکمہ میں، منگل کی رات سے ایک بندرگاہ کو بلاک کر دیا گیا ہے، احتجاج جمعرات کو بھی جاری ہے۔اس کے علاوہ بہت سے ماہی گیروں نے گارڈ محکمہ میں لی گراؤ-ڈو-روئی میں بھی مظاہرہ کیا،جہاں ایک بینر پر لکھا تھا، ’’یورپ مارتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکی ایوانِ بالا میں ڈیموکریٹ کا اسرائیل کو ۴۰؍ ہزار بموں کی منظوری سے انکار
واضح رہے کہ روس سے تیل خریداری پر یورپی یونین کی لگی پابندی کے سبب یورپ میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہاہے، جس کا سامنا وہاں کے عوام کو کرنا پڑ رہا ہے، جس کے خلاف ماہی گیر فرانس کے یورپی یونین سے نکلنے اور روسی تیل پر لگی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔