Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کی غزہ میں جنازے پر بمباری، متعدد سوگوار شہید

Updated: July 18, 2026, 6:03 PM IST | Gaza

اسرائیل نے غزہ میں ایک جنازے پر بمباری کی ، جس کے نتیجے میں متعدد سوگوار شہید ہو گئے، مقامی حکام کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ ۷۲؍ گھنٹوں میں بازار، جنازے، شہری اجتماعات اور رہائشی مکانات پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں۲۵؍ سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مرکزی غزہ کے نسیرات پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی افواج کی جانب سے ایک فلسطینی کے جنازے کے دوران جب سوگواران جمع تھے، تو اسرائیلی ڈرون نے شہری اجتماع کو نشانہ بنایا، جس میں کم از کم آٹھ فلسطینی شہید اور۲۰؍ دیگر زخمی ہو گئے، حالانکہ نام نہاد جنگ بندی نافذ تھی۔نسیرات پناہ گزین کیمپ کے العودہ اسپتال نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ جب اسرائیلی حملے نے البلاطہ مارکیٹ کے علاقے میں شہریوں کے اجتماع کو نشانہ بنایا، اسے آٹھ لاشیں موصول ہوئیں اور۲۰؍ زخمیوں کا علاج کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ کے۱۶؍ ڈاکٹراسرائیلی جیلوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا

عینی شاہدین نے انادولو نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ڈرون نے احمد یاسین مسجد کے باہر جمع فلسطینیوں کو نشانہ بنایا، جب وہ جنازے کے جلوس کے آغاز کا انتظار کر رہے تھے۔شاہدین کے مطابق یہ جنازہ اس فلسطینی کا تھا جو اس سے قبل اسرائیلی فورسیز کے ہاتھوں شہید ہوا  تھا۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں کئی لاشیں اور زخمی افراد زمین پر پڑے نظر آئے، جن کے کپڑے اور جسم خون سے لت پت تھے۔اس حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے غزہ کے میڈیا آفس نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ۷۲؍ گھنٹوں کے دوران مارکیٹوں، جنازوں، شہری اجتماعات اور رہائشی مکانات کو نشانہ بنانے والے حملوں میں۲۵؍ سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل:فلسطینی قیدیوں کیلئے ’مگرمچھوں والی جیل‘ کی تجویز پر قانونی پیش رفت

بعد ازاں اپنے ایک بیان میں دفتر نے کہا کہ’’ اسے اس قسم کی مجرمانہ اسرائیلی کارروائی میں اضافے پر شدید تشویش ہے جو اسرائیلی فوج غزہ میں غیر مسلح شہریوں کے خلاف کر رہی ہے، جو تمام معاہدوں، کنونشن ،روایات اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ "قتل اور نسل کشی کی جنگ تیز رفتاری سے جاری ہے، جو مشہور مارکیٹوں، جنازوں، پرامن شہری اجتماعات اور ان کے مکینوں کے سروں پر محفوظ رہائشی اپارٹمنٹس پر بمباری کی پالیسی کے ذریعے کی جا رہی ہے۔علاوہ ازیں دفتر نے کہا کہ یہ حملے غزہ میں ہر جاندار کے خلاف دہشت گردی کی پالیسی کو واضح طور پر مضبوط کرتے ہیں۔‘‘واضح رہے کہ یہ حملہ اس وقت ہوا جب اسرائیل نے اکتوبر۲۰۲۵ء سے نافذ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK