• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گھاٹکوپر: ’یوتھ پیس فیسٹیول‘ کا انعقاد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کوفروغ دینے کا پیغام

Updated: October 03, 2026, 3:55 PM IST | Owais Siddiqui | Ghatkopar

اداکارجاوید جعفری بطورمہمان خصوصی شریک ہوئے۔ محبت، امن و بھائی چارے کو فروغ دینے والی کئی شارٹ فلموںاور تصویروں کی نمائش۔

Students and young people participating in the `Youth Peace Festival`. Actor Javed Jaffrey is also seen with them. Photo: Inquilab.
’یوتھ پیس فیسٹیول‘ میں شریک طلبہ و نوجوان ۔ ان کے ساتھ اداکار جاویدجعفری بھی نظر آرہے ہیں۔ تصویر: انقلاب
 یہاں مغربی جانب  پی این دوشی ویمنس کالج میں’ممبئی فار پیس ‘کی جانب سے جمعرات کو ’ یوتھ پیس فیسٹیول ‘ کا انعقاد کیا گیا  جس کا مرکزی عنوان فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ واضح رہے ممبئی فار پیس ، ممبئی کی دیگر سماجی تنظیموں کا ایک مشترکہ گروہ ہے ، اس کے ذریعے طرح طرح کی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں جن سے نفرت کے ماحول میں محبت اور امن کا پیغام عام ہو سکے۔ مذکورہ پروگرام اسی کی ایک کڑی تھا  جہاں ممبئی کےمختلف کالجوں کے طلبہ ونوجوانوں کیلئے ’قومی ایکتا‘ (فرقہ وارانہ ہم آہنگی) کے عنوان پر ’شارٹ فلم میکنگ ‘ اور’فوٹو گرافی‘  مقابلہ رکھا گیا تھا جس کا اختتامی پروگرام ’یوتھ پیس فیسٹیول‘ کے طور پر کیا گیا جس میں مشہور و معروف اداکار جاوید جعفری   بطورمہمان خصوصی  شریک ہوئے۔
 
 
پروگرام کے منتظم سمیر واگلے نے انقلاب کو بتا یا کہ اس مقابلے کو مختلف کالجوں کی جانب سے بھرپور پزیرائی ملی۔انہوں نے مزید کہا کہ فیسٹیول میںمنتخب شدہ فلموں اور تصاویر کی نمائش، انعامات کی تقسیم کی گئی اور مہمانِ خصوصی جاوید جعفری نے طلبہ سے خطاب کیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ماہِ اگست کی ابتداء میں ممبئی فار پیس کی جانب سے ان مقابلوں کااعلان کیا گیا تھاجس کے انعامات کی تقسیم ، منتخب شدہ فلموں اور فوٹوز کی نمائش کیلئے اس فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا ۔ 
جاوید جعفری نے اس موقع پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اہمیت اور قوم کی تعمیر میں فلموں کے کردار پر مبنی فکر انگیز خطاب سے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان نسل کو کشادہ ذہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوال اٹھانا چاہئے اور نفرت پھیلانے والے بیانیوں کی مزاحمت کرنی چاہئے۔انہوں نے فلم ’امر اکبر انتھونی‘ کی مثال کے ذریعے قوم کی تعمیر اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں فلموں کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نئی فلموں کو اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہئےکہ وہ معاشرتی تفریق میں اضافہ نہ کریں۔
 
فیسٹیول میں شریک  طالب علم آیوش سنگھ  جو’’نظریہ آرٹ کلیکٹو‘ نامی ایک تنظیم سے وابستہ آرٹسٹ ہیں، نے انقلاب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فلم’ زبان‘ کی تحریر اور ہدایتکاری کی ہے جسے دیگر مختلف فیسٹیولز میں نمائش کیلئے منتخب کیا جا چکاہے۔ انہوں نے پروگرام سے متعلق کہا کہ’ یوتھ پیس فیسٹیول‘ نوجوانوں کیلئے ایک شاندار پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’ یہاں موجود ہونا اور اپنی فلم کی نمائندگی کرنا میرے لئے ایک بہت اچھا تجربہ تھا۔میری رائے میں ہمیں واقعی ایسے فیسٹیول کی ضرورت ہے جہاں نوجوان اپنے خیالات، فلموں اور فن پاروں کو پیش کر سکیں۔‘‘ انہوں نے اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہاکہ ’’ یہ پلیٹ فارم روایتی یا پہلے سے قائم شدہ سوچ پر سوال اٹھانے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے اور نوجوانوں کے نقطہ نظر کو میڈیا اور معاشرے تک پہنچاتا ہے۔میں اس بات پر کافی پرجوش ہوں ساتھ ہی کچھ گھبراہٹ کا شکار بھی تھا کہ میری فلم میرے جیسے نوجوانوں کے سامنے دکھائی جا رہی تھی۔مجھے وہ لمحہ بہت پسند آیا جب جاوید جعفری صاحب نے میری فلم کے پیغام کے بارے میں بات کی اور اسے سراہا۔ یہ میرے لئے فلم کے حوالے سے سب سے بہترین حصہ تھااور اس کے ساتھ ہی وہ لمحہ بھی جب میں اسٹیج پر گیا اور اپنی فلم سے متعلق نوجوانوں سے مخاطب ہوا۔‘‘
منتظمین نے بتایا کہ فلموں ’فالنگ اِن‘ اور’ اسٹیکرز‘نے پہلا اور دوسرا انعام جیتا جبکہ فوٹوگرافی میں فوٹوز’ پاسنگ تھرو دی ہیز‘ اور’ فیتھ ان ٹوگیدرنیس‘ نے پہلا اور دوسرا انعام حاصل کیا۔ تقسیم انعامات کے بعد گروپ فوٹو لی گئی اورا سی کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK