• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: فنڈز کی شدید کمی، ۵؍ لاکھ فلسطینیوں کی ماہانہ غذائی امداد بند کرنے کا فیصلہ

Updated: October 19, 2026, 8:35 PM IST | Gaza

اقوام متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے مالی وسائل کی قلت کے باعث غزہ میں تقریباً ۵؍ لاکھ افراد کی ماہانہ غذائی امداد ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امداد پانے والوں کی تعداد ۱۶؍ لاکھ سے گھٹا کر ۱۱؍ لاکھ کردی گئی ہے، جبکہ راشن میں بھی کمی کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی تقریباً دو تہائی آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کررہی ہے اور موسمِ سرما کی آمد سے انسانی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوام متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام نے مالی وسائل میں شدید کمی کے باعث غزہ میں اپنے امدادی آپریشن محدود کرنے کا اعلان کردیا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً ۵؍ لاکھ فلسطینی ماہانہ غذائی امداد سے محروم ہوجائیں گے۔ پروگرام کے مطابق، اکتوبر سے ماہانہ امداد حاصل کرنے والوں کی تعداد ۱۶؍ لاکھ سے گھٹا کر ۱۱؍ لاکھ کردی گئی ہے۔ اس فیصلے سے ان خاندانوں کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے جو جنگ، بے روزگاری اور گھروں کی تباہی کے باعث اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے انسانی امداد پر انحصار کررہے ہیں۔ ڈبلیو ایف پی کے فلسطین میں کنٹری ڈائریکٹر شان ہیوز نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اس ماہ ہم ان افراد کی تعداد میں ۵؍ لاکھ کی کمی کررہے ہیں جنہیں ہم امداد فراہم کرتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق، یہ فیصلہ ضروریات میں کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ مالی وسائل دستیاب نہ ہونے کے باعث کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غزہ میں انسانی حالات اب بھی انتہائی خراب ہیں، بیشتر افراد مستقل رہائش سے محروم ہیں اور فضائی حملوں کے باعث نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’دوبارہ قسمت آزمانا چاہتے ہیں تو شوق سے آزمائیں ‘، عراقچی کا ٹرمپ کو چیلنج

امداد میں کمی صرف مستفیدین کی تعداد تک محدود نہیں۔ پروگرام نے خوراک کے پیکجوں کا حجم بھی کم کردیا ہے۔ پہلے جن خاندانوں کو ۲؍  غذائی پیکٹ ملتے تھے، اب انہیں صرف ایک پیکٹ دیا جائے گا، جبکہ گندم کے آٹے کی مقدار بھی کم ہوگی۔ نقد امداد حاصل کرنے والے ۷۵؍ ہزار خاندانوں کے لیے ماہانہ رقم ۱۲۵۰؍ اسرائیلی شیکل سے گھٹا کر ۷۵۰؍ شیکل کردی گئی ہے۔ اس طرح امداد میں کمی سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو بازار سے خوراک خریدنے کے لیے بھی پہلے کے مقابلے میں کم رقم میسر ہوگی۔ اجتماعی باورچی خانوں سے فراہم کیے جانے والے گرم کھانوں کی تعداد میں بھی کمی کی گئی ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے مطابق، روزانہ فراہم کیے جانے والے کھانوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے گھٹا کر ڈیڑھ لاکھ کردی گئی ہے۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے بعض خاندانوں کو اب روزانہ کے بجائے ایک دن چھوڑ کر کھانا ملے گا۔ ایسے علاقوں میں جہاں خاندانوں کے پاس کھانا پکانے کے وسائل نہیں، یہ کمی ان کی روزمرہ خوراک پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

پروگرام کے تازہ اندازوں کے مطابق، غزہ میں تقریباً ۱۴؍ لاکھ افراد، یعنی مجموعی آبادی کا لگ بھگ دو تہائی حصہ، شدید غذائی عدم تحفظ یا اس سے بدتر صورت حال کا سامنا کررہا ہے۔ ان میں تقریباً ۲؍ لاکھ افراد ایسے حالات میں ہیں جہاں فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ ڈبلیو ایف پی کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال بڑے پیمانے پر فراہم کی جانے والی امداد سے بھوک کی بدترین صورت حال کو کم کرنے میں مدد ملی تھی، لیکن موجودہ پیش رفت نازک ہے اور امداد میں مزید کمی سے حاصل شدہ بہتری ضائع ہوسکتی ہے۔ شان ہیوز کے مطابق، گزشتہ برس جنگ بندی کے اعلان کے بعد ڈبلیو ایف پی نے اپنی امدادی سرگرمیاں بڑھائی تھیں اور ہر ماہ ۱۵؍ لاکھ سے ۱۸؍ لاکھ افراد تک پہنچ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ادارہ امداد برقرار رکھنے یا بڑھانے کے بجائے اسے کم کرنے پر مجبور ہے۔ ان کے مطابق، ’’یہ اس لیے نہیں ہورہا کہ ہمارے پاس خوراک پہنچانے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رسائی موجود نہیں، بلکہ اس لیے کہ ہمارے پاس فنڈز نہیں ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فرانسیسی اپنے ہی ملک کے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہیں: میکرون کا احتجاج پر اظہارِ شرمندگی

ڈبلیو ایف پی نے غزہ اور مغربی کنارے میں اگلے ۶؍ ماہ کے دوران اہم امدادی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے ۴۵۰؍ ملین ڈالر کی فوری ضرورت ظاہر کی ہے۔ ادارے کے مطابق ۲۰۲۶ء میں فلسطینی علاقوں کے لیے اسے معمول کے مقابلے میں تقریباً نصف مالی وسائل ہی ملے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اداروں کو مختلف عطیہ دہندگان کی جانب سے فراہم کیے جانے والے فنڈز میں کمی نے امدادی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، جبکہ دنیا کے دیگر بحرانوں میں بڑھتی ہوئی ضروریات بھی دستیاب وسائل پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں کمی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب غزہ میں جنگ بندی کو ایک سال گزرنے کے باوجود بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو شروع نہیں ہوسکی۔ جنگ کے باعث رہائشی عمارتوں، اسپتالوں، اسکولوں، زرعی زمینوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بے روزگاری اور آمدنی کے ذرائع کی کمی کے باعث بڑی تعداد میں خاندان اپنی خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق، غزہ کی تقریباً ۸۰؍ فیصد آبادی بے روزگاری کا سامنا کررہی ہے، جس کے باعث انسانی امداد پر انحصار مزید بڑھ گیا ہے۔

غزہ میں امداد کی فراہمی کے مسائل میں سامان کی آمد پر پابندیاں اور نقل و حمل کے اخراجات بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی حکام بعض اشیا کو دوہرے استعمال کی قرار دیتے ہوئے ان کے داخلے پر پابندیاں عائد کرتے ہیں، جبکہ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ایندھن، گاڑیوں کے پرزوں اور دیگر ضروری سامان کی محدود دستیابی سے امداد پہنچانا مہنگا اور مشکل ہوجاتا ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے مطابق، اگرچہ بعض علاقوں میں بازاروں میں خوراک دستیاب ہے، لیکن بے روزگاری اور قوتِ خرید میں کمی کے باعث بہت سے خاندان اسے خریدنے کے قابل نہیں۔ موسمِ سرما کی آمد نے بھی تشویش بڑھا دی ہے۔ غزہ میں ہزاروں خاندان عارضی خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہ رہے ہیں، جہاں سردی، بارش اور مناسب پناہ گاہوں کی کمی ان کی مشکلات میں اضافہ کرسکتی ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل اسکاو نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ امدادی فنڈز میں اضافہ کرے۔ ان کے مطابق، اس وقت امداد میں کمی کرنے کے بجائے پہلے سے حاصل شدہ بہتری کو برقرار رکھنے اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فجرِ یمن کارروائی کا ۱۴؍واں روز، حوثیوں سے شدید جھڑپیں

ڈبلیو ایف پی کے اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ غزہ کا انسانی بحران صرف خوراک کی دستیابی کا مسئلہ نہیں بلکہ امدادی وسائل، قوتِ خرید، روزگار اور تعمیرِ نو سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر فوری طور پر اضافی فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو امداد میں کمی کے اثرات ان خاندانوں پر سب سے زیادہ پڑسکتے ہیں جن کے پاس خوراک خریدنے یا اپنی ضروریات پوری کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK