مطالبات کے نظرانداز کئے جانے سے ملازمین ناراض، بے مدت ہڑتال سے کام کاج کے متاثر ہونے کا امکان، حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 10:51 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
مطالبات کے نظرانداز کئے جانے سے ملازمین ناراض، بے مدت ہڑتال سے کام کاج کے متاثر ہونے کا امکان، حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ۔
سرکاری اور نیم سرکاری ملازمین کے ساتھ تدریسی اور غیر تدریسی عملے نے اب اپنے زیر التواءکل ۱۶؍ مطالبات کیلئے ۲۱؍اپریل سے غیر معینہ مدت ہڑتال کا انتباہ دیا ہے ۔ تقریباً ۱۷؍ لاکھ ملازمین اور اساتذہ گزشتہ ۱۵؍ مہینوں سے مطالبات کے نظر اندازکئے جانے سے ناراض ہیں۔ مہاراشٹر کوآرڈی نیشن کمیٹی کے مطابق گزشتہ ایک سال میں کئی مرتبہ احتجاج کرنے کے باوجود، حکومت نے کوئی ٹھوس موقف اختیار نہیں کیا ہے ، اس لئے بڑے پیمانے پر ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سحرشیخ کا کارپوریٹر کا عہدہ خطرے میں، والد کا اوبی سی سرٹیفکیٹ فرضی !
بے مدت ہڑتال سے سرکاری دفاتر، اسکول، کالج اور دیگر شعبوںکے کام کاج کے متاثر ہونے کا امکان ہے ۔ ریاست بھر کے ملازمین اور اساتذہ کے غیر معینہ ہڑتال سے انتظامیہ کے سامنے ایک بڑا چیلنج آنے کا امکان ہے۔ حکومت سے فوری مداخلت کر کے اس کا حل نکالنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔مہاراشٹر کوآرڈی نیشن کمیٹی کے کنوینر وشواس کاٹکر نے کہا ہے کہ ’’ریٹائرمنٹ کی عمر ۶۰؍سال کرنے ، نظرثانی شدہ قومی پنشن اسکیم کے حوالے سے واضح قوانین کا اعلان، ان سروس ایشورڈ پروگریس اسکیم کے تحت مراعات کی فراہمی اور یکم مارچ ۲۰۲۴ءسے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو عارضی پنشن کی ادائیگی جیسے اہم مطالبات جو ملک کے بیشتر ریاستوں میں نافذ ہیں، لیکن مہاراشٹر میں انہیں نافذنہیں کیا گیا ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ حکومت سرکاری ملازمین کیلئے ان مراعات کوجلدازجلد نافذ کرے۔‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’سرکاری محکموں میں ۳۵؍فیصد اسامیو ں کے خالی ہونے سے موجودہ ملازمین پر کام کا بوجھ کافی بڑھ گیا ہے، چنانچہ خالی اسامیوںکو پُر کیا جائے ۔درجہ چہارم اور ڈرائیوروں کی بھرتی پر پابندی، کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے اور تمام ملازمین کیلئے کیش لیس ہیلتھ انشورنس اسکیم کوعملی جامہ پہنایا جائے۔ ان سبھی مسائل کو ترجیحی بنیاد پر حل کیاجائے ۔‘‘