Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ انتظامیہ: پناہ کے متلاشیوں کو براہ راست ڈیپورٹیشن کورٹ میں بھیجا جا سکتا ہے

Updated: July 29, 2026, 10:11 PM IST | Washington

ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی کے تحت، پناہ کے متلاشیوں کو براہ راست دیپورٹیشن کورٹ میں بھیجا جا سکتا ہے، اس پالیسی کا مقصد یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز میں زیر التواء۱۴؍ لاکھ پناہ کے مقدمات کو کم کرنا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے منگل کو ایک نیا اصول متعارف کرایا جو لاکھوں پناہ کے متلاشیوں کو براہ راست امیگریشن کورٹ میں ڈیپورٹیشن کی کارروائیوں کے لیے بھیج سکتا ہے۔یہ نیا اصول، جس کا عنوان،’’ انٹرویو کے بغیر مثبت پناہ کی حوالگی‘‘ ہے، یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز کی جانب سے نوٹس اور تبصرے کی مدت سے گزرے بغیر نافذ العمل ہو گیا۔ بعد ازاں پالیسی کا مقصد یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز میں زیر التواء۱۴؍ لاکھ پناہ کے مقدمات کو تقریباً ایک تہائی تک کم کرنا ہے اور یہ فوری طور پر نافذ ہو گئی۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا کے پہلے سیاہ فام فوجی پائلٹ احمد علی چیلیکتن کو سرکاری شناخت دلانے کی مہم

واضح رہے کہ اس سے قبل، بہت سے پناہ کے متلاشی اپنے دعوے یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسیزکے پناہ افسر کے سامنے پیش کر سکتے تھے۔ اگر مسترد کر دیے جاتے تو پھر انہیں امیگریشن کورٹ میں بھیجا جا سکتا تھا یا قانونی حیثیت حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھ سکتے تھے۔ جبکہ نئے اصول کے تحت،۴۴۴۷۲۴؍ تک مقدمات کو براہ راست امیگریشن ججوں کو منتقل کیا جا سکتا ہے، جنہیں اب بغیر سماعت کے کچھ مقدمات خارج کرنے کا وسیع اختیار حاصل ہوگیا ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی پناہ کے نظام میں ’’غیر معمولی بحران‘‘ کو حل کرتی ہے، اور یہ دلیل دیتی ہے کہ اس نظام کو جائز تحفظ کے دعووں کے بجائے تاخیر اور کام کی اجازت کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: روس نے ٹیلیگرام کے بانی پاویل پر دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام عائد کر دیا

ذہن نشین رہے کہ یہ اقدام ٹرمپ کی امریکی پناہ پالیسی کو نئی شکل دینے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔ دوبارہ دفتر سنبھالنے کے بعد سے، ٹرمپ نے امریکہ-میکسیکو سرحد پر پناہ تک رسائی کو محدود کر دیا ہے اور ملک میں پہلے سے موجود تارکین وطن کے خلاف نفاذ کو بڑھا دیا ہے، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو قانونی طور پر داخل ہوئے اور بعد میں پناہ کے لیے درخواست دی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK