رپورٹس کے مطابق، امریکہ جنوبی غزہ میں فوجی اڈہ قائم کرنے کے منصوبے پر غور کررہا ہے جو ۳۵۰ ایکڑ سے زائد رقبہ پر محیط ہوگا اور وہاں ۵ ہزار سے زائد فوجیوں کو تعینات کرنے کی گنجائش ہوگی۔
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 7:09 PM IST | Washington
رپورٹس کے مطابق، امریکہ جنوبی غزہ میں فوجی اڈہ قائم کرنے کے منصوبے پر غور کررہا ہے جو ۳۵۰ ایکڑ سے زائد رقبہ پر محیط ہوگا اور وہاں ۵ ہزار سے زائد فوجیوں کو تعینات کرنے کی گنجائش ہوگی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں نو تشکیل شدہ ’بورڈ آف پیس‘ کا افتتاحی اجلاس واشنگٹن میں منعقد ہوا۔ امریکہ کی میزبانی میں ہوئے اس اجلاس میں ۴۵ سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی جہاں غزہ پٹی کیلئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد، اس کی تعمیرِ نو کی مالی معاونت اور اس کے لئے طویل مدتی سلامتی انتظامات پر توجہ مرکوز کی گئی۔
اس اجلاس کے دوران غزہ کیلئے ۱۷ ارب ڈالر سے زائد کی مالی امداد کے وعدے کئے گئے اور علاقے کیلئے کثیر القومی استحکام فورس کے منصوبے، تعمیرِ نو اور انتظامیہ کے فریم ورک اور وسیع تر سفارتی ہم آہنگی کا خاکہ پیش کیا گیا۔ ٹرمپ نے اس بورڈ کو تنازعات کے حل کے ایک نئے ماڈل کے طور پر پیش کیا جو موجودہ عالمی اداروں کے ساتھ مل کر اور بعض اوقات ان کی نگرانی میں کام کر سکتا ہے۔
ہندوستان نے بطور مبصر شرکت کی
ہندوستان نے اس اجلاس میں باضابطہ رکن کے بجائے مبصر کے طور پر شرکت کی۔ واشنگٹن میں ہندوستانی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مشن نمگیہ سی کھمپا نے اجلاس میں ملک کی نمائندگی کی۔ دیگر مبصر ریاستوں میں جرمنی، اٹلی، ناروے، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ شامل تھے۔ اس اجلاس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں ٹرمپ نے اس متنازع دعوے کو دہرایا کہ امریکی دباؤ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تناؤ کو روکنے میں مدد کی۔ نئی دہلی اس دعوے کو مسترد کر چکا ہے۔ اس کا موقف ہے کہ جنگ بندی امریکی ثالثی کے بغیر براہِ راست دو طرفہ بات چیت کا نتیجہ تھی۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارہ:اسرائیلی توسیع کے اقوام متحدہ کے مذمتی ارکان میں ہندوستان شامل نہیں
ورلڈ بینک کے سربراہ کا اعلان: غزہ کی تعمیرِ نو کا فنڈ عطیات کے لئے تیار ہے
ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے اعلان کیا کہ غزہ ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ فنڈ اب فعال ہے اور عطیات وصول کرنے کے لئے تیار ہے۔ یہ فنڈ عطیہ دہندگان کی رقم جمع کرنے کے لئے بنایا گیا ہے جبکہ بورڈ آف پیس بنیادی ڈھانچے، ہاؤسنگ، یوٹیلیٹیز اور معاشی بحالی پر اخراجات کی ہدایت دے گا۔
بنگا نے مزید بتایا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے مضبوط مالی نگرانی کے میکانزم وضع کئے جا رہے ہیں۔ عالمی معیارات کو شامل کرنے کے لئے ورلڈ بینک کے ایک فنانشل کنٹرولر کو بورڈ میں تعینات کیا گیا ہے، جبکہ یہ ادارہ بانڈ فنانسنگ کے ذریعے نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے اپنی ٹاپ کریڈٹ ریٹنگ کا استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسوو اور البانیہ اپنے فوجی غزہ بھیجیں گے
غزہ کے سلامتی انتظامات بھی اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ تھے۔ پانچ ممالک انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسوو اور البانیہ نے غزہ کیلئے مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے لئے اپنے فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ انڈونیشیا نے ۸ ہزار فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے اور وہ اس مشن کے ڈپٹی کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے گا۔ مصر اور اردن لڑاکا یونٹ تعینات کرنے کے بجائے فلسطینی پولیس کی تربیت پر توجہ دیں گے۔ فوجی حکام نے بتایا کہ اس فورس کا مقصد سرحدوں کو محفوظ بنانا، شہریوں کی حفاظت کرنا اور حکومتی اداروں کی تعمیرِ نو میں مدد فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: پناہ گزیں کیمپ، ٹوٹے مکان، بکھرے خاندان مگر عزم بلند، ملبہ پر افطاری
امریکہ کا غزہ میں ۳۵۰ ایکڑ کا فوجی اڈہ قائم کا منصوبہ: رپورٹ
رپورٹس کے مطابق، امریکی انتظامیہ جنوبی غزہ میں فوجی اڈہ قائم کرنے کے منصوبے پر غور کررہی ہے جو ۳۵۰ ایکڑ سے زائد رقبہ پر محیط ہوگا اور وہاں ۵ ہزار سے زائد فوجیوں کو تعینات کرنے کی گنجائش ہوگی۔ یہ اڈہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے آپریشنل مرکز کے طور پر کام کرے گا۔ رپورٹس کے مطابق اگر مجوزہ جگہ پر انسانی باقیات ملتے ہیں تو تعمیر روک دی جائے گی۔ واضح رہے کہ جنگ کے بعد ملبے تلے اب بھی ہزاروں لاشیں دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹرمپ کا ۱۰ ارب ڈالر کا وعدہ، خلیجی ممالک کی جانب سے ۴ ارب ڈالر سے زائد کا تعاون
ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ بورڈ آف پیس میں ۱۰ ارب ڈالر کا تعاون کرے گا۔ انہوں نے اس خرچ کو علاقائی استحکام میں سرمایہ کاری قرار دیا۔ اقوامِ متحدہ کی تنظیم برائے انسانی حقوق، اضافی ۲ ارب ڈالر کا تعاون کرے گا جبکہ جاپان بورڈ کیلئے فنڈ ریزنگ تقریب کی میزبانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
خلیجی ممالک نے اجتماعی طور پر ۴ ارب ڈالر سے زائد مالی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ قطر اور سعودی عرب نے ایک۔ایک ارب ڈالر، کویت نے کئی برسوں میں ایک ارب ڈالر اور متحدہ عرب امارات نے غزہ کی مدد کے لئے اضافی ۲ء۱ ارب ڈالر کا اعلان کیا ہے۔ مراکش نے مالی امداد کے ساتھ پولیس کی تربیت اور فیلڈ اسپتال قائم کرنے کی پیشکش کی۔ حکام کے مطابق قازقستان، آذربائیجان اور دیگر ممالک کے تعاون سے کل مالی امداد ۱۷ ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: یورو فلسطین کی اسرائیلی کھجوروں کے بائیکاٹ کی درخواست
ٹرمپ اور روبیو کی بورڈ کو بین الاقوامی تنازعات کی ثالثی کے لئے استعمال کرنے کی تجویز
اجلاس کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ بورڈ آف پیس کو غزہ کے علاوہ دیگر پیچیدہ بین الاقوامی تنازعات کی ثالثی کے لئے بھی ایک وسیع پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روایتی سفارتی فریم ورک حل فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ لچکدار ڈھانچہ کا حامل یہ ادارہ مخصوص تنازعات کے گرد متعدد ممالک کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے اس وژن کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس ماڈل کو طویل مدت سے عدم استحکام کا شکار دیگر خطوں پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ نے اپنے دوسرے دورِ اقتدار میں کئی تنازعات کو ختم کرنے یا ان کی شدت کم کرنے میں مدد کی ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ یہ بورڈ ایسی مداخلتوں کو ادارہ جاتی شکل دے سکتا ہے۔