جرمنی میں فوجی خدمات سے انکار کی درخواستوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، حکام کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۶ء کے پہلے۸؍ ماہ میں۱۲۰۰۰؍ سے زیادہ افراد نے ضمیر کی بنیاد پر مسلح سروس سے دستبردار ہونے کی درخواست کی ہے، جو۲۰۲۵ء کی کل تعداد سے تین گنا زیادہ ہے۔
EPAPER
Updated: October 11, 2026, 8:02 PM IST | Berlin
جرمنی میں فوجی خدمات سے انکار کی درخواستوں میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، حکام کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۶ء کے پہلے۸؍ ماہ میں۱۲۰۰۰؍ سے زیادہ افراد نے ضمیر کی بنیاد پر مسلح سروس سے دستبردار ہونے کی درخواست کی ہے، جو۲۰۲۵ء کی کل تعداد سے تین گنا زیادہ ہے۔
جرمنی کی میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ ملک کو اس سال ضمیر کی بنیاد پر فوجی سروس سے انکار کرنے والوں سے۱۲۰۰۰؍ سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جو۲۰۲۵ء کی کل تعداد سے تین گنا زیادہ ہے۔RedaktionsNetzwerk Deutschland (RND) اخبار گروپ نے رپورٹ کیا کہ درخواست دہندگان میں ریزروسٹ، فعال ڈیوٹی فوجی اور نوجوان شامل ہیں، حالانکہ جرمنی میں فوجی بھرتی معطل ہے۔وفاقی دفتر برائے خاندانی امور اور سول سوسائٹی فنکشنز (BAFzA) کی ترجمان نے کہا کہ ایجنسی نے۲۰۲۶ء کے پہلے آٹھ مہینوں میں۱۲۱۰۲؍ ضمیر اعتراض کی درخواستیں درج کیں، جو۲۰۲۵ء میں۳۸۷۹؍ اور۲۰۲۴ء میں۲۴۴۹؍ تھیں۔ حکام نے اس اضافے کو جرمنی کے نئے فوجی سروس قانون، بگڑتی ہوئی بین الاقوامی سیکیورٹی صورتحال اور یورپ میں فوجی تنازع کے خدشات سے منسوب کیا۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: طلبہ مظاہرین کے احتجاج کے دوران ۱۰۰ سے زائد تعلیمی عملہ زخمی: وزیر تعلیم
بعد ازاں نئے قانون کے تحت، جو۲۰۲۶ء کے آغاز میں نافذ ہوا،۱۸؍ سال کی عمر کو پہنچنے والے تمام مردوں کے لیے فٹنس، مہارت اور مسلح افواج میں شامل ہونے میں دلچسپی کا جائزہ لینے والا سوالنامہ مکمل کرنا ضروری ہے۔اگرچہ فوجی سروس رضاکارانہ ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد بھرتی کو مراحل میں دوبارہ متعارف کرانا ہے، جس کا آغاز سوالناموں سے ہوگا۔۲۰۰۸ء یا اس کے بعد پیدا ہونے والے مردوں کے لیے طبی اسکریننگ لازمی ہے، لیکن محدود صلاحیت کا مطلب ہے کہ اسے مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حجاب کے سبب ایراسمس ویزا درخواست مسترد: گلاتاسرائے یونیورسٹی کی طالبہ
واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل۴؍ کے تحت، شہریوں کو ضمیر کی بنیاد پر مسلح فوجی سروس سے انکار کا محفوظ حق حاصل ہے۔ اعتراض کرنے والوں کو وفاقی دفتر برائے بنڈس ویر پرسنل مینجمنٹ میں تحریری درخواست اور تفصیلی ذاتی بیان جمع کرانا ہوگا، جو درخواست کو جائزے کے لیے BAFzA کو بھیجتا ہے۔دریں اثناء بنڈس ویر میں تقریباً۱۸۶۴۰۰؍ فعال فوجی ہیں۔ نیٹو کے وعدوں کو پورا کرنے اور یورپ میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کامقابلہ کرنے کیلئے، وزارت دفاع کا مقصد۲۰۳۵ء تک فورس کو۲۶۰۰۰۰؍ سے زیادہ اہلکاروں تک بڑھانا ہے۔جبکہ اس ہدف تک پہنچنے کے لیے سالانہ۲۰۰۰۰؍ بھرتیوں کی ضرورت ہوگی، ایک ایسا ہدف جس کے بارے میں دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رضاکارانہ اندراج میں کمی کی صورت میں لازمی سروس کے بغیر حاصل کرنا مشکل ہوگا۔