Updated: October 06, 2026, 10:05 PM IST
| Gaza
غزہ جنگ کا آغاز ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو ہوا تھا۔ فلسطینی مرکزی ادارہ برائے شماریات (پی سی بی ایس) کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں تقریباً ۲؍ لاکھ ایک ہزار عمارتیں متاثر ہوئی ہیں، جن میں ایک لاکھ ۳۴؍ ہزار سے زائد مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں، جبکہ علاقے کے ۹۰؍ فیصد بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
غزہ میں تباہ حال عمارتیں۔ تصویر: آئی این این
فلسطینی مرکزی ادارہ برائے شماریات (پی سی بی ایس) نے پیر کو کہا کہ ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اسرائیل کی جانب سے جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کی تقریباً ۸۲؍ فیصد عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔ عالمی یومِ رہائش کے موقع پر جاری ایک بیان میں ادارے نے بتایا کہ ۱۶؍ جون ۲۰۲۶ء تک کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں تقریباً ۲؍ لاکھ ایک ہزار ۲۹۰؍ عمارتیں متاثر ہوئی ہیں، جو علاقے کی مجموعی عمارتوں کا تقریباً ۸۲؍ فیصد ہیں۔ پی سی بی ایس کے مطابق ان میں ایک لاکھ ۳۴؍ ہزار ۴۲۲؍ عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں، جبکہ ۱۳؍ ہزار ۸۴۸؍ عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ تقریباً ۳؍ لاکھ ۲۸؍ ہزار ۶۲۷؍ رہائشی یونٹس بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں ۷۴؍ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور ایک لاکھ ۷۵؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ علاقے کا تقریباً ۹۰؍ فیصد بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اگر مصر نے اسرائیل پر حملہ کیا تو سینائی باقی نہیں رہے گا: اسرائیلی وزیر
ادارے نے بتایا کہ پانی اور گندے پانی کی نکاسی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی تک پانی اور سیوریج کے تقریباً ۹۰؍ فیصد بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ چکا تھا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔ پی سی بی ایس کے مطابق غزہ کے ۸۲؍ فیصد گھرانے پانی کے عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ تقریباً ۷۰؍ فیصد افراد کو روزانہ فی شخص صرف ۶؍ لیٹر پانی دستیاب ہوتا ہے۔ ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود اسرائیلی حملوں میں اب تک ایک ہزار ۴۴۵؍ فلسطینی جاں بحق اور ۵؍ ہزار ۷۲؍ زخمی ہوچکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار غزہ کی وزارتِ صحت نے جاری کیے ہیں۔ پی سی بی ایس نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں طے شدہ مقدار کے مطابق خوراک، ادویات، طبی سامان، پناہ گاہوں کیلئے ضروری اشیا اور تیار شدہ گھروں کی رسائی کو بھی محدود کر رہا ہے۔ ادارے کے مطابق غزہ میں تقریباً ۲۴؍ لاکھ فلسطینی آباد ہیں، جن میں تقریباً ۲۱؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار بے گھر افراد شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض دینے کا فیصلہ، رقم منتقلی کیلئے تیار: رپورٹ
پی سی بی ایس کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی رواں سال کے آغاز سے اسرائیلی حملے اور گھروں کی مسماری کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ قابض فورسز کے حملوں، زمینوں پر قبضے اور فلسطینیوں کی بے دخلی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ادارے نے نوآبادیات اور دیوار کے خلاف مزاحمت کمیشن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی کے دوران اسرائیلی حکام نے تقریباً ۳۴۱؍ مسماری کی کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ۷۴۰؍ فلسطینی ڈھانچے مسمار کیے گئے، جبکہ اسرائیلی حکام نے تعمیراتی اجازت نامے نہ ہونے کی بنیاد پر ۲۵۴؍ مسماری کے نوٹس بھی جاری کیے۔ واضح ہو کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی فوج اور قابض آبادکاروں نے مغربی کنارے میں بھی حملوں میں شدت پیدا کردی ہے۔ ان کارروائیوں میں ہلاکتوں، گرفتاریوں، بے دخلی، گھروں کی مسماری، زمین ہموار کرنے اور غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع کے واقعات شامل ہیں۔