غزہ کے ایک عہدیدار کے مطابق ۲۲؍ ہزار زخمی فلسطینیوں کو فوری بیرون ملک علاج کی ضرورت ہے، ساتھ ہی انہوں نے روزانہ ایک ہزار مریضوں کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 11, 2026, 10:06 PM IST | Gaza
غزہ کے ایک عہدیدار کے مطابق ۲۲؍ ہزار زخمی فلسطینیوں کو فوری بیرون ملک علاج کی ضرورت ہے، ساتھ ہی انہوں نے روزانہ ایک ہزار مریضوں کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔
غزہ کے حکومتی میڈیا دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے جمعرات کو انادولو کو بتایا کہ غزہ کی پٹی میں ۲۲۰۰۰؍زخمی اور بیمار فلسطینیوں کو علاج کے لیے فوری طور پر بیرون ملک جانے کی ضرورت ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ کراسنگیں مکمل طور پر کھول دی جائیں تاکہ روزانہ۱۰۰۰؍ مریضوں کو جانے کی اجازت ملے۔ان کے یہ تبصرے گزشتہ اکتوبر میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد غزہ کی کراسنگوں سے فلسطینیوں کی آمدورفت کے بارے میں اسرائیلی اعداد و شمار کے جواب میں آئے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی تاریخی زوال کا شکار: سروے
ٹائمز آف اسرائیل نیوز سائٹ نے اس سے قبل اسرائیل کی سرحدی کراسنگ اتھارٹی کے حوالے سے کہا تھا کہ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد تقریباً ۱۰۵۰۰؍ افراد غزہ سے نکل چکے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس عرصے میں۶۰۰۰؍ افراد غزہ واپس آئے۔الثوابتہ نے کہا: ”اسرائیلی قبضے کی جانب سے اکتوبر سے۱۰۵۰۰؍ فلسطینیوں کے جانے اور۶۰۰۰؍ دیگر کی واپسی کے بارے میں شائع کردہ اعداد و شمار انتہائی ناکافی ہیں اور غزہ کی پٹی میں تباہ کن انسانی ضرورت کی کم سے کم سطح کو بھی پورا نہیں کرتے۔“
مزید براں انہوں نے کہا ”یہ اعداد و شمار غزہ کی تلخ حقیقت کو خوبصورت بنانے کی کوشش ہیں، جہاں ۲۲۰۰۰؍زخمی اور بیمار افراد کو بیرون ملک علاج کی ضرورت ہے، جن میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں جن کی صحت کی حالت روز بروز خراب ہو رہی ہے۔“ علاوہ ازیں الثوابتہ نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ طبی انخلا کو محدود کر کے مریضوں کے خلاف ”جان بوجھ کر ٹال مٹول اور آہستہ موت“ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ اور اسرائیل میں ٹھن گئی، یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند
جبکہ وہ چاہتے ہیں کہ کراسنگ مکمل اور فوری طور پر کھول دی جائیں تاکہ روزانہ۱۰۰۰؍ زخمی اور بیمار افراد ضروری طبی دیکھ بھال کے لیے جا سکیں۔انہوں نے غزہ سے باہر تقریباً۹۰۰۰۰؍ فلسطینیوں کے مطالبات اور حقوق کا جواب دینے پر بھی زور دیا جو اس علاقے میں واپس آنے کے منتظر ہیں۔ بعد ازاں الثوابتہ نے عالمی برادری، عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے اداروں پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر سنجیدہ دباؤ ڈالیں تاکہ وہ کراسنگ کو ”اجتماعی سزا کے آلے“ کے طور پر استعمال کرنا بند کرے، اور طریقہ کار کو ”ان حفاظتی پیچیدگیوں سے ہٹ کر“ آسان بنائے جو مریضوں کی جان لے لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ”مسافروں کی تعداد میں جان بوجھ کر قطرہ قطرہ پالیسی تمام بین الاقوامی اور انسانی قوانین کے خلاف ہے، اور اسے کسی بھی طرح پٹی کو درپیش کچل دینے والے صحت اور انسانی بحران کا جواب نہیں سمجھا جا سکتا۔“
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو دوبارہ منتخب ہوئے تو امریکہ اسرائیل پر سخت مؤقف اپنائے: ہلیری کلنٹن
واضح رہے کہ اگست کے آخر میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادانوم گیبریسوس نے کہا تھا کہ غزہ میں ہزاروں مریض اب بھی فوری علاج کے لیے طبی انخلا کے منتظر ہیں۔امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ٹیڈروس نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے اگست کے آخری ہفتے میں رفح اور کرم شالوم کراسنگ کے ذریعے۱۰۶؍ مریضوں کے انخلا کی حمایت کی، جن میں ۱۹؍ بچے شامل تھے، اور ان کے ساتھ۱۳۲؍ افراد تھے۔
ذہن نشین رہے کہ غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی نے لاکھوں فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا ہے، جن میں سے کئینے پوری پٹی میں عارضی مراکز اور خیموں میں پناہ لی ہے۔۸؍ اکتوبر۲۰۲۳ء سے اسرائیل، امریکی حمایت کے ساتھ، غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، جس میں۷۳۰۰۰؍ سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے اور۱۷۴۰۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہوئے، جبکہ غزہ کے تقریباً۹۰؍ فیصد بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا۔