روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں مجوزہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت سے متعلق امریکی دعوے کی تردید کی ہے۔ پوتن کا کہنا ہے کہ روس نے دعوت قبول نہیں کی بلکہ اس پر ابھی غور کیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: January 22, 2026, 9:06 PM IST | Mascow
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں مجوزہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت سے متعلق امریکی دعوے کی تردید کی ہے۔ پوتن کا کہنا ہے کہ روس نے دعوت قبول نہیں کی بلکہ اس پر ابھی غور کیا جا رہا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی دعوت پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے، جس میں انہیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں قائم کئے جانے والے غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کی پیشکش کی گئی تھی۔ پوتن کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بدھ (۲۱؍ جنوری) کو امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ پوتن نے اس امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت قبول کر لی ہے۔ اپنے بیان میں پوتن نے ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی اور کہا کہ یہ دعوت فی الحال زیرِ غور ہے۔ انہوں نے عالمی امن کیلئے روس کی کوششوں اور حمایت کو بھی اجاگر کیا۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب: العلاء میں اونٹ کے قافلوں کے قدیم تجارتی راستے منظر عام پر
بدھ کی رات گئے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اپنے ابتدائی خطاب میں پوتن نے کہا:’’سب سے پہلے، میں امریکی صدر کا اس پیشکش پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ روس نے ہمیشہ بین الاقوامی استحکام کو مضبوط بنانے کی ہر کوشش کی حمایت کی ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ ہم یہ بھی نوٹ کرتے ہیں کہ موجودہ امریکی انتظامیہ یوکرینی بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں جو کردار ادا کر رہی ہے، وہ قابلِ توجہ ہے۔ ‘‘اس سے قبل، ٹرمپ نے سوئزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر نیٹو کے سربراہ مارک روٹے سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا تھا کہ پوتن نے دعوت قبول کر لی ہے۔ انہوں نے کہا:’’انہیں مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے قبول کر لیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کو سخت انتباہ، جوہری پروگرام کی بحالی پر فوجی کارروائی کی دھمکی
بعد ازاں پیوٹن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا:’’جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آیا روس اس امن کونسل میں حصہ لے گا یا نہیں، وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ موصول ہونے والی دستاویزات کا بغور جائزہ لے اور ہمارے اسٹریٹجک شراکت داروں سے مشاورت کرے۔ اس کے بعد ہی ہم کسی باضابطہ جواب کی پوزیشن میں ہوں گے۔ ‘‘