لبنانی فوج نے پناہ گزیں کیمپوں اور کھلے مقامات پر عارضی خیموں میں رہ رہے ہزاروں افراد سے کہا کہ وہ ’’اسرائیلی حملوں کے خطرے‘‘کے پیش نظر اپنی واپسی میں تاخیر کریں۔
EPAPER
Updated: June 18, 2026, 10:55 AM IST | Beirut / Tehran
لبنانی فوج نے پناہ گزیں کیمپوں اور کھلے مقامات پر عارضی خیموں میں رہ رہے ہزاروں افراد سے کہا کہ وہ ’’اسرائیلی حملوں کے خطرے‘‘کے پیش نظر اپنی واپسی میں تاخیر کریں۔
مشرق وسطی میں امن معاہدہ ہونے کے باوجود اسرائیل کے بہیمانہ حملے جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ان حملوں پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور انتباہ دیا کہ اگر اسرائیل ظالمانہ حرکتوں سے بازنہ آیا تو اسے سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) نے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے نبطیہ الفوقا کے علاقے اور قریبی قصبے کفر تبنیت کے مشرقی مضافات کو نشانہ بناتے ہوئے چھاپے مارے۔ این این اے نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلیوں نے زہرانی علاقے کے قصبے انصاریہ پر ڈرون حملہ بھی کیا۔
حملوں کا خطرہ،لوگوں کی واپسی کا عمل متاثر
اگرچہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کو ختم کرنے کیلئے پیر کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد سے لبنان میں تشدد میں کمی آئی ہے لیکن این این اے کے مطابق، معاہدے کے بعد سے اب تک جنوب پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تشدد میں کمی نے جنوبی لبنان کے کچھ رہائشیوں کو اپنے قصبوں اور دیہاتوں کا معائنہ کرنے اور واپس آنے کی اجازت دی ہے، لیکن لبنانی فوج نے پناہ گزیں کیمپوں اور کھلے مقامات پر عارضی خیموں میں رہ رہے ہزاروں مقامی افراد پر زور دیا ہے کہ وہ ’’اسرائیلی خلاف ورزیوں اور حملوں کے خطرے‘‘کے پیش نظر اپنی واپسی میں تاخیر کریں۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے رہبر اعلیٰ کے جاں بحق ہونے کے ردعمل میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ فائر کیے جانے کے بعد، مارچ کے اوائل میں لبنان مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل ہو گیا تھا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ روز کہا کہ اس جنگ میں قابض کیے گئے علاقوں سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کے بغیر تنازع کا خاتمہ نامکمل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ’’صہیونی حکومت کی جانب سے اب سے لبنان پر کوئی بھی فوجی حملہ اور لبنانی علاقوں پر مسلسل قبضہ، ہمارے نزدیک مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہرمز میں ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد ایرانی تیل کے جہاز اطمینان سے گزر رہے ہیں
یاہو کی ہٹ دھرمی
لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے پیر کے روز کہا کہ ان کے ملک کی افواج جب تک ضرورت ہوگی لبنان میں رہیں گی۔ حزب اللہ نے منگل کے روز سے اب تک جنوبی لبنان میں اسرائیلی اہداف پر حملوں کا دعویٰ کرنے والا کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ انہوں نے منگل کے روز لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر بند کرنے کے لیے اسرائیل کو مجبور کرنے کی ایرانی کوششوں پر تشکر کا اظہار کیا تھا۔لبنان کی وزارت صحت نے منگل کے روز جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد بڑھا کر۳؍ہزار۸۲۶؍ کر دی ہے، کیونکہ امدادی کارکن ملبے سے مزید لاشیں نکال رہے ہیں۔
ایران نے کیا کہا؟
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی عسکری کارروائیوں سے باز نہ آیا تو اُسے فیصلہ کن جواب دیں گے۔ گزشتہ ۲؍ روز کے دوران اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی۸۴؍ ویں بار خلاف ورزی کی ہے اور عام شہریوں کو شہید کیا گیا، ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز نے واضح کیا کہ اگر صورت حال یہی رہی اور اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں نہ روکیں تو ایران کی مسلح افواج مناسب اور سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ایرانی فوج نے کہا کہ خطے میں کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کیا جائے گا اور یک طرفہ کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: مرحوم آیت اللہ خامنہ ای کا جنازہ دفنانے سے قبل عراق سے گزرے گا: ایران
۲؍مارچ سے اب تک لبنان میں کیا کچھ ہوا؟
واضح رہے کہ اسرائیل نے امریکی دباؤ نظر انداز کرتے ہوئے جنوبی لبنان پر ایک بار پھر بم برسا دیے ہیں، اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے ضلع نبطیہ میں بمباری کی، اور متعدد مقامات کو نشانہ بنایا، ان حملوں میں۴؍ افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ صہیونی فوج نے میفدون میں۳؍ ڈرون داغے، توپ خانے سے بھی کارروائی کی،۲؍ مارچ سے حملوں میں شہدا کی تعداد ۲؍ ہزار۸۲۶؍ ہو چکی، جن میں سینکڑوں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ۱۰؍لاکھ سے زائد افراد گھر بار چھوڑے پر مجبور ہوئے۔