Updated: June 10, 2026, 10:10 PM IST
| Brussels
یورپ کی ۴۶۰ سے زائد سابق سیاسی شخصیات کے مطالبات اگلے ہفتے لکسمبرگ میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس اور برسلز، بیلجیئم میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس سے قبل سامنے آئے ہیں۔ اس اجلاس میں اسرائیل کے ساتھ تجارت کو محدود کرنے اور ’ای یو-اسرائیل ایسوسی ایشن ایگریمنٹ‘ کو جزوی طور پر معطل کرنے کی تجاویز پر بحث ہونا طے ہے۔
اسرائیلی حملوں نے غزہ کو تباہی کی تصویر بنا دیا ہے۔ تصویر: ایکس
فلسطینی علاقوں غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے یورپ کی ۴۶۰ سے زائد سابق سیاسی شخصیات نے ایک مشترکہ اداریہ شائع کیا ہے جس میں انہوں نے یورپی یونین (ای یو) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری فوجی کارروائیوں پر اسرائیل کے خلاف فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’غزہ کی۱۲؍ فیصد آبادی شہید یا لاپتہ ہو چکی ہے ‘‘
دستخط کنندگان میں یورپ بھر سے تعلق رکھنے والے نامور سابق سربراہانِ حکومت اور اعلیٰ حکام شامل ہیں۔ آئرلینڈ کے سابق وزیرِ اعظم لیو وراڈکر، یورپی پارلیمنٹ کے سابق صدر پیٹ کاکس، یورپی یونین کے سابق خصوصی ایلچی ایمن گلمور، اٹلی کے سابق وزرائے اعظم ماسیمو ڈالیما اور رومانوبپروڈی، سلووینیا کے سابق وزیرِ اعظم رابرٹ گولوب اور سویڈن کے سابق وزیرِ اعظم اسٹیفن لوفوین جیسے بڑے لیڈران نے اس اداریے پر دستخط کئے ہیں۔
سابق یورپی لیڈران، یورپی یونین سے ’ای یو-اسرائیل ایسوسی ایشن ایگریمنٹ‘ (EU-Israel Association Agreement) کے تحت اسرائیل کی ترجیحی تجارتی رسائی کو معطل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ اقدام، دنیا کے ساتھ سامان کی تجارت میں اسرائیل کی مجموعی تجارت کے تقریباً ایک تہائی حصے کو متاثر کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ایسی ہے جنگ، نقل مکانی اور ملبہ کے بیچ اہل غزہ کی زندگی!
دستخط کنندگان یورپی کمیشن اور ’یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس‘ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان اکثریتی ووٹنگ کے ذریعے ان اقدامات کی تجویز پیش کریں تاکہ اتفاقِ رائے (تمام ممالک کی متفقہ منظوری) کی شرط سے بچا جا سکے۔ جولائی ۲۰۲۵ء سے جاری کئے جانے والے اپنے عوامی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے لیڈران نے لکھا کہ ”یورپی یونین الگ تھلگ نہیں بیٹھ سکتی۔ اسے اب فوری طور پر کارروائی کرنی چاہئے۔“
یورپ کی ۴۶۰ سے زائد سابق سیاسی شخصیات کے مطالبات اگلے ہفتے لکسمبرگ میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس اور برسلز، بیلجیئم میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس سے قبل سامنے آئے ہیں۔ اس اجلاس میں اسرائیل کے ساتھ تجارت کو محدود کرنے اور ’ای یو-اسرائیل ایسوسی ایشن ایگریمنٹ‘ کو جزوی طور پر معطل کرنے کی تجاویز پر بحث ہونا طے ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں بچے منصوبہ بندی کے تحت بھوکے رکھے جارہے: عالمی انسانی تنظیم کی مذمت
واضح رہے کہ غزہ میں اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اسرائیل کی وحشیانہ فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس نے لبنان، ایران اور شام پر بھی جارحانہ حملے کئے ہیں۔ ۲۷ رکنی یورپی یونین نے اب تک اسرائیل کے خلاف کوئی اقدامات نہیں اٹھائے ہیں۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کلاس نے اس سے قبل بياں دیا تھا کہ رکن ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے اب تک اسرائیل پر پابندیاں نافذ نہیں کی جا سکی ہیں۔