Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل غزہ کے بچوں کو روز مرہ کے معمول کے طور پر قتل کر رہا ہے: رپورٹ

Updated: July 18, 2026, 7:03 PM IST | Tel Aviv

ایک اسرائیلی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل غزہ کے بچوں کو روز مرہ کے معمول کے طور پر قتل کر رہا ہے، جبکہ ۱۰؍ اکتوبر کی جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اسرائیل کے ذریعے اوسطاً ایک بچہ ہر دن قتل کیا جارہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسرائیلی روزنامہ ہارٹز کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل غزہ میں بچوں کو روز مرہ کے معمول کے طور پر قتل کرنا جاری رکھے ہوئے ہے، اور ۱۰؍ اکتوبر کی جنگ بندی معاہدے کے بعد سےاسرائیل کے ہاتھوں ۲۷۴؍ بچے شہید ہو چکے ہیں۔اخبار نے جمعہ کو کہا کہ اس تعداد کا مطلب ہے کہ جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے روزانہ اوسطاً ایک بچہ مارا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ۷ ؍اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اسرائیلی حملوں میں ۲۱؍ ہزار سے زائد بچے شہید ہو چکے ہیں۔ہارٹز کے مطابق، بچوں کی اکثریت فضائی حملوں میں شہید ہوئی، جبکہ دیگر اسنائپر فائرنگ، عمارتوں کے گرنے یا دھماکے کے ٹکڑوں سے ہلاک ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل:فلسطینی قیدیوں کیلئے ’مگرمچھوں والی جیل‘ کی تجویز پر قانونی پیش رفت

مزید برآں اخبار نے کہا کہ کچھ بچے ایسے زخموں سے بھی شہید ہوئے جن کا علاج غزہ کا تباہ شدہ صحت کا نظام اب مزید نہیں کر سکتا تھا، جبکہ دیگر بھوک اور بیماری سے مر گئے، حالانکہ انہیں ہلاکتوں کی  سرکاری تعداد میں شامل نہیں کیا گیا۔ بع ازاں ہارٹز نے غزہ کے بگڑتے ہوئے انسانی بحران کو بھی اجاگر کیا، جس میں کہا گیا کہ مکانات تباہ ہیں اور تقریباً ۱۷ لاکھ افراد اب بھی خیموں میں بغیر بجلی، پانی یا صاف صفائی کے رہ رہے ہیں۔اخبار نے مزید کہا کہ چوہے اور مچھر پھیلے ہوئے ہیں، متعدی بیماریاں پھیل رہی ہیں، اور شدید گرمی اور خیموں کے اندر سخت حالات کے درمیان دسیوں ہزار افراد جلد کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران پر حملے، کینسر اسپتال بال بال بچا، ۵؍دن میں ۳۵؍ افراد جاں بحق

جبکہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل نے ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو نافذ ہونے والی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھتے ہوئے ۱۱۲۷؍ فلسطینیوں کو شہید اور ۳۶۴۳؍ کو زخمی کیا ہے۔ مزید برآں وزارت کے مطابق ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو اسرائیل کے ذریعے شروع کی گئی نسل کشیکے بعد سے کم از کم ۷۳۲۵۰؍ فلسطینی شہید اور ۱۷۳۷۵۱؍ زخمی ہو چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کا تقریباً ۹۰ فیصد شہری نظام مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوچکا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK