Updated: October 23, 2026, 10:08 PM IST
| Gaza
غزہ کی ۵۰؍ سالہ مریم الحساینہ نے دسمبر ۲۰۲۳ء میں اسرائیلی بمباری کے دوران اپنے خاندان کے سیکڑوں افراد اور نواسی مریم کو کھودیا۔ نواسی کی موت کے بعد انہوں نے اپنے غم کو یتیم بچوں کی کفالت میں بدل دیا؛ اب ’’دار الرحمہ‘‘ میں ۱۵۰؍ بچے رہتے ہیں، جن میں بیشتر اپنے ماں باپ دونوں سے محروم ہوچکے ہیں۔ مریم کہتی ہیں کہ ان بچوں میں انہیں اپنے کھوئے ہوئے اولاد، پوتے پوتیاں اور پورا خاندان دکھائی دیتا ہے۔
مریم الحساینہ کو یتیم بچوں میں اپنے کھوئے ہوئے اولاد، پوتے پوتیاں اور پورا خاندان دکھائی دیتا ہے۔تصویر: ایکس
اپنے خاندان کے ۳۱۰؍ افراد کی موت کا صدمہ سہنے کے بعد غزہ کی مریم الحساینہ نے زندگی سے منہ موڑنے کے بجائے ان بچوں کا سہارا بننے کا فیصلہ کیا جن سے جنگ نے ان کے والدین چھین لیے۔ دسمبر ۲۰۲۳ء میں اسرائیلی بمباری کے دوران اپنے قریبی عزیزوں اور نواسی مریم کو کھونے والی مریم نے یتیم بچوں کی دیکھ بھال کے لیے ’’دار الرحمہ‘‘ قائم کیا۔ آج اس ادارے میں ۱۵۰؍ بچے رہتے ہیں، جنہیں وہ صرف کھانا اور رہنے کی جگہ ہی نہیں بلکہ محبت، توجہ اور گھر جیسا ماحول فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ الجزیرہ عربی کے مطابق مریم کے خاندان پر قیامت ۲۳؍ دسمبر ۲۰۲۳ء کو ٹوٹی، جب غزہ شہر میں اسرائیلی بمباری نے ان کے وسیع خاندان کو تباہ کردیا۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: احتجاج کے پیش نظر دکانداروں نے مدافعتی ہتھیاروں کا ذخیرہ کیا: رپورٹ
رپورٹ کے مطابق، الحساینہ اور ابو شریعہ خاندانوں کے مجموعی طور پر ۳۱۰؍ افراد اس سانحے میں مارے گئے، جن میں مریم کے ۳۸؍ انتہائی قریبی رشتے دار، بچے اور پوتے پوتیاں بھی شامل تھے۔ مریم کے لیے یہ محض عزیزوں کی موت نہیں تھی بلکہ ان کے پورے خاندانی وجود کا بکھر جانا تھا۔ وہ الجزیرہ سے گفتگو میں اس تباہی کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’پتھر اُڑ رہے تھے، مکانوں کی دیواریں یکے بعد دیگرے گر رہی تھیں اور ہم ایسی خوفناک آوازیں سن رہے تھے جو بڑوں سے پہلے بچوں کو خوفزدہ کررہی تھیں۔ یہ ایسا قتلِ عام تھا جس میں میں نے سب کچھ کھو دیا۔‘‘ اس سانحے میں مریم کی کم عمر نواسی بھی شدید زخمی ہوئی۔ بچی کو ملبے سے زندہ نکالا گیا تھا، لیکن اس کے سر میں شیل کا ٹکڑا لگنے سے دماغ کو شدید نقصان پہنچا اور وہ شل ہوکر رہ گئی۔ مریم کے مطابق، نواسی صرف تین دن زندہ رہی۔ وہ اپنی آخری سانسوں تک ماں اور باپ کو پکارتی رہی اور بالآخر مریم کی گود میں دم توڑ گئی۔ اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے مریم کہتی ہیں، ’’وہ صرف تین دن زندہ رہی، اپنی ماں اور باپ کو پکارتی رہی، پھر میری گود میں شہید ہوگئی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فرانس کے بعد یونان میں بھی احتجاج شروع، اسکولوں میں۱۵؍ ہزار ٹیچروں کی کمی
مریم نے اپنی نواسی کے لیے ایک مستقبل کا خواب دیکھا تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ بچی تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر بنے اور لوگوں کی مدد کرے۔ انہیں امید تھی کہ وہ ماں باپ سے محروم اپنی نواسی کو ایسی محبت اور سہارا دے سکیں گی جس سے اس کی زندگی میں پیدا ہونے والا خلا کسی حد تک کم ہوسکے۔ لیکن بچی کی موت نے یہ خواب توڑ دیا۔ اسی صدمے کے بعد مریم نے فیصلہ کیا کہ وہ دوسرے یتیم بچوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گی، خصوصاً ان بچوں کو جنہوں نے جنگ میں نہ صرف والدین بلکہ گھر، تحفظ اور خاندان کے دوسرے افراد بھی کھو دیے ہیں۔ ابتدا میں یہ ایک ذاتی کوشش تھی۔ مریم نے اپنے خاندان کے یتیم بچوں کو اپنے قریب جمع کرنا شروع کیا تاکہ ان کے دکھ کو کم کرسکیں اور انہیں اپنائیت کا احساس دے سکیں۔ رفتہ رفتہ بچوں کی تعداد بڑھتی گئی تو انہوں نے ایک جگہ کرائے پر لی اور اسے بچوں کی ضروریات کے مطابق مکمل طور پر آراستہ کیا۔ اسی کوشش نے بعد میں ’’دار الرحمہ‘‘ کی شکل اختیار کرلی، جہاں اب خاندان کے بچوں کے ساتھ غزہ کے دوسرے یتیم بچے بھی رہتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر وہ ہیں جنہوں نے اپنے والد اور والدہ دونوں کو کھو دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر میں تہواروں کے دوران گاڑیوں کی رجسٹریشن میں ۲؍فیصد کمی، پونے سرفہرست
مریم اس ذمہ داری کو کسی فلاحی منصوبے سے زیادہ اپنے کھوئے ہوئے خاندان سے جڑے رشتے کی طرح دیکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میں ان بچوں میں اپنے بیٹے، پوتے پوتیاں اور اپنے پورے خاندان کو دیکھتی ہوں، اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ انہیں ہر لمحے محبت اور شفقت کی ضرورت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں انہیں وہی کچھ دوں جو میں نے اپنی شہید نواسی مریم کو دیا تھا۔‘‘ ان کے لیے ہر بچہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں جنگ نے اچانک بچپن چھین لیا، لیکن جسے محبت، تعلیم اور تحفظ کے ذریعے دوبارہ زندگی کی طرف لانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ دار الرحمہ میں بچوں کی کفالت کے ساتھ انہیں خاندان جیسا ماحول دینے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ ادارے کے بارے میں انادولو ایجنسی کی ایک سابقہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وہاں ’’متبادل ماؤں‘‘ کا نظام اپنایا گیا ہے، تاکہ بچوں کو گھر جیسی دیکھ بھال مل سکے۔ ادارے کی انتظامیہ نے صحت، تعلیم، نفسیاتی مدد اور سماجی بحالی کو بھی بچوں کی ضروریات کا حصہ قرار دیا تھا۔ جنگ کے باعث والدین سے محروم ہونے والے بچوں کے لیے یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ ان کی ضرورتیں محض خوراک اور رہائش تک محدود نہیں رہتیں؛ انہیں مستقل توجہ، تحفظ اور اپنے دکھ کو سمجھنے والے بالغ افراد کی موجودگی بھی درکار ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھونیشور کمار کی ٹی ۲۰؍ کرکٹ میں واپسی، پہلے ہی میچ میں ۴۹؍ رنز دیئے
غزہ میں یتیم بچوں کی تعداد اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ میں غزہ کی وزارتِ سماجی ترقی کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ تقریباً ۶۵؍ ہزار یتیم بچوں کا اندراج کیا گیا ہے۔ ان میں ۵۴۴۶۸؍بچے ایسے ہیں جنہوں نے اپنے والد یا والدہ، یا دونوں کو کھویا ہے، جب کہ ۱۶۷۹۸؍ بچے اپنے والدین کے کھو جانے یا ان کے غائب ہونے کے بعد دادا دادی یا نانا نانی کی دیکھ بھال میں رہ رہے ہیں۔ یہ اعداد اس انسانی بحران کی وسعت ظاہر کرتے ہیں جس کے درمیان مریم جیسے افراد اپنی محدود استطاعت کے باوجود بچوں کو سہارا دینے کی کوشش کررہے ہیں۔