Updated: October 22, 2026, 11:09 AM IST
| Gaza
۱۲؍ برس کی عمر میں سرکس سیکھنے والے محمد سالم اب شمالی غزہ کے بے گھر بچوں کے لیے مسخرے کا روپ دھارتے ہیں؛ سائیکل کے کرتب، شعبدے، کھیل اور چھوٹے تحائف کے ذریعے بچوں کے چہروں پر خوشی لانے کی کوشش، جب کہ ان کا اپنا گھر بھی تباہ ہوچکا ہے اور خاندان کو خوراک و پانی کی قلت کا سامنا ہے۔
محمد سالم انکل ٹیٹو کے روپ میں۔ تصویر: سوشل میڈیا
فلسطینی نوجوان محمد سالم سرخ ناک، رنگ برنگے لباس اور مسخرے کے روپ میں شمالی غزہ کے بے گھر خاندانوں کے خیموں اور پناہ گاہوں میں پہنچتے ہیں تو جنگ، تباہی اور محرومیوں سے گھری زندگی میں بچوں کو کچھ دیر کے لیے ہنسنے کا موقع ملتا ہے۔ بچوں میں ’’انکل ٹیٹو‘‘ کے نام سے مشہور سالم سرکس کے کھیلوں، سائیکل کے کرتب، شعبدہ بازی، دلچسپ سرگرمیوں اور چھوٹے تحائف کے ذریعے ان بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرتے ہیں جن کا بچپن بمباری، نقل مکانی، گھروں کی تباہی اور اپنے پیاروں سے محرومی کے سائے میں گزر رہا ہے۔ ان کا یہ کام محض تفریح فراہم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ ان بچوں کو جذباتی اور نفسیاتی سہارا دینے کی کوشش بھی ہے جن کی تعلیم، کھیل اور معمول کی زندگی جنگ نے چھین لی ہے۔
القدس اخبار کی رپورٹ کے مطابق، محمد سالم نے ۱۲؍ برس کی عمر میں غزہ سرکس اسکول سے سرکس کے فن کی تربیت حاصل کرنا شروع کی تھی۔ چھ برس تک اس فن کو سیکھنے کے بعد، جب وہ ۱۸؍ برس کے ہوئے تو انہوں نے اپنی صلاحیت کو ایک انسانی مشن میں تبدیل کردیا۔ اب وہ شمالی غزہ میں بے گھر فلسطینی خاندانوں کے درمیان جاکر بچوں کے لیے پرفارمنس کرتے ہیں۔ ان کے پروگرام میں ایک پہیے والی سائیکل چلانا، مختلف اشیا کو اچھال کر سنبھالنے کے کرتب، کھیل اور بچوں میں تحائف تقسیم کرنا شامل ہیں۔ وہ ان سرگرمیوں کے دوران بنیادی تعلیمی پیغامات بھی شامل کرتے ہیں، تاکہ اسکولوں کی تباہی اور تعلیمی سلسلے میں رکاوٹوں کے باعث محروم رہ جانے والے بچوں کو سیکھنے کے مواقع بھی مل سکیں۔ سالم کے لیے یہ کام اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ خود ان حالات سے گزر چکے ہیں جن کا سامنا ان بچوں کو ہے۔ جنگ کے دوران ان کا خاندانی گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا، جب کہ ان کے خاندان کے کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ گھر کھونے کے بعد ان کے اہلِ خانہ کو پناہ گاہ میں رہنا پڑا۔ خوراک اور صاف پانی کی فراہمی بھی ان کے لیے ایک روزمرہ چیلنج ہے۔ ایسے حالات میں اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کی فکر کے ساتھ دوسرے بچوں کے لیے پرفارمنس کرنا ان کے لیے آسان نہیں، لیکن وہ اپنے کام کو جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔
محمد سالم نے اس سے پہلے برطانوی اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی زندگی کی مشکلات بیان کی تھیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ کبھی تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ سرکس کے فن کی تربیت ایک دن جنگ کے دوران سیکڑوں بچوں کے لیے اتنی اہم بن جائے گی۔ ان کے مطابق، شمالی غزہ میں زندگی انتہائی مشکل ہے اور انہیں اکثر خوراک اور پانی کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ اس کے باوجود وہ مختلف مراکز اور ان اسکولوں تک جاتے ہیں جہاں بے گھر خاندانوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ سالم نے اپنے اس کام کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بچوں کو خوشی کے ایسے لمحات فراہم کرنا چاہتے ہیں جو ان کے لیے روزمرہ کی تلخیوں سے کچھ دیر کی مہلت بن سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی یہ بچوں کے دن کا واحد خوش گوار لمحہ بھی ہوسکتا ہے۔ وہ سائیکل چلاتے، چیزیں غائب کرنے کے شعبدے دکھاتے، بچوں کے ساتھ کھیلتے اور مقابلے کرواتے ہیں۔ چونکہ علاقے کے اسکول بند ہوچکے ہیں، اس لیے وہ بعض سرگرمیوں میں گنتی اور بنیادی تعلیم بھی شامل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: شاہ چارلس سوم نے سلطانِ عمان کے اعزاز میں حدیثِ نبویؐ کا حوالہ دیا
انکل ٹیٹو کی پرفارمنس کی اہمیت سمجھنے کے لیے غزہ کے بچوں کی نفسیاتی صورتِ حال کو دیکھنا ضروری ہے۔ طویل عرصے تک بمباری کی آوازیں سننا، بار بار گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا، رشتہ داروں کو کھونا، زخمی ہونا اور بنیادی ضروریات سے محروم رہنا بچوں کے احساسِ تحفظ کو شدید متاثر کرسکتا ہے۔ ایسے حالات میں کھیل، تخلیقی سرگرمیاں اور کسی قابلِ اعتماد بالغ شخص کے ساتھ مثبت وقت گزارنا بچوں کو اپنے جذبات کا اظہار کرنے اور کچھ دیر کے لیے خوف سے توجہ ہٹانے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم سرکس کی پرفارمنس باقاعدہ طبی یا نفسیاتی علاج کا متبادل نہیں، بلکہ ان حالات میں دستیاب محدود انسانی مدد کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ غزہ میں تعلیمی اداروں کی تباہی نے بھی بچوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ بہت سے بچے اپنے اسکولوں سے محروم ہوگئے ہیں اور بعض تعلیمی عمارتیں بے گھر خاندانوں کی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہورہی ہیں۔ انکل ٹیٹو اپنی پرفارمنس میں بنیادی تعلیمی سرگرمیاں شامل کرکے بچوں کو سیکھنے کے عمل سے کسی حد تک وابستہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح ان کا کام تفریح، غیر رسمی تعلیم اور نفسیاتی مدد کے درمیان ایک رابطہ بن جاتا ہے۔
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کے بچوں کو پہنچنے والے نقصان کے اعداد و شمار صورتِ حال کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔ رویا نیوز کی ۲۱؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کی رپورٹ میں یونیسیف کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ ۳۰؍ جون ۲۰۲۶ء تک اکتوبر ۲۰۲۳ء میں جنگ کے شدت اختیار کرنے کے بعد غزہ میں کم از کم ۲۱۷۰۰۰؍ فلسطینی بچے شہید اور ۴۵؍ ہزار زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔ زخمی بچوں میں ۱۱؍ ہزار سے زیادہ ایسے تھے جنہیں زندگی بھر اثرات مرتب کرنے والی چوٹیں پہنچی تھیں۔ یونیسیف کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۵ء میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے، جب کہ تقریباً ۸؍ لاکھ بچے بے گھر تھے۔
ان حالات میں انکل ٹیٹو کی سرگرمی کسی بڑے بحران کا مکمل حل نہیں، لیکن انفرادی سطح پر بچوں کو انسانی توجہ اور خوشی فراہم کرنے کی ایک مثال ہے۔ وہ ان خیموں اور پناہ گاہوں میں پہنچتے ہیں جہاں خاندانوں کو خوراک، پانی، علاج اور محفوظ رہائش جیسی بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ ان کے اپنے حالات بھی انہی مشکلات سے جڑے ہیں، اس لیے ان کا کام کسی بیرونی تماشائی کی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک ایسے نوجوان کی کوشش ہے جو اسی تباہی کے درمیان رہتے ہوئے دوسرے بچوں کے لیے کچھ بہتر کرنے کا راستہ تلاش کررہا ہے۔ سالم نے اپنے سابقہ انٹرویو میں بتایا تھا کہ ان کے گھر کی تباہی اور خاندان کے افراد کے زخمی ہونے کے بعد ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔ انہوں نے اپنے خاندان کے لیے خوراک تلاش کرنے کی دشواری اور اپنی بڑی بہن کے شوہر کی ہلاکت کے صدمے کا بھی ذکر کیا تھا۔ ان ذاتی نقصانات کے باوجود وہ بچوں کو ہنسانے کے اپنے کام کو زندگی کا مقصد سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول، اس مشکل ماحول میں بھی بچوں کو خوشی کے لمحات فراہم کرنا انہیں اپنے کام کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کانگریس وومن الہان عمر امیگریشن تحقیقات پر جیل جا سکتی ہیں: ٹرمپ
غزہ سرکس اسکول، جہاں سالم نے تربیت حاصل کی، نوجوانوں کو سرکس اور پرفارمنگ آرٹس کی مہارتیں سکھانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ جنگ اور تباہی کے ماحول میں اس نوعیت کے فنون کی اہمیت ایک نئے رخ سے سامنے آئی ہے۔ وہ فن جو عام حالات میں تفریح اور ثقافتی سرگرمی سمجھا جاتا ہے، یہاں بچوں کے لیے رابطے، کھیل اور جذباتی آسودگی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ انکل ٹیٹو کی کہانی اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ جنگ سے متاثر ہونے والے لوگ صرف امداد کے منتظر نہیں رہتے، بلکہ اپنی محدود صلاحیتوں کے ذریعے دوسروں کی مدد کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ محمد سالم کو اپنے خاندان کے لیے خوراک اور پانی کا انتظام کرنا ہے، تباہ شدہ گھر کی یاد اور نقصان کے ساتھ جینا ہے اور غیر یقینی حالات میں اپنے کام کو جاری رکھنا ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنے سرکس کے سامان کے ساتھ بچوں کے پاس جاتے ہیں اور انہیں چند لمحوں کے لیے ہی سہی، ایک ایسا ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں خوف کے بجائے کھیل اور اداسی کے بجائے ہنسی جگہ لے سکے۔ انکل ٹیٹو کی پرفارمنس غزہ میں جاری انسانی بحران کو ختم نہیں کرسکتی، نہ ہی تباہ شدہ گھروں، اسکولوں اور طبی مراکز کی جگہ لے سکتی ہے۔ لیکن بچوں کے لیے ان کی یہ کوشش اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جنگ کے دوران بھی بچپن، کھیل اور خوشی کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔ سالم کے لیے ہر مسکراہٹ اس امید کا اظہار ہے کہ تباہی کے درمیان بھی بچوں کو انسانوں کی طرح جینے، سیکھنے اور خوش ہونے کا حق حاصل ہے۔