• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس: نسل پرستانہ فائرنگ حملے کے خلاف پیرس میں ہزاروں افراد کا احتجاجی اجتماع

Updated: October 31, 2026, 4:07 PM IST | Paris

فرانس کے شہر پیرس کے مضافاتی علاقے ٹراپس میں مسلم اور افریقی باشندوں کو نشانہ بنا کر کی گئی فائرنگ کے خلاف ہزاروں افراد کا اجتماع، ایک شخص ہلاک اور سات زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد ملک میں نسل پرستی اور دائیں بازو کی انتہا پسند سیاست پر نئی بحث چھڑ گئی، صدر میکرون نے نیشنل ریلی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

A scene of a protest in Paris. Photo: INN
پیرس میں احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے مضافاتی علاقے ٹراپس میں جمعہ کی شام ہزاروں افراد نے ایک ہفتہ قبل فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے شخص کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس حملے میں حملہ آور نے جان بوجھ کر مسلمانوں اور افریقی باشندوں کو نشانہ بنایا تھا۔ گزشتہ جمعہ کو پیرس کے جنوب مغربی مضافاتی علاقے ٹراپس میں پیش آنے والے اس واقعے میں ایک شخص ہلاک اور سات دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ اس حملے کے بعد فرانس کی سیاست اور ذرائع ابلاغ میں نسل پرستی کے موضوع پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ ملک میں صدارتی انتخابات سے چند ماہ قبل پہلے ہی مختلف سماجی مسائل پر بے چینی پائی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’میں اب اسرائیلی ہونے پر فخر محسوس نہیں کرتی‘: اسرائیلی اداکارہ خیلی گولڈن برگ

انسدادِ دہشت گردی کے استغاثہ کے مطابق، ۳۹؍ سالہ مشتبہ حملہ آور، جس کی شناخت کیون ٹی کے نام سے ہوئی ہے، نے جمعرات کو پوچھ گچھ کے دوران اعتراف کیا کہ اس نے مسلمانوں، افریقی یا شمالی افریقی باشندوں جیسی شکل و صورت رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ اس کے سامان سے ہٹلر کی کتاب ’’مائن کامف‘‘ کی ایک کاپی اور دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت نیشنل ریلی کے حوالے سے اسٹیکرز بھی ملے ہیں، تاہم ملزم نے کسی مخصوص سیاسی جماعت کی حمایت سے انکار کیا ہے۔ مقامی سماجی تنظیم ’ایڈر‘ کے سربراہ اور ٹراپس کے رہائشی عماد نے کہا کہ ہمارے لئے ایک جگہ جمع ہونا انتہائی ضروری تھا، کیونکہ معاشرے میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو نقصان دہ نظریات رکھتے ہیں، جیسا کہ حملہ آور کی سوچ تھی۔ تاہم ایسے لوگوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے جو مثبت اور صحت مند نظریات کے حامل ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ باہمی اتحاد اور مل جل کر رہنے سے نسل پرستی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جنین: اسکول جانے کیلئے بچوں کو اسرائیلی فوجی گیٹوں کے نیچے سے رینگنا پڑ رہا ہے

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے جمعرات کو یوٹیوب پر ایک انٹرویو کے دوران دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی (آر این) پر الزام لگایا کہ وہ فرانس میں نسل پرستی کے ماحول کو فروغ دے رہی ہے۔ میکرون کی دوسری اور آخری صدارتی مدت آئندہ مئی میں ختم ہونے والی ہے۔ ٹراپس کے میئر علی رابح نے بھی جمعہ کی شام منعقدہ تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ریلی پر الزامات دہرائے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں، قاتل نے اپنے شکار کا انتخاب اتفاقاً نہیں کیا تھا۔ اس کے ذہن میں نفرت اچانک پیدا نہیں ہوئی بلکہ اس کے اندر یہ نفرت باقاعدہ طور پر بٹھائی گئی تھی۔ انہوں نے اس کیلئے نیشنل ریلی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ دوسری جانب، دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت نیشنل ریلی نے حملہ آور سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔ جماعت کے رکن پارلیمنٹ ژاں فلپ تانگوئی نے فرانسیسی ٹی وی چینل ٹی ایف ون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ نو برسوں سے فرانس پر میکرون کی حکومت ہے اور ان کے دورِ اقتدار میں یہود دشمنی، ہم جنس پرستوں سے نفرت اور دیگر قسم کی نفرتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتِ حال کے ذمہ دار خود میکرون ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK