وزیر تعلیم کی قانون ساز کونسل میں وضاحت ،معیاری تعلیم کو مزید بہتر بنانے اور اسکول ڈراپ آؤٹ کم کرنے کا یقین دلایا۔
اسکول۔ تصویر:آئی این این
ممبئی کے ودھان بھون میں جاری مہاراشٹر اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوران جمعرات کو اسکولی تعلیم کے وزیر دادا بھسے نے قانون ساز کونسل میں بتایا کہ سرکاری اور مقامی سرکاری ( میونسپل) اسکولوں میں فی طالب علم تقریباً ۹۷؍ ہزار روپے خرچ ہو رہے ہیں جبکہ امداد یافتہ اسکولوں میں یہ خرچ۳۸؍ تا ۴۰؍ ہزار روپے ہے۔ محکمہ اسکولی تعلیم کیلئے ریاستی بجٹ ۸۸؍ ہزار ۴۹۴؍کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔حکومت ریاست میں سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں میں طلبہ کی گرتی ہوئی تعداد، تعلیم کے معیار، اساتذہ کے زیر التوا مسائل اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات کو مستحکم کرنے کیلئے ایک جامع پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ہر طالب علم کو معیاری تعلیم فراہم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ڈراپ آؤٹ کو بھی روکا جائےگا۔ اسکولی تعلیم کے وزیر نے مزید کہا کہ مہاراشٹر تعلیمی اداروں کی فیس ریگولیشن ایکٹ۲۰۱۱ءکے مطابق ہر اسکول میں ایک فیس فکسیشن کمیٹی کام کر رہی ہے اور حکومت والدین کے مفاد میں کمیٹیوں میں نمائندگی کے حوالے سے مثبت فیصلہ کرنےپر غور کر رہی ہے۔ کوئی بھی اسکول طلبہ کو کسی خاص دکان سے کتابیں یا تعلیمی مواد خریدنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ ایسی شکایات موصول ہونے پر متعلقہ اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوںنے مزید کہا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ذریعے معیاری تعلیم، شفاف انتظامیہ اور طلبہ اور والدین کے مفاد میں فیصلے مسلسل کئے جا رہے ہیں۔ حکومت پرائیویٹ اسکولوں کی فیس ریگولیشن سے لے کر اساتذہ کی بھرتی، اسکولوں کی فزیکل سہولیات، گیارہویں جماعت کیلئے آن لائن داخلہ کے عمل، مراٹھی زبان کے موثر نفاذ اور پرائیویٹ ٹیوشن کلاسوں کے لئے الگ قانون جیسے مختلف مسائل پر مؤثر طریقے سے کام کر رہی ہے۔