کئی مکینوں نے اپنے اہل خانہ کے بے قصور ہونے کے باوجود گرفتار کئے جانے کو پولیس کی زیادتی قرار دیا۔ بے قصوروں کو ہراساں نہ کرنےاورگرفتاریوں کا سلسلہ فوراً روکنے کا مطالبہ ۔ ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن کا پتھر بازی سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں تھا، وہ محض تماش بین تھے۔ اب تک ۱۹؍ گرفتار۔ تحقیقاتی افسر نے بے قصوروں کو گرفتار نہ کرنے کا یقین دلایا۔
غریب نگر جھوپڑپٹی کی انہدامی کارروائی کے دوران پولیس اہلکار ایک خاتون کو لے کر جارہی ہیں۔ (پی ٹی آئی)
غریب نگر جھوپڑپٹی پوری طرح توڑ دی گئی۔ ریلوے نے زبردست پولیس بندوبست میں اپنی ۵؍ روزہ انہدامی کارروائی مکمل کرنے کا ۲۳؍مئی سنیچر کے دن اعلان کردیا مگر بہرام پاڑہ میں مقیم مکین پولیس کی کارروائی اور کی جانے والی گرفتاریوں سے پریشان ہیں۔صورتحال یہ ہےکہ پولیس دن اور رات میں کسی بھی وقت آتی ہے اورنام لے کر لوگوں کو تلاش کرتی ہے۔ پولیس کے اس طریقۂ کار کی وجہ سے خاص طور پربہرام پاڑہ میں خوف ودہشت کا ماحول ہے۔
’’یہ سلسلہ فوراً روکا جائے ‘‘
نمائندۂ انقلاب نےایسے مکینوں اورپریشال حال لوگوں سے ملاقات کی۔ ان میں مرد وخواتین سبھی شامل تھے۔ انہوں نے اپنی پریشانی بیان کی، پولیس کی زیادتی کی روداد بتائی اور اپنے بچوں اور اہل خانہ کے بے قصور ہونے کی دہائی دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ یہ سلسلہ فوراً روکا جائے اوربے قصوروں کو ہراساں نہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: رکن پارلیمان کا دورہ اور اندراگاندھی اسپتال کی بجلی گل
پولیس کی زیادتی مکینوں کی زبانی
انتظار احمد نام کے بزرگ شخص نے اپنے سر پر بندھی پٹی دکھاتے ہوئے بتایاکہ ’’ میں بہرام پاڑہ میں رہتا ہوں۔جس وقت سنّی غریب نگر مسجد شہید کی جارہی تھی ،میں نے اعتراض کیا کہ اتنی پرانی مسجد آخر کیوں توڑی جارہی ہے تو پولیس اہلکار نے میرے سوال کرنے پر سرپر دو، مونڈھے پر ایک اور ایک لاٹھی پشت پر ماری اورکہاکہ تم لوگوں کوبھڑکا رہے ہو۔ ‘‘
انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ ’’ ادھر ادھر سے اطلاع مل رہی ہے کہ شاید مجھے بھی پولیس پکڑلے، حالانکہ میرا کوئی قصور نہیں ہے پھر بھی محض سوال کرنے پرکئی لاٹھیاں کھا چکا ہوں۔‘‘
اسی طرح ایک بزرگ خاتون نے بتایا کہ ’’ان کے گھر میں دو بچوں امان اور فیضان کو پولیس نے گرفتار کیا اورانہیں بے رحمی سے مارا پیٹا گیا ہے جبکہ ان کا پتھر بازی سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں تھا ،وہ محض تماش بین تھے۔‘‘
عینی شاہد کا بیان
محمد حسن قریشی نے بتایا کہ’’اُس دن میں کوئلے والی گلی سے آرہا تھا ، میں نے دیکھا کہ پولیس گلی سے جانے والو ں کو بھی بے تحاشہ مار رہی تھی جبکہ یہ حصہ تو غریب نگر سے دور اورنالے کے دوسری جانب واقع ہے۔‘‘ اسی طرح ایک اورشخص نے بتایاکہ ’’بھولا اور اس کا بیٹا دلشاد جو کپڑا پریس کرتا تھا اور سہیل نام کے نوجوانوں کوبھی پولیس نے پکڑ لیا ہے حالانکہ وہ پتھراؤ کرنے والوں میں شامل نہیں تھے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غریب نگر کے متاثرین کی امداد کی کوشش
متاثرین کی مدد کے لئے کوشاں اشتیاق خان نے بتایاکہ ’’ پولیس کارروائی کے سبب مقامی لوگ بہت زیادہ خوفزدہ ہیں ، انہیں یہ ا ندیشہ رہتاہے کہ جو ملوث نہیں بھی تھے،پولیس انہیں بھی کسی وقت گرفتار کر لے گی۔ اس لئے جو ملوث نہیں ہیں ان کو ہراساں نہ کیاجائے اورجو قصور وار ہیں ،ان کی کوئی حمایت بھی نہیں کررہا ہے۔‘‘
بقرعید کیسے منائیں گے؟
دوسری جانب ۴؍دن بعد بقرعید ہے۔ایسے میں یہ لوگ مزید پریشان ہیں کہ اگر پولیس کا یہی رویہ رہا تو ان کے لئے یہ تہوار منانا بھی مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں پر کارروائی کا حکم
پولیس نے کہا:۱۹؍گرفتار، مزید تفتیش جاری ہے
نرمل نگر پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر رمیش واگھ سے رابطہ قائم کرنے پر انسپکٹر دھارگے میڈم نے بتایا کہ فی الوقت چارج ان کے پاس ہے۔ انہوں نے تحقیقاتی افسر کا حوالہ دیا کہ وہ تفصیلات بتائیں گے۔ تحقیقاتی افسر انسپکٹر کھاڑے نے انقلاب کوبتایا کہ ’’اب تک ۱۹؍ گرفتاریاں عمل میں آچکی ہیں۔ مزید تفتیش جاری ہے۔‘‘ ان سے مکینوں کے خوف وہراس کا حوالہ دینے پر انسپکٹر کھاڑے نے کہا کہ ’’ کسی بھی بےقصور کو گرفتار نہیں کیا جائے گا مگر جو قصوروار ہیں انہیں چھوڑا بھی نہیں جائے گا۔‘‘اس کے علاوہ ان کا یہ جواز تھا کہ’’اگر بےتحاشہ گرفتاریاں کی جاتیں تو ان ۵؍ دنوں میں ۵۰؍ سےزائدافراد گرفتار کئے جاچکے ہوتے مگر ایسا نہیں کیا جارہا ہے۔‘‘