Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۲۵ء میں عالمی فوجی اخراجات ۸۸ء۲؍ کھرب ڈالر، ایشیا کا خرچ سب سے زیادہ

Updated: April 27, 2026, 9:55 PM IST | Stockholm

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں عالمی فوجی اخراجات ۸۸۷ء۲؍ کھرب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ ایشیا اور اوشیانا میں ۱ء۸؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو ۲۰۰۹ء کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ ہندوستان دفاعی مد میں سب سے زیادہ خرچ کرنے والے ممالک کی فہرست میں ۵؍ ویں نمبر ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

عالمی دفاعی اخراجات میں تیزی سے اضافہ جاری ہے، اور اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی تازہ رپورٹ نے ظاہر کیا ہے کہ ۲۰۲۵ء میں دنیا بھر میں فوجی اخراجات نئی بلندیوں تک پہنچ گئے۔ رپورٹ کے مطابق، عالمی فوجی اخراجات ۸۸۷ء۲؍ کھرب ڈالر تک پہنچ گئے، جو ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں حقیقی معنوں میں تقریباً ۹ء۲؍  فیصد زیادہ ہیں۔ سب سے نمایاں اضافہ ایشیا اور اوشیانا میں ہوا، جہاں اخراجات ۶۸۱؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۱ء۸؍ فیصد زیادہ ہیں اور گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل میں اپوزیشن متحد: بینیٹ اور لاپیڈ کا مشترکہ انتخابی اتحاد 

سب سے زیادہ خرچ کرنے والے ممالک 
امریکہ، چین اور روس بدستور دنیا کے تین بڑے فوجی خرچ کرنے والے ممالک رہے، جن کے مشترکہ اخراجات ۴۸ء۱؍ کھرب ڈالر تک پہنچ گئے جو عالمی کل کا تقریباً ۵۱؍ فیصد ہے۔ چین نے اپنے دفاعی بجٹ میں ۴ء۷؍ فیصد اضافہ کر کے ۳۳۶؍ بلین ڈالر تک پہنچا دیا، جو اس کا مسلسل ۳۱؍ واں سالانہ اضافہ ہے اور اس کی فوجی جدید کاری کی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔

ہندوستان اور خطے کی صورتحال:
۲۰۲۵ء میں ہندوستان دنیا کا پانچواں سب سے بڑا فوجی خرچ کرنے والا ملک رہا، جس نے اپنے اخراجات میں ۹ء۸؍ فیصد اضافہ کرتے ہوئے، اسے ء۱۹۲؍ بلین ڈالر تک پہنچا دیا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کے فوجی اخراجات ۱۱؍ فیصد بڑھ کر ۹ء۱۱؍ بلین ڈالر ہو گئے، جو خطے میں جاری سیکوریٹی خدشات کی عکاسی کرتے ہیں۔
اسی دوران جاپان نے اپنے دفاعی اخراجات میں ۷ء۹؍ فیصد اضافہ کیا، جبکہ تائیوان نے ۱۴؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جو بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور چینی فوجی سرگرمیوں کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فلسطین بلدیاتی انتخابات: ۱۹۷؍ کونسلوں میں بلامقابلہ جیت، ۵۴؍ فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محقق ڈیاگو لوپیز دا سلوا کے مطابق، ایشیا میں امریکی اتحادی ممالک جیسے آسٹریلیا، جاپان اور فلپائن نہ صرف علاقائی خطرات بلکہ امریکہ کی سیکوریٹی ضمانتوں کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث بھی دفاعی اخراجات بڑھا رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کا حال
مشرق وسطیٰ میں مجموعی فوجی اخراجات ۲۱۸؍ بلین ڈالر رہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی ۰ء۱؍ فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم، اسرائیل کے اخراجات ۹ء۴؍ فیصد کم ہو کر ۳ء۴۸؍ بلین ڈالر رہ گئے، اگرچہ یہ اب بھی ۲۰۲۲ء کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کے بدعنوانی کیس کی سماعت عین وقت پر منسوخ، سیکوریٹی وجوہات کا حوالہا

رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، علاقائی تنازعات، اور طاقت کے توازن کی دوڑ دفاعی اخراجات میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں فوجی اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں، جس کے عالمی معیشت اور سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK