Updated: September 03, 2026, 10:00 PM IST
| Venice
ہالی ووڈ اداکار نے کہا کہ اختلافِ رائے کی بنیاد پر کسی کی آواز نہیں دبائی جاسکتی؛ رفالو کے خلاف پیرا ماؤنٹ کے الزام کے بعد ۱۸۰؍ سے زائد یہودی فنکاروں اور شخصیات بھی ان کی حمایت میں خط جاری کرچکی ہیں، جبکہ کلونی نے وارنر بروز کے ۱۱۱۱۱۰؍ بلین ڈالر انضمام پر بھی سخت تحفظات ظاہر کیے۔
جارج کلونی اور مارک رفالو۔ تصویر: آئی این این
ہالی ووڈ اداکار جارج کلونی نے اپنے ساتھی اداکار مارک رفالو کی آزادیٔ اظہار کے حق میں کھل کر آواز اٹھائی ہے۔ وینس فلم فیسٹیول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کلونی نے کہا کہ رفالو کو اپنے خیالات بیان کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، چاہے وہ خود ان خیالات سے اتفاق نہ کریں۔ انہوں نے پیرا ماؤنٹ کی جانب سے رفالو پر ’’یہود مخالف انداز‘‘ اختیار کرنے کے الزام کو ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیا۔ کلونی نے کہا، ’’میں مارک رفالو کے آزادانہ طور پر بولنے کے حق کی حمایت کرتا ہوں۔‘‘ ان کے مطابق جمہوریت میں لوگوں کو ایسے خیالات کا اظہار کرنے سے نہیں روکا جاسکتا جن سے دوسرے افراد اختلاف کرتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آزادیٔ اظہار کی حمایت اس وقت بھی کرتے ہیں جب انہیں کسی کی بات سے ’’مکمل اختلاف‘‘ ہو، کیونکہ مختلف آرا پر بحث کرکے ہی معاشرہ کسی نتیجے تک پہنچتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اگر ٹرمپ اجازت دیں تو غزہ سے فلسطینیوں کو منتقل کرنے کو تیار: اسرائیلی وزیر دفاع
تنازع کی ابتدا رفالو کی پیرا ماؤنٹ اور وارنر بروز ڈسکوری کے مجوزہ انضمام کی مخالفت سے ہوئی۔ رفالو نے گزشتہ ماہ پیرا ماؤنٹ کے سربراہ ڈیوڈ ایلیسن کے خاندان اور ٹیکنالوجی کمپنی Oracle کے درمیان تعلقات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور Oracle کے اسرائیلی فوج کے ساتھ کاروباری تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر سخت اعتراض کیا۔ انہوں نے اس معاملے کو پیرا ماؤنٹ کے وارنر بروز ڈسکوری کو خریدنے کے منصوبے سے بھی جوڑا۔ پیرا ماؤنٹ نے ۲۱؍ اگست کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایسے بیانات پر تشویش رکھتی ہے جن میں کاروباری تنازع کے دوران ’’یہود مخالف انداز‘‘ استعمال کیا جائے۔ کمپنی نے رفالو کے الفاظ ’’نسل کشی‘‘ اور ’’نسل پرستانہ نظام‘‘ کو کارپوریٹ لین دین پر لاگو کرنے کو غلط قرار دیا اور کہا کہ وہ کسی بھی قسم کے تعصب کو برداشت نہیں کرتی۔
رفالو نے الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان پر یہود مخالف ہونے کا الزام ’’انتہائی تکلیف دہ اور بنیادی طور پر بے ایمانی‘‘ پر مبنی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے اقدامات، فوجی ٹیکنالوجی کے معاہدے یا ایسی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے کاروباری عہدیداروں پر تنقید کو یہودیوں سے دشمنی کے مترادف نہیں سمجھا جاسکتا۔ رفالو کی حمایت میں ہالی ووڈ اور ادبی دنیا کی آواز بھی بلند ہوئی ہے۔ یکم ستمبر کو جاری کیے گئے ایک کھلے خط پر ۱۷۰؍ سے زیادہ یہودی فنکاروں، ماہرین تعلیم اور عوامی شخصیات نے دستخط کیے تھے، جبکہ بعد کی فہرست میں دستخط کنندگان کی تعداد ۱۸۰؍ سے تجاوز کرگئی۔ جوئل کوئن، ہواکوئن فینکس، ٹوڈ ہینز، ہنّا آئنبائنڈر، جوناتھن گلیزر اور دیگر معروف شخصیات ان میں شامل ہیں۔ خط میں یہود مخالف ہونے کے الزامات کو اسرائیل پر تنقید خاموش کرانے کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: ۸؍ ویں جماعت تک اے آئی پر پابندی، ہائی اسکول طلبہ کو محدود اجازت
کلونی نے رفالو کے معاملے کی حمایت کے ساتھ خود بھی پیرا ماؤنٹ اور وارنر بروز ڈسکوری کے مجوزہ انضمام پر تحفظات ظاہر کیے۔ تقریباً ۱۱۱۱۱۰؍ بلین ڈالر مالیت کے اس معاہدے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ یہ مالی طور پر ان کمپنیوں کے لیے کس طرح فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایک بڑی کمپنی دوسری بڑی کمپنی کو نگل جاتی ہے تو انہیں ہمیشہ تشویش ہوتی ہے، کیونکہ اس طرح کی کاروباری یکجائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ملازمتیں ختم ہوسکتی ہیں۔یہ معاہدہ پہلے ہی امریکی عدالت میں قانونی رکاوٹ کا شکار ہے۔ ۱۲؍ ریاستی اٹارنی جنرلز اور Writers Guild of America اس انضمام کی مخالفت کررہے ہیں اور مؤقف رکھتے ہیں کہ اس سے فلم اور ٹیلی ویژن کے شعبے میں مسابقت کم ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب امریکی محکمہ انصاف نے جون میں اپنی مسابقتی تحقیقات مکمل کرکے کہا تھا کہ دستیاب شواہد کے مطابق یہ سودا امریکی صارفین یا مسابقت کو نقصان پہنچانے کا امکان نہیں رکھتا۔
تازہ قانونی پیش رفت میں کیلیفورنیا اور ۱۱؍ دیگر ریاستوں کے ساتھ Writers Guild of America نے عدالت سے پیرا ماؤنٹ کی جانب سے مانگے گئے ۸۸ء۱؍ بلین ڈالر کے ضمانتی بانڈ کو مسترد کرنے کی درخواست کی ہے۔ پیرا ماؤنٹ کا کہنا ہے کہ اگر قانونی کارروائی کے باعث معاہدہ مؤخر ہوتا رہا تو اسے بھاری مالی نقصان ہوسکتا ہے۔ معاہدے کے تحت ۳۰؍ ستمبر کے بعد وارنر بروز ڈسکوری کے حصص یافتگان کو تقریباً ۷؍ ملین ڈالر روزانہ کی اضافی ادائیگی شروع ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف متعدد عالمی مسابقتی ادارے اس سودے کی منظوری دے چکے ہیں۔ یورپی کمیشن نے ۲۲؍ جولائی کو پیرا ماؤنٹ کی وارنر بروز ڈسکوری کو خریدنے کی منظوری دی تھی، جبکہ امریکہ سمیت آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، چین، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا اور دیگر دائرہ اختیار میں بھی مسابقتی منظوری حاصل ہوچکی ہے۔ امریکی ریاستوں کا مقدمہ اب اس بڑے میڈیا انضمام کی تکمیل میں اہم رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کنیڈا کے برٹش کولمبیا میں نمودار ہونے والا پراسرار جزیرہ چند ہفتوں بعد ہی غائب!
وینس میں کلونی کو۸۳؍ فلم فیسٹیول کے موقع پر لائف ٹائم اچیومنٹ کے اعتراف میں Golden Lion سے نوازا گیا۔ ۶۵؍ سالہ اداکار نے اسی پریس کانفرنس میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی فلمی صنعت کا بہت بڑا حصہ بننے والی ہے، لیکن اس کے کئی نقصانات بھی ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اداکاروں کی شکل و شناخت کے غیر مجاز استعمال جیسے مسائل مستقبل میں مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔