غزہ میں فلسطینیوں کی تکالیف اب صرف بمباری سے بچنے کے لئے کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش تک محدود نہیں رہیں، بلکہ یہ روزمرہ کی زندگی کی انتہائی سادہ تفصیلات تک پھیل چکی ہیں۔
EPAPER
Updated: June 07, 2026, 9:43 AM IST | Gaza
غزہ میں فلسطینیوں کی تکالیف اب صرف بمباری سے بچنے کے لئے کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش تک محدود نہیں رہیں، بلکہ یہ روزمرہ کی زندگی کی انتہائی سادہ تفصیلات تک پھیل چکی ہیں۔
غزہ میں فلسطینیوں کی تکالیف اب صرف بمباری سے بچنے کے لئے کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش تک محدود نہیں رہیں، بلکہ یہ روزمرہ کی زندگی کی انتہائی سادہ تفصیلات تک پھیل چکی ہیں. سونے کے لئے بستر سے لے کر کپڑے رکھنے والی الماری اور خیموں کے اندر انسانی وقار کے کم سے کم تحفظ کو یقینی بنانے والی ابتدائی طبی و صحت کی سہولیات تک، ہر چیز کا بحران ہے۔
جنگ کے تسلسل، تباہی و بربادی اور نقل مکانی کے بڑھتے ہوئے دائرے، بازاری اشیاء میں بنیادی ضرورت کی چیزوں کی شدید قلت کے باعث، ہزاروں بے گھر افراد کے سامنے ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ انہیں تباہ شدہ گھروں کے ملبے یا آس پاس کے ماحول سے دستیاب چیزوں کے ذریعے روزمرہ کی زندگی کے اوزار اور وسائل نئے سرے سے تیار کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جہاں جنگ کی سفاکیت اور بقا و موافقت کی مسلسل کوششیں ایک دوسرے میں گندھی ہوئی نظر آتی ہیں۔
تختیوں سے بنا فرنیچر
خان یونس کے علاقے مواصی میں ایک چھوٹے سے خیمے کی دہلیز پر ۳۲؍ سالہ تامر حمدان کھڑے خوشی سے اس بستر کو نہار رہے ہیں جسے بنانے میں انہیں لگاتار تین دن لگے۔ اس سے پہلے انہوں نے کئی طویل مہینے اپنے خیمے کے اندر نم آلود زمین پر ایک بوسیدہ گدھے پر سو کر گزارے تھے۔حمدان کہتے ہیں: ’’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ نقل مکانی کا یہ سلسلہ اس حد تک طول پکڑ جائے گا۔‘‘
پلاسٹک کی چادروں کے درمیان بڑھئی کی دکان
خان یونس کے مغرب میں کوسٹل ہائی وے الرشید پر ناہض ابو عزب نے پلاسٹک کی چادروں سے ڈھکے ایک چھوٹے سے حصے میں اپنی ترکھان کی دکان دوبارہ کھول لی ہے، جب کہ شہر کے مشرق میں واقع ان کی اصل دکان غاصب دشمن کی جنگی سفاکیت کی وجہ سے تباہ ہو چکی تھی۔ابو عزب کہتے ہیں ’’جنگ سے پہلے میں دروازے، کھڑکیاں اور بیڈ روم سیٹ بناتا تھا لیکن آج سب کچھ بدل گیا ہے۔ اب لوگوں کو کوئی بھی ایسی چیز چاہیے جو انہیں جینے میں مدد دے؛ کرسی، میز، چھوٹی الماری یا زمین سے اونچا کوئی تختہ۔ مواد کی گرانی اور زیادہ تر سامان کی بندش کے باعث، اشیاء کو دوبارہ کارآمد بنانا ہماری روزمرہ کی زندگی اور کام کا حصہ بن چکا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین: غزہ فلوٹیلا کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی، بین گوئیر پر پابندی زیرغور
پرانے کپڑے روزمرہ کے اوزاروں میں تبدیل
موافقت کی یہ کوششیں صرف فرنیچر تک محدود نہیں رہیں، بلکہ پرانے کپڑوں اور کپڑوں کے ٹکڑوں تک پھیل گئیں جو اپنا اصل مقصد کھو چکے تھے اور اب خیموں کے اندر روزمرہ کے استعمال کی اشیاء بن چکے ہیں۔ مواصی خان یونس میں مقیم ایک بے گھر خاتون ام محمد النجار کہتی ہیں کہ ’’کپڑے کے ہر ٹکڑے کی اب ایک قیمت ہے۔ پرانے کمبلوں اور پھٹے پرانے کپڑوں کو ہم نے اندرونی پردوں کے طور پر استعمال کیا ہے، تاکہ بچوں کے سونے کی جگہ اور باقی خیمے کے درمیان جدائی کر کے اپنی پرائیویسی برقرار رکھ سکیں۔‘‘