Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: صمود فلوٹیلا کو لیبیا میں روک دیا گیا، تمام ۵۰؍ جہاز اسرائیل کے قبضے میں

Updated: May 20, 2026, 8:57 PM IST | Ankara

غزہ کی ناکہ بندی توڑنے اور انسانی امداد پہنچانے کی کوشش کرنے والے بین الاقوامی ’’عالمی صمود فلوٹیلا‘‘ زمینی و بحری قافلوں کو لیبیا اور اسرائیل کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا ہے، جبکہ منتظمین نے اسے انسانی ہمدردی کی کوششوں کے خلاف ’’دھمکی اور طاقت کا مظاہرہ‘‘ قرار دیا ہے۔ گلوبل صمود نے لیبیا کی قومی فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے سرت کراسنگ پر شہری شرکاء کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جبکہ دوسری جانب دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں اس کے تمام امدادی جہازوں پر قبضہ کر لیا اور سینکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

گزشتہ دن جاری ایک پریس ریلیز میں گلوبل صمود فلوٹیلا کے زمینی قافلے کے منتظمین نے کہا کہ ۲۵؍ ممالک کے ۲۰۰؍ سے زائد شرکاء سرت کراسنگ سے تقریباً نو کلومیٹر دور پھنسے ہوئے ہیں۔ قافلے میں ایمبولینسز، ادویات، موبائل گھر اور تعمیر نو کا سامان شامل ہے، جبکہ اس میں ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ اور ماحولیاتی کارکن شریک ہیں جو غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ انسانی ہمدردی اور تعمیر نو کے کام میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم شہری شرکاء کو ڈرانے اور انسانیت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش میں سرت کراسنگ پر لیبیا کی قومی فوج کی جانب سے طاقت کے مظاہرے کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘ منتظمین کے مطابق انہوں نے کئی ماہ تک لیبیا کے حکام سے رابطے کیے تھے اور محفوظ راستے کی یقین دہانی بھی حاصل کی تھی، لیکن اب مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے : وزیراعظم مودی اٹلی پہنچے، جارجیا میلونی نے میرے دوست کہہ کرمخاطب کیا

نکیتا نائیڈو، جو اس قافلے میں شریک ہندوستانی ماحولیاتی انصاف کی کارکن ہیں، نے کہا کہ یہ مشن ’’سیاسی طور پر وابستہ نہیں‘‘ بلکہ خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سماجی انصاف کے بغیر ماحولیاتی انصاف ممکن نہیں۔ واسودھائیو کٹمبکم یعنی دنیا ایک خاندان ہے، اسی یقین نے مجھے اس قافلے کا حصہ بننے پر آمادہ کیا۔‘‘ نکیتا نائیڈو نے مزید کہا کہ قافلے اور اس کے شرکاء کے بارے میں غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، جبکہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ خوراک، امداد اور ماہر افراد غزہ پہنچ سکیں۔


دوسری جانب بحری قافلے نے اسرائیل پر ’’غیر قانونی اور پرتشدد‘‘ کارروائی کا الزام لگایا ہے۔ فلوٹیلا کے مطابق اسرائیلی فورسیز نے بین الاقوامی پانیوں میں امدادی جہازوں کو روکا، کارکنوں کو ’’اغوا‘‘ کیا اور قافلے کو غزہ پہنچنے سے روک دیا۔ منتظمین نے بتایا کہ ۵۰؍ جہازوں پر ۴۴؍ ممالک کے ۴۲۸؍ افراد سوار تھے، جن میں ۷۸؍ ترک شہری بھی شامل تھے۔ فلوٹیلا کے بین الاقوامی کوآرڈینیٹر تھیاگو اویلا نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف ’’دہائیوں پر محیط جبر اور تشدد‘‘ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیوز میں اسرائیلی فورسیز کو غیر مسلح انسانی کارکنوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : نارویجین صحافی ہیلے لینگ کا دعویٰ؛ مودی سے سوالات کرنےکے بعد فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس معطل ہوگئے

فلوٹیلا نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی حراست میں موجود کم از کم ۸۷؍ کارکنوں نے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ بیان میں کہا گیا، ’’اپنے غیر قانونی اغوا کے خلاف اور اسرائیلی جیلوں میں قید ۹۵۰۰؍ سے زائد فلسطینی قیدیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے فلوٹیلا کے شرکاء نے بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ اسرائیلی وزارت خارجہ نے تاہم اس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تمام کارکنوں کو اسرائیلی جہازوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ اپنے قونصلر نمائندوں سے ملاقات کر سکیں گے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس مشن کو ’’پی آر اسٹنٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ ’’حماس کی خدمت‘‘ میں کیا جا رہا تھا۔ بنجامن نیتن یاہو نے بھی اس سے قبل کہا تھا کہ فلوٹیلا غزہ پر اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کی ’’بدنیتی پر مبنی کوشش‘‘ کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : ٹرمپ کا ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم کرنے کا اعلان
انڈونیشیا نے بھی اپنے نو شہریوں کی گرفتاری پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وزارت خارجہ نے اسرائیل سے تمام جہازوں اور کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’تمام سفارتی اور قونصلر ذرائع استعمال کیے جائیں گے‘‘۔ رپورٹس کے مطابق گرفتار شدگان میں دو انڈونیشی صحافی بھی شامل ہیں۔ ترکی اور اسپین نے بھی اسرائیلی مداخلت کی مذمت کی ہے، جبکہ آئرلینڈ نے تصدیق کی کہ اس کے ۱۵؍ شہری اس فلوٹیلا میں شامل تھے، جن میں آئرش پارلیمنٹ کی اسپیکر کیتھرین کونولی کی بہن مارگریٹ کونولی بھی شامل ہیں۔


واضح رہے کہ غزہ پر ۲۰۰۷ء سے اسرائیلی ناکہ بندی جاری ہے، جبکہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق اب تک ۷۱؍ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک اور ۱۷۲؍ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ امدادی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ خوراک، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت کے باعث غزہ میں قحط اور انسانی تباہی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK