غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی کے سبب دو دنوں میں دوسرااسپتال بند ہوچکا ہے، ال وفااسپتال نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن اور دیکھ بھال کے بحران کے جاری رہنے پر مزید خدمات معطل ہو سکتی ہیں۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 10:05 PM IST | Gaza
غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی کے سبب دو دنوں میں دوسرااسپتال بند ہوچکا ہے، ال وفااسپتال نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن اور دیکھ بھال کے بحران کے جاری رہنے پر مزید خدمات معطل ہو سکتی ہیں۔
غزہ میں ا ل وفا اسپتال برائے طبی بحالی اور خصوصی جراحی نے پیر کو کہا کہ اس نے اسرائیلیناکہ بندی کے دوران ایندھن اور دیکھ بھال کے سامان کی قلت کے باعث پیدا ہونے والے آپریشنل بحران کی وجہ سے خدمات کم کر دی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ دو دنوں کے اندر غزہ کا دوسرا اسپتال ہے جس نے ایندھن کی قلت کے سبب خدمات میں کمی کا اعلان کیا، اس سے قبل اتوار کو غیر سرکاری کویت اسپیشلائزڈ اسپتال نے بھی اسی طرح کا اعلان کیا تھا۔
دریں اثناء یہ بحران۸؍ اکتوبر۲۰۲۳ء سے اسرائیل کی نسل کشی جنگ کے نتائج کے دوران سامنے آیا ہے، جس کے سبب سخت ناکہ بندی اور غزہ کے بنیادی ڈھانچے اور صحت کے نظام کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ بعد ازاں ال وفا اسپتال، جو ایک غیر سرکاری ادارہ ہے، نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے کئی اہم خدمات عارضی طور پر معطل کر دی ہیں، جن میں بیرونی مریضوں کے کلینک، آپریشن، بیرونی مریضوں کی جسمانی اور پیشہ ورانہ تھراپی، اسپیچ تھراپی، اور نگلنے کے امراض کا علاج شامل ہیں۔اسپتال نے کہا، ’’ان خدمات کی معطلی ایک آپریشنل اور انسانی بحران کے دوران ہوئی ہے جو انتہائی خطرناک مرحلے تک پہنچ چکا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ امن بورڈ کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قبل غزہ کے اہداف کا اعادہ
مزید برآں ادارے نے کہا کہ اسے ڈیزل اور دیگر ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہے جو بجلی کے جنریٹرز اور گاڑیوں کو چلانے کے لیے درکار ہے، اس کے ساتھ تیل، ٹائر، کل پرزے، اور دیکھ بھال کے سامان کے حصول میں بھی دشواری ہے جو گاڑیوں، آلات اور اہم خدمات کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔جبکہ بجلی کے جنریٹرز غزہ کےاسپتالوں کے لیے اہم شعبوں اور طبی آلات کو چلانے کا بنیادی ذریعہ ہیں، کیونکہ پوری بستی میں تیسرے سال بھی بجلی کی مکمل بندش جاری ہے۔اسپتال نے کہا کہ اس کی انتظامیہ مجبور ہوئی کہ دستیاب وسائل کو محفوظ رکھنے اور انہیں داخل مریضوں اور ان اہم طبی خدمات کی طرف مبذول کرنے کے لیے خدمات معطل کرے جنہیں بند نہیں کیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ ال وفا اسپتال ہزاروں فلسطینیوں کو خدمات فراہم کرتا ہے، جن میں زخمی افراد اور معذور افراد شامل ہیں، اور ہر ماہ بڑی تعداد میں ان مریضوں کو داخلکرتا ہے جو مسلسل علاج اور بحالی کی خدمات پر منحصر ہیں۔
تاہم اسپتال نے خبردار کیا کہ اگر ایندھن اور آپریشنل سپلائی کا بحران فوری مداخلت کے بغیر جاری رہا تو مزید خدمات کم کی جا سکتی ہیں، جس سے طبی اور بحالی نگہداشت فراہم کرنے کی اس کی صلاحیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔انتظامیہ نے عالمی ادارہ صحت، اقوام متحدہ، صحت اور انسانی تنظیموں، اور عطیہ دہندگان سے فوری اپیل جاری کی کہ وہ ایندھن، تیل، کل پرزے، اور دیگر فوری آپریشنل ضروریات فراہم کریں۔ علاوہ ازیں پیر کو، غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او نے فنڈنگ کی کمی کے سبب۱۹؍ ستمبر سے۲۰؍ سے زائد اسپتالوں اور صحت مراکز کو ڈیزل کی سپلائی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ڈبلیو ایچ او نے وزارت صحت کی جانب سے بتائے گئے اس فیصلے پر تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس نے حالیہ مہینوں میں اپنی سرگرمیوں اور پروگراموں کے لیے فنڈنگ میں کمی کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ورمونٹ کے ایک شخص کو فلسطینی طلبہ کو گولی مارنے کے جرم میں عمر قید
البرش نے کہا کہ’’ غزہ میں داخل ہونے والی ایندھن کی محدود مقدار بمشکل صحت کی سہولیات کو چلائے رکھتی ہے۔‘‘ان کے اس اعلان کا وقت اسپتالوں کے جنریٹرز کے لیے تیل اور اسپیئر پارٹس کی قلت کے ساتھ ملا، جس کی وجہ سے کئی جنریٹر کام کرنا بند کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر نے بار بار کہا ہے کہ اسرائیل۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء سے نافذ جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہے، جن میں بستی میں امداد اور ایندھن کی طے شدہ مقدار داخل کرنے کی اجازت شامل ہے۔