Updated: January 27, 2026, 3:03 PM IST
| New York
اسرائیلی حکومت نے غزہ میں غیر ملکی صحافیوں کے داخلے پر پابندی برقرار رکھتے ہوئے اسرائیل کے اندر غیر ملکی میڈیا پر مزید سختیاں عائد کر دی ہیں، جس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سی پی جے کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات شفافیت، آزادیٔ اظہار اور عوام کے حقِ معلومات کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔
۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کے بعد سے اب تک ۲۵۰؍سے زائد صحافی اور میڈیا کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔ تصویر: ایکس
ایسے وقت میں جب اسرائیل کی سپریم کورٹ پیرکو غزہ میں غیر ملکی صحافیوں کے داخلے پر پابندی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کر رہی ہے، اسرائیلی حکومت نے بیک وقت اسرائیل کے اندر کام کرنے والے غیر ملکی میڈیا پر پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) اسرائیلی حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ غیر ملکی صحافیوں کو فوری طور پر غزہ میں آزادانہ اور محفوظ طریقے سے داخل ہو کر رپورٹنگ کی اجازت دیں، اور اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والے غیر ملکی میڈیا اداروں پر عائد تمام پابندیاں ختم کریں۔ ۲۶؍ جنوری کو اسرائیلی حکومت نے۹۰؍ دن کیلئے قطر میں قائم الجزیرہ اور بیروت میں قائم المیادین پر پابندی میں توسیع کی منظوری دی، جو۲۰۲۴ء کے ایک قانون کے تحت ہے۔ اس قانون کے تحت وزیرِ مواصلات اور وزیرِ اعظم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی غیر ملکی نشریاتی ادارے کو، جسے’’ سیکوریٹی خطرہ‘‘سمجھا جائے، اس کے دفاتر بند کرنے، ویب سائٹس بلاک کرنے، آلات ضبط کرنے یا نشریات روکنے کا حکم دے سکیں۔ دسمبر۲۰۲۵ء میں کنیسٹ نے اس نام نہاد ’’الجزیرہ قانون‘‘ میں مزید دو سال کی توسیع کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایک اور یوٹرن، ایران سے مذاکرات کے اشارے
یہ حالیہ فیصلہ، جسے اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے آگے بڑھایا، ان اختیارات کو مزید مضبوط کرتا ہے جو آزاد رپورٹنگ کو خاموش کرنے اور غیر ملکی میڈیا کو خوفزدہ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے ذریعے اسرائیلی پولیس کو میڈیا پر پابندیاں لگانے، سنسرشپ اور نگرانی کے اختیارات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ توسیع اسی دن سامنے آئی جب اسرائیلی سپریم کورٹ نے فارن پریس اسوسی ایشن کی جانب سے غزہ میں غیر ملکی صحافیوں پر پابندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران حکومتی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ صحافیوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دینا حتیٰ کہ جنگ بندی کے دوران اور ان علاقوں میں بھی جہاں اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) موجود نہیں اسٹرپ میں کام کرنے والے فوجیوں کیلئے خطرہ ہے۔ حکومت نے ان خطرات کی عوامی سطح پر وضاحت فراہم کرنے سے انکار کیا اور عدالت نے بند کمرے (کلوزڈ سیشن) میں سماعت کی اجازت دے دی۔ سی پی جے اور رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے بطور دوستِ عدالت (amicus curiae) زبانی دلائل پیش کئے جن میں زور دیا گیا کہ مکمل پابندی بین الاقوامی قانون کے تحت ضرورت اور تناسب کے اصولوں پر پوری نہیں اترتی، اور یوکرین میں استعمال ہونے والے خطرے کی بنیاد پر زوننگ سسٹم کو متبادل کے طور پر پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا میں قانون کی حکمرانی کے بجائے جنگل راج عام ہو رہا ہے: انتونیو غطریس
طویل المدتی پابندی کے باعث فلسطینی صحافیوں کو انتہائی خطرناک حالات میں فرنٹ لائن رپورٹنگ کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے، جہاں وہ تشدد، حراست، بھوک اور موت کے خطرات سے دوچار ہیں۔ ۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کے بعد سے اب تک ۲۵۰؍سے زائد صحافی اور میڈیا کارکن ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کے اندر آزاد میڈیا پر قدغن لگا کر اور غزہ میں داخلے پر پابندی عائد کر کے، اسرائیلی حکومت شفافیت کو محدود کر رہی ہے، اپنے اقدامات پر نگرانی اور احتساب کو روک رہی ہے، اور عوام کے حقِ معلومات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اسرائیل کے یہ اقدامات دنیا بھر کے تنازعاتی علاقوں میں صحافتی آزادی کیلئے ایک خطرناک مثال قائم کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں ۲ لاکھ ۳۰ ہزار سے زائد خواتین اور لڑکیاں طبی سہولیات سے محروم: اقوامِ متحدہ کا انتباہ
سی پی جے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والے تمام غیر ملکی نشریاتی اداروں پر عائد پابندیاں ختم کرے، اور اپنی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی امیکس بریف میں پیش کردہ دلائل کی توثیق کرتی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پابندی غیر قانونی اور بین الاقوامی صحافتی آزادی کے معیارات سے متصادم ہے۔ اس بریف میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سیکوریٹی خدشات سے نمٹنے کیلئے اسرائیل کے پاس کم پابندی والے متبادل طریقے موجود ہیں، اور یہ کہ آئی ڈی ایف کے زیرِ نگرانی پریس دورے آزاد اور خودمختار رسائی کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ ہم بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اسرائیل اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے، اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرے، اور اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام صحافی خواہ غیر ملکی ہوں یا مقامی بغیر کسی خوف اور انتقامی کارروائی کے محفوظ اور آزادانہ طور پر رپورٹنگ کر سکیں۔