کانگریس لیڈرجے رام رمیش کا الزام ،کہا کہ اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کی گئی ہے، ماہرین نے بھی مودی حکومت کے دعوئوں پر سوال اٹھائے۔
EPAPER
Updated: September 03, 2026, 9:00 AM IST | Ahmadullah Siddiqui/Agency | New Delhi
کانگریس لیڈرجے رام رمیش کا الزام ،کہا کہ اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کی گئی ہے، ماہرین نے بھی مودی حکومت کے دعوئوں پر سوال اٹھائے۔
مودی حکومت کے پیش کردہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار کسی کے گلے سے نہیں اتر رہے ہیں ۔ اس پر اپوزیشن پارٹیوں نے بھی کھل کر اعتراض کیا ہے اور ماہرین معیشت بھی ان پر سوال اٹھارہے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے تو واضح طور پر کہہ دیا کہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار فرضی ہیں۔ مودی حکومت کے ذریعہ جی ڈی پی کے اعداد وشمار میں ہیر پھیرکی گئی ہے۔پارٹی ترجمان اور رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے کہا کہ مودی حکومت میڈیا کے ذریعہ اعدادوشمار میں ہیراپھیری کرکے جی ڈی پی کی ترقی کے جھوٹے دعوے کررہی ہے۔ جے رام رمیش نے سابق فنانس سیکریٹری سبھاش گرگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اب اس دعویٰ کا پردہ فاش کردیا۔ ان کا اندازہ ہے کہ حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو ۷ء۸؍فیصد نہیں بلکہ ۶ء۲؍فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ۷۵؍ ممالک کے تارک وطن ویزا بحال، عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی پابندی ختم کی
جے رام رمیش نے سبھاش گرگ کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا جس میں وہ ایک نیوز چینل سے گفتگو کررہے ہیں اور جی ڈی پی کے تعلق سے حکومت کے دعوؤں کوغلط قراردے رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ مودی سرکار اپنی ٹیم اور میڈیا کے ذریعے اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کے ذریعے جی ڈی پی کی ترقی کے جھوٹے دعوے کو جتنا آگے بڑھاتی ہے، اتنا ہی اس کی سچائی سامنے آتی جائے گی کیونکہ یہ زمینی حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ سابق فنانس سیکریٹری سبھاش گرگ نے اب اس دعوے کا پردہ فاش کیا ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ حقیقی جی ڈی پی ۲ء۶؍فیصد ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ ہم حقیقی معنوں میں ایک مضبوط معیشت چاہتے ہیں لیکن مضبوط معیشت کا راستہ جھوٹ پر مبنی اعداد و شمار کو سنوارنے میں نہیں بلکہ سچائی کو قبول کرنے میں ہے اور غلطی سدھارنے میں ہے۔
جے رام رمیش نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو پہلے حقیقی معاشی صورتحال کو تسلیم کرنا چاہئے اور پھر اصلاحات کو نافذ کرنا چاہئےجس میں نوجوانوں کیلئے ملازمتیں پیدا کرنا،ایم ایس ایم ایزاور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا، مانگ اور آمدنی میں اضافہ، معاشی عدم مساوات میں کمی اورحکومت کے حامی بڑے تاجروں کو فروغ دینے کے بجائے منصفانہ مسابقت کو یقینی بنانا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ پی آر سے جی ڈی پی کی تصویر چمکائی جاسکتی ہے ،لیکن معیشت نہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’رچ ڈیڈ پور ڈیڈ‘ کے مصنف رابرٹ کیوساکی پر۱ء۲؍ ارب ڈالر کاقرض: رپورٹ
سبھاش گرگ نے کیا کہا ؟
سابق فائنانس سیکریٹری سبھاش گرگ نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ جون میں، جی ڈی پی تخمینے کے اس تازہ ترین دور سے پہلے، حکومت نے تخمینہ لگانے کیلئے تھوک قیمت کے اشاریہ کا استعمال ترک کر دیا۔ اگر مودی حکومت ایماندارانہ اعداد و شمار پیش کرتی تو حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو بہت کم ہوتی۔میرے اندازہ کے مطابق یہ ۲ء۶؍ فیصد ہو تی ۔ مودی حکومت نے اعداد و شمار میں ضرور کوئی ہیر پھیر کیا ہے جس سے یہ نمبر بہت زیادہ نظر آرہا ہے۔
رگھو رام راجن نے کیا کہا؟
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے سابق گورنر رگھورام راجن نے مودی حکومت کی تیز رفتار معاشی ترقی کے دعوئوں پر سوال اٹھایا اورکہا کہ اگر ملک کی معیشت واقعی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے تو نوجوانوں کیلئے خاطر خواہ روزگار کے مواقع کیوں پیدا نہیں ہو رہے اور ملک میں سرمایہ کاری میں تیزی کیوں نہیں آ رہی؟راجن نے شرحِ نمو کے اعداد و شمار پربھی شکوک کا اظہار کیا اور کہا کہ اتنی تیز ترقی کے باوجود نوجوانوں کو روزگار نہ ملنا بہت حیرت انگیز ہے۔