۲۵؍دن بعد بکنگ اوراس کے بعد ڈیلیوری میں تاخیر سے صارفین اپنے متعلقین اور پڑوسیوں سے سلنڈر مانگنے پر مجبور ۔ دوردراز علاقوں سے سلنڈر لانے اور۳ ، ۴؍ ہزار روپے میں سلنڈر خرید رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 11:29 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
۲۵؍دن بعد بکنگ اوراس کے بعد ڈیلیوری میں تاخیر سے صارفین اپنے متعلقین اور پڑوسیوں سے سلنڈر مانگنے پر مجبور ۔ دوردراز علاقوں سے سلنڈر لانے اور۳ ، ۴؍ ہزار روپے میں سلنڈر خرید رہے ہیں۔
ایل پی جی کی کمی کی وجہ سے رسوئی گیس سلنڈرکی ۲۵؍دن بعد ہونے والی بکنگ اور بکنگ ہونے پر ۲؍ سے ۵؍ دن بعد سلنڈر کی ڈیلیوری سے شہر و مضافات کے صارفین کوسخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔بکنگ سے قبل گیس ختم ہو جانے پر صارفین اپنے متعلقین اورپڑوسیوں سے سلنڈر مانگنے پر مجبور ہیں ۔ دوردراز علاقوں سے سلنڈر لانے اور۳ ، ۴؍ ہزار روپے میں سلنڈر خرید کر ضروریات پوری کر رہے ہیں ۔ کچھ ایجنسیاں ۲؍ دن بعد تو متعدد ۴، ۵؍ دن بعد گیس سلنڈرکی ڈیلیوری کررہی ہے ۔
مورلینڈ روڈ کے محمد شاہد کے مطابق ’’میرا سلنڈر ۲۱؍مارچ کو بُک ہوگا لیکن ۱۶؍ مارچ ہی کو گھر کا گیس سلنڈر ختم ہوجانے سےسخت پریشانی سے گزرناپڑا ۔ میرے لئے بلیک میں سلنڈر خریدنا ممکن نہیں تھا ،لہٰذا میں نے اپنے پڑوسیوں ، دوستوں اور متعلقین سے ایک آدھ ہفتہ کیلئے اضافی سلنڈر دینے کی درخواست کی جس پر میرے ایک دوست نے اپنے عزیز کے توسط سے ایک سلنڈر کا انتظام کیا اور مجھے مرول سے سلنڈر لے جانے کیلئے کہا ۔میں نے منگل اور بدھ کی شب بائک سے مرول جاکر سلنڈر لایا۔اس دوران اپنے دوستوں کے وہاٹس ایپ گروپ پر بھی سلنڈر کیلئے اپیل کی تھی۔ ۲؍دن سلنڈر نہ ہونے سے بڑی پریشانی ہوئی ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی :صاف صفائی اور کچرا منتقلی کے بڑے منصوبوں کو منظوری دی گئی
کماٹی پورہ کے ریحان وارثی کے مطابق ’’ میری بہن کے گھر کاسلنڈر ۲؍دن پہلے ختم ہوگیا تھا جس کی وجہ سے رمضان المبارک میں افطاری اور سحری کے وقت بڑی پریشانی ہو رہی تھی ۔ مجبوراً اس نے کسی کے ذریعے ۹۰۰؍روپے کا سلنڈر ۳؍ ہزار روپے میں خریدا۔ اس کے اپنے سلنڈرکی بُکنگ اگلے ہفتہ ہوگی ۔ ‘‘
زری کا کام کرنے والے ممبرا کے ایک کاریگر نے بتایا کہ ’’میں کرایے کے مکان میں اپنے بال بچوں کے ساتھ رہتا ہوں ۔ میرے پاس ۵؍کلو والا گیس سلنڈر ہے۔گیس سلنڈرکے نہ ملنے پر میں نے اسٹو خرید نے کا فیصلہ کیا لیکن عام دنوں میں جو اسٹو ۵۰۰؍روپے تک مل جاتا ہے ،وہ ڈیڑھ ہزار روپے میں مل رہا ہے ۔اتنا مہنگا اسٹو خریدنا میرے لئے مشکل تھا ۔ فی الحال کسی طرح کام چلا ر ہا ہوں۔‘‘
مدنپورہ کے رحمانی ٹاور میں رہنے والے محمدطارق خا ن کے بقول’’ میری فیملی چھوٹی ہے ، میرے گھرمیں ایک گیس سلنڈر مہینے بھر سے زیادہ چلتا ہے لیکن رمضان المبارک میں گیس کا استعمال بڑھ جانے سے ایک د ودن میں سلنڈر ختم ہونے کا خدشہ ہے جبکہ میرا سلنڈر۲۵؍ مارچ کو بُک ہوگا ۔ احتیاطً میں نے اپنے ہمسایہ اور کچھ عزیز وں سےایک آدھ ہفتہ کیلئے اضافی سلنڈر دینےکی درخواست کی ہے تاکہ میرا کام چل جائے ۔جیسے ہی میرا سلنڈر آئے گا، میں ان کا سلنڈر لوٹا دوں گا۔‘‘انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ سلنڈر کا مسئلہ سنگین ہو رہا ہے ۔مجھے روزانہ کئی لوگ سلنڈر کیلئے فون کر رہے ہیں لیکن میں خود سلنڈر کیلئے پریشان ہوں ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: راج ٹھاکرے کی جانب سے ایران کی حمایت
بیلاسس روڈ پر واقع ایمسن گیس ایجنسی کے نمائندے سے بکنگ سے متعلق استفسار کرنے پر اس نے بتایا کہ ’’ہمارے یہاں مطلوبہ تعداد میں سلنڈر دستیاب ہے اس لئے ہم صارفین کو بکنگ کےبعد ۲؍ دن میں سلنڈر ڈیلیور کر رہے ہیں ۔ اس لئے ہمارے صارفین کو زیادہ پریشانی نہیں ہو رہی ہے ۔‘‘ متعدد ایجنسیوں میں بُکنگ کے۵،۷؍دن بعد سلنڈر کی ڈیلیوری ہو رہی ہے ، ایسا کیوں ؟جس کے جواب میں اس نے بتایا کہ اس کاانحصار سلنڈ ر کی دستیابی اور بُکنگ کی تعداد پر ہے۔