Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھاراوی: میونسپل عمارتوں کے مکینوں کو ایک ہفتے میں مکان خالی کرنے کا نوٹس

Updated: June 12, 2026, 11:16 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Dharavi

بی ایم سی کی جانب سے اسے ری ڈیولپمنٹ کا حصہ بنانے اورمکینوں کو ان کے مکانات کےرقبے کے اعتبار سے ماہانہ کرایے کی بھی پیشکش کی گئی ۔ اس معاملے پر ناراضگی پائی جارہی ہے اورمتعدد سوالات قائم کئے گئے ہیں۔

Notices have been issued to the residents of these BMC buildings in Shahungar. (Photo: Inquilab)
شاہونگر میں واقع بی ایم سی کی ان عمارتوں کے مکینوں کو نوٹس دیا گیا ہے۔ (تصویر: انقلاب)

دھاراوی ری ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے ذریعے ری ڈیولپمنٹ شروع کئےجانے اوراس کا ٹھیکہ اڈانی گروپ اینڈ کمپنی کو دینے کےخلاف مسلسل صدائے احتجاج بلند کی جارہی ہے اوراسے دھاراوی  کے مکینوں کے ساتھ دھوکہ قرار دینے کے ساتھ کئی اور مطالبے کئے جارہے ہیں۔ اسی ضمن میں۱۰؍جون کو بی ایم سی کی جانب سے نوٹس  دیا گیا ہے جس  میں بی ایم سی عمارتوں کے مکینوں کو ایک ہفتے میں مکان خالی کرنے، بجلی بل کی مکمل ادائیگی   اورفلیٹ کی چابی مال ومتاع ڈپارٹمنٹ کے حوالے کرنے کو کہا گیا ہے ۔

بی ایم سی کی جانب سےجاری کردہ اس نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ مکان خالی کرنے کے عوض ٹرانزٹ کیمپ میں متبادل رہائش اورماہانہ کرایہ دیا  جائے گا ۔لیکن حیرت انگیزطور پرڈیولپمنٹ کے بعد کتنا بڑامکان ہوگا، کہاں ملے گااوراس مکان کی قانونی حیثیت کیا ہوگی ،اس کی کوئی وضاحت نہ کئے جانے سے مکینوں میں پس وپیش ہے۔ دھاراوی بچاؤ آندولن نے بھی اس پرکئی سوالات قائم کئے ہیں۔

یہ نوٹس مال ومتاع افسر جی  نارتھ وارڈ کے افسر کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسمارٹ واچ کی قیمت اور مجموعی رقم بتانے میں حج کمیٹی کی آناکانی

نوٹس میں اورکیالکھا ہے ؟

اس نوٹس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ دھاراوی کے ری ڈیولپمنٹ کا کام نوبھارت میگا ڈیولپرس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ذریعے شروع کیا گیا ہے۔اس کی رو سے شاہو نگر میں برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کی ’اے‘ سے ’جی‘ تک کی عمارتیں، جو مذکورہ ری ڈیولپمنٹ کا حصہ ہیں، کو مکمل طور پر منہدم کر کے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ اس لئے نوبھارت میگا ڈیولپرس پرائیویٹ لمیٹڈ نے مطلع کیا ہے کہ مذکورہ کرایہ داروں کو عارضی طور پر اس وقت تک منتقل کیا جائے گا جب تک کہ  عمارتوں کی دوبارہ تعمیر مکمل نہیں ہو جاتی ۔ اس کے لئےمذکورہ کمپنی کے ذریعے  (۱)  دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے سیکٹر ۵؍ میں مہاڈاکی عمارت میں متبادل رہائش گاہ میں منتقل ہونے والوں کے اخراجات برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لئے اس کیلئے ۱۵؍ہزار روپے کرایہ دیا جائے گا۔  (۲) اگر کرایہ دار کرایہ  پرکہیں اور رہنا چاہتا ہے تو ۲۷۵؍ اسکوائر فٹ کے فلیٹ والے کو ماہانہ کرایہ ۲۲؍ ہزار روپے اور اگر ۲۷۵؍ اسکوائر فٹ کا فلیٹ ہے تو اس کیلئے ۳۰؍ ہزار روپے کرایہ کے طور پر دیا جائے گا اورہرسال ۵؍ فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

اس لئے اس سے اتفاق رکھنے والے مکین فلیٹ خالی کرکے ۷؍دن کے اندر اسے پراپرٹی آفیسرجی نارتھ کے حوالے کردیں۔ اس کے علاوہ فلیٹ کا خالی قبضہ دینے سے پہلےپورا بجلی بل ادا کیا جائے اور فلیٹ کی چابی کے ساتھ دستاویزات کی اصل کاپی، پراپرٹی آفیسر، جی نارتھ ڈویژن کے دفتر کے حوالے کی جائے۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: ایمپیتھی اسپتال میں آتشزدگی، جنریٹر میں شارٹ سرکٹ سے آگ لگی

’’یہ دھاندلی ہے اورمزید شدت سے آوازبلند کرنی ہوگی‘‘

آزاد نگرلیبر کیمپ میں رہنے والےکرن ،جو اس معاملے میں پیش پیش ہیں، نےکہا کہ ’’ جب تک کوئی ٹھوس بات سامنے نہ آجائے ،اس وقت تک مکینوں کو مکان خالی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔بارش شروع ہونے والی ہے ، لوگ کہاں جائیں گے پھرآئندہ کیلئے ان کے مکان ملنے کی کیا ضمانت ہوگی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’ پہلے جھوپڑپٹیوں کو ہٹانے کی بات کہی گئی تھی ، اب بی ایم سی عمارتوں کو توڑنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی ،دراصل یہ گہری سازش ہے۔‘‘

دھاراوی بچاؤ آندولن کے فعال رکن دیپک کھندارے نے کہاکہ ’’یہ کھلی دھاندلی ہے اور اس کے لئے ہم سب کو زمین پراترنا ہوگا ، اس کےسوا کام نہیں بنے گا ۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’ ہم سب توبار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ پہلےمستقبل کی ضمانت کویقینی بنایا جائے پھرمکین کوئی قدم بڑھائیں۔‘‘ بی ایم سی عمارتوں میں مقیم لوگوں کی آواز بلند کرنے والے دیپک کامبلے نے کہا کہ’’ کہیں ۷؍ دن میں مکان خالی ہوتا ہے، بارش میں لوگ کہاں جائیں گے اور بچوں کی پڑھائی لکھا ئی کا کیا ہوگا ۔ اس لئے ہم پھریہ دہرارہے ہیں کہ ایک ہوجائیے تبھی بازآبادکاری کی آڑ میں لاکھوں دھاراوی واسیوں کے مستقبل سے کھلواڑ روکنا ممکن ہوگا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK