• Thu, 17 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی ایوانِ بالا میں ڈیموکریٹ کا اسرائیل کو ۴۰؍ ہزار بموں کی منظوری سے انکار

Updated: September 17, 2026, 3:30 PM IST | Washington

امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے رینکنگ ممبر گریگوری میکس نے غزہ اور لبنان میں شہریوں کی تباہی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو ۲؍ ارب ۸۰؍ کروڑ ڈالر مالیت کے ۴۰؍ ہزار بھاری بموں کی مجوزہ منتقلی کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے طرزِ عمل اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے انتظامیہ نے قابلِ اعتماد ضمانتیں فراہم نہیں کی ہیں۔

US Democrat and lawmaker Gregory Meeks. Photo: X
امریکی ڈیموکریٹ اور قانون ساز گریگوری میکس۔ تصویر: ایکس

امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ رکن نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو ۲؍ ارب ۸۰؍ کروڑ ڈالر مالیت کے ۴۰؍ ہزار بھاری بم منتقل کرنے کی مجوزہ تجویز روک دی ہے۔ انہوں نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت اور شہریوں کی تباہی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس منتقلی کی منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے۔ کمیٹی کے رینکنگ ممبر، رکنِ نمائندگان گریگوری میکس نے بدھ کو اعلان کیا کہ وہ فی الحال اس منتقلی کی منظوری نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس اسرائیلی فوج کے طرزِ عمل کے حوالے سے مناسب حفاظتی ضمانتیں فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ گریگوری میکس نے اپنے باضابطہ بیان میں کہا، ’’میں اسرائیل کی سلامتی اور سنگین علاقائی خطرات کے خلاف اپنے دفاع کی اس کی صلاحیت کیلئے پوری طرح پرعزم ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ۴۰؍ ہزار ۲؍ ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی مجوزہ فروخت، جو ہمارے اسلحہ خانے میں موجود سب سے زیادہ تباہ کن ہتھیاروں میں شامل ہیں، اس بارے میں سنگین اور حل طلب خدشات پیدا کرتی ہے کہ غزہ اور لبنان کے گنجان آباد علاقوں میں ان ہتھیاروں کا استعمال کس طرح کیا جا سکتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا بھوٹان دورہ، اہم لیڈروں سےملاقات

میکس نے زور دے کر کہا کہ انتظامیہ نے غیر جنگجو شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے کوئی قابلِ اعتماد ضمانت فراہم نہیں کی ہے۔ ان کے مطابق یہ روک اس ذمہ داری کی عکاسی کرتی ہے جو کانگریس پر عائد ہوتی ہے کہ امریکی مالی اعانت سے فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کا استعمال قانونی، ذمہ دارانہ اور انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے مؤثر حفاظتی اقدامات کے ساتھ ہو۔ اس طریقۂ کار کے تحت کانگریس کی جانب سے غیر رسمی طور پر اختیار کیے جانے والے ’’درجہ وار جائزے‘‘ (Tiered Review) کے نظام کا سہارا لیا گیا ہے، جس میں محکمۂ خارجہ باضابطہ طور پر کانگریس کو اطلاع دینے سے قبل خارجہ امور کے اہم ارکان سے خفیہ منظوری حاصل کرتا ہے۔ دیگر سینئر قانون سازوں، جن میں سینیٹر کرس وان ہولن بھی شامل ہیں، نے سینیٹ میں اس پیکیج کی مخالفت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے خریدے گئے بم ایک ایسے حکومت کو بھیج رہا ہے جس کی قیادت ایک مطلوب جنگی مجرم کر رہا ہے۔‘‘

عالمی سطح پر مذمت میں اضافہ

مجوزہ ہتھیاروں کی منتقلی نے ملک کے اندر اور عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کی مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے اداروں اور قانونی نگران تنظیموں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ بھاری ہتھیاروں کی فراہمی جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتی ہے، جو اس وقت ہتھیاروں کی منتقلی پر پابندی عائد کرتے ہیں جب اس بات کا واضح خطرہ موجود ہو کہ ان کے ذریعے جنگی جرائم میں سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے گزشتہ سال نتیجہ اخذ کیا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ نسل کشی کے مترادف ہے، اور تمام عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوری طور پر ہتھیاروں کی منتقلی روک دیں۔ امریکہ کے اندر شہری حقوق کی تنظیموں نے بھی کانگریس کی جانب سے ہتھیاروں کی منتقلی روکنے کے اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں عمارت منہدم، کم از کم۲۰؍ فلسطینی جاں بحق، متعدد ملبے تلے دبے

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) نے اس اقدام کو ایک اہم پہلا قدم قرار دیتے ہوئے کہا، ’’غزہ میں برسوں سے جاری بڑے پیمانے پر شہریوں کے قتل اور منظم تباہی کے بعد کوئی بھی سمجھ دار شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اسے اس بات کا علم نہیں کہ نسل پرست اور کھلے عام نسل کشی کرنے والی نیتن یاہو حکومت ان ہتھیاروں کا استعمال کس طرح کرے گی۔ کانگریس کو اس ناقابلِ قبول اسلحہ منتقلی کو مستقل طور پر مسترد کرنا چاہیے اور اسرائیلی حکومت کے جرائم کیلئے کھلے چیک جاری کرنا بند کرنا چاہیے۔‘‘ روایتی جماعتی حدود سے باہر بھی دونوں جماعتوں کی جانب سے مخالفت سامنے آئی ہے۔ قدامت پسند مبصر ٹکر کارلسن نے مجوزہ ۲؍ ارب ۸۰؍ کروڑ ڈالر کی ترسیل کو ’’تحفہ‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ ایسے انتظامیہ کو دیا جا رہا ہے جو غیر مسلح شہری آبادی کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ سابق رکنِ کانگریس مارجری ٹیلر گرین نے لکھا کہ امریکی ٹیکس دہندگان نے کبھی بھی دسیوں ہزار بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کیلئے مالی اعانت فراہم کرنے کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔

۲؍ ہزار پاؤنڈ وزنی بم کی تباہ کن طاقت

اس تنازعے کے مرکز میں موجود ہتھیار جدید فضائی جنگ میں استعمال ہونے والے سب سے زیادہ مہلک روایتی ہتھیاروں میں شامل ہیں۔ ایم کے-۸۴ (MK-84) نامی ۹۰۷؍ کلوگرام وزنی بم کو مضبوط تنصیبات کو تباہ کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ۱۰؍ میٹر (۳۵؍ فٹ) سے زیادہ گہرے گڑھے بنا سکتا ہے اور بھاری مسلح کنکریٹ کو چیرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دھماکے کے وقت یہ بم زبردست سپر سونک دھماکہ خیز لہریں اور شدید حرارتی آگ کا گولا پیدا کرتا ہے، جو ۸۰۰؍ میٹر (تقریباً نصف میل) کے دائرے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فولاد کے نوکیلے ٹکڑے سیکڑوں میٹر تک پھیل سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: چین کے وزیر دفاع کا جبر کے خلاف انتباہ

اسرائیلی فوج نے غزہ اور لبنان کے گنجان آباد شہری علاقوں میں بارہا یہ بھاری بم گرائے ہیں۔ ان میں یک طرفہ طور پر مقرر کیے گئے انسانی بنیادوں پر محفوظ علاقوں کے اندر کیے گئے حملے بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں ہوئیں اور بعض ایک ہی حملے میں کئی منزلہ رہائشی عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو گئیں۔ مجوزہ ۲؍ ارب ۸۰؍ کروڑ ڈالر کا پیکیج مکمل طور پر امریکی فارن ملٹری فنانسنگ (FMF) کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔ یہ ایک ایسا امدادی نظام ہے جس کے تحت امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم براہِ راست غیر ملکی حکومتوں کو امریکی ساختہ دفاعی سازوسامان خریدنے کیلئے مختص کی جاتی ہے۔

ہتھیاروں کی تفصیل

منتقلی میں مجموعی طور پر ۴۰؍ ہزار بھاری بم شامل ہیں:

* ۲۰؍ ہزار ایم کے-۸۴ جنرل پرپز بم: یہ عام استعمال کیلئے تیار کیے گئے بم ہیں، جنہیں بغیر رہنمائی کے یا درست نشانے کیلئے مخصوص کِٹ کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

* ۲۰؍ ہزار بی ایل یو-۱۱۷ (BLU-117) فضائی بم: ایم کے-۸۴ کا ایک خصوصی، حرارتی تہہ سے لیس ماخوذ، جسے محفوظ طریقے سے سنبھالنے اور بحری طیارہ بردار جہازوں میں زیادہ درجۂ حرارت پر ذخیرہ کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔

* ۲۰؍ ہزار آئی-۲۰۰۰ (I-2000) پینیٹریٹر وارہیڈز: یہ خاص طور پر زیرِ زمین گہرائی میں بنائے گئے مضبوط بنکروں کو چیرنے اور دھماکے سے پہلے ان کے اندر تک پہنچنے کیلئے ترتیب دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اوآئی سی نے حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی

اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی بے مثال فراہمی

موجودہ قانون سازانہ تنازعہ اسرائیل کو امریکی فوجی منتقلی کے تاریخی پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت شروع ہونے کے بعد سے وائٹ ہاؤس نے اسرائیل کو ۱۲؍ ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے ہتھیاروں کی منتقلی کی منظوری دی ہے یا اسے تیز کیا ہے۔ ۲۰۲۵ء میں وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کانگریس کے معمول کے جائزے کے طریقۂ کار کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کیلئے غیر معمولی ہنگامی اختیارات استعمال کیے۔ اس کے تحت تقریباً ۳؍ ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فراہمی تیز کی گئی، جس میں ۳۵؍ ہزار سے زیادہ بھاری بم اور ۴؍ ہزار بنکر شکن پینیٹریٹرز شامل تھے۔ اس کے بعد جنوری میں مزید ۶۷ء۶؍ ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کا ایک اضافی فوری پیکیج منظور کیا گیا۔ اگرچہ سابق صدر جو بائیڈن نے ۲۰۲۴ء میں بڑے پیمانے پر شہری نقصان کا حوالہ دیتے ہوئے ۹۰۷؍ کلوگرام وزنی بموں کی ایک کھیپ روک دی تھی، تاہم یہ جنگ شروع ہونے کے بعد روکی جانے والی واحد کھیپ تھی۔ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی ماہ یہ پابندی ختم کر دی تھی۔

یہ مسلسل ہتھیاروں کی منتقلی لیہی قوانین (Leahy Laws) کی دفعات کے باوجود جاری ہے۔ ان قوانین کے تحت ان غیر ملکی فوجی یونٹوں کو امریکی دفاعی امداد فراہم کرنے پر پابندی ہے جن کے بارے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے قابلِ اعتبار شواہد موجود ہوں۔ اس کے علاوہ محکمۂ خارجہ کے اندرونی قانونی جائزوں میں بھی غزہ میں ہتھیاروں کے غیر قانونی استعمال کے قابلِ اعتبار شواہد تسلیم کیے گئے ہیں۔ ان حالات میں غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کے نتیجے میں ۷۳؍ ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK