Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرکزکے پاس غیر استعمال شدہ سی ایس آر فنڈ کا کوئی ڈیٹا نہیں: پارلیمنٹ میں حکومت

Updated: August 04, 2026, 10:07 PM IST | New Delhi

مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ حکومت کے پاس غیر استعمال شدہ سی ایس آر فنڈ کے تعلق سے کوئی ڈیٹا نہیں ہے، ساتھ ہی مساوی تقسیم کی کوئی پالیسی نہیں، ایسے فیصلے کمپنیوں کے بورڈ پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔

Parliament. Photo: INN
پارلیمنٹ۔ تصویر: آئی این این

مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ اس کے پاس کارپوریٹ سماجی ذمہ داری ( سی ایس آر) کے غیر استعمال شدہ فنڈز کا مرکزی ڈیٹا موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس کے پاس ریاستوں میں سی ایس آر اخراجات کی زیادہ مساوی تقسیم کو یقینی بنانے کی کوئی پالیسی ہے، ایسے فیصلے کمپنیوں کے بورڈز پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔لوک سبھا میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سشیکانت سینتھل کے سوال کے جواب میں، وزارت کارپوریٹ امور کی ریاستی وزیر ہرش ملہوترا نے کہا کہ’’ اگرچہ گزشتہ تین مالی سالوں کے دوران ریاست وار سی ایس آر اخراجات کا ڈیٹا کمپنیوں کی سالانہ فائلنگ کے ذریعے دستیاب ہے، تاہم کمپنیوں کے غیر استعمال شدہ سی ایس آر اکاؤنٹ کا ڈیٹا مرکزی سطح پر محفوظ نہیں کیا جاتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: وہاٹس ایپ کے متعدد اکاؤنٹس اچانک زیرِ جائزہ، صارفین۲۴؍ گھنٹے تک پریشان

وزیر نے کہا کہ کمپنی ایکٹ کی دفعہ۱۳۵؍ کے تحت، جاری سی ایس آر منصوبوں پر کام کرنے والی کمپنیوں کو مالی سال کے اختتام کے۳۰؍ دنوں کے اندر غیر استعمال شدہ سی ایس آر رقم کو ایک مخصوص ’’غیر استعمال شدہ سی ایس آر اکاؤنٹ‘‘ میں منتقل کرنا ہوگا اور اگلے تین مالی سالوں کے اندر ان فنڈز کو استعمال کرنا ہوگا۔ اگر اس مدت کے بعد بھی رقم غیر استعمال شدہ رہتی ہے تو اسے کمپنیز ایکٹ کے شیڈیول ہفتم کے تحت مخصوص فنڈ میں منتقل کرنا ہوگا۔ ان منصوبوں کے لیے جو جاری نہیں ہیں، غیر استعمال شدہ سی ایس آر فنڈز کو مالی سال کے اختتام کے چھ ماہ کے اندر شیڈیول ہفتم فنڈ میں منتقل کرنا ہوگا۔
بعد ازاں علاقائی تفاوت پر تشویش کے حوالے سے، حکومت نے دہرایا کہ سی ایس آر ایک بورڈ کے زیرِ عمل ہے، جس میں کمپنی کے بورڈ اپنی کمیٹیوں کی سفارشات کی بنیاد پر سی ایس آر سرگرمیوں کی منصوبہ  بندی، منظوری، عملدرآمد اور نگرانی کرنے کے ذمہ دار ہیں۔اگرچہ کمپنی ایکٹ میں فرموں کو مقامی علاقوں اور ان علاقوں کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے جہاں وہ کام کرتی ہیں، وزیر نے وضاحت کی کہ یہ صرف رہنما اصول ہے، لازمی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مقامی ترجیح کو قومی ترجیحات کے ساتھ متوازن رکھیں، اور حکومت کمپنیوں کو کسی خاص جغرافیائی علاقے یا کسی خاص سرگرمی پر سی ایس آر فنڈز خرچ کرنے کا پابند نہیں کرتی۔
تاہم سنتھل نے اس جواب پر ردعمل دیتے ہوئے حکومت کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ  سی ایس آر کے نفاذ میں شفافیت اور پالیسی سمت کی تشویشناک کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’مرکز نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے پاس غیر استعمال شدہ سی ایس آر فنڈز کا کوئی مرکزی ڈیٹا نہیں ہے، حالانکہ سی ایس آر اخراجات ایک قانونی ذمہ داری ہے جس میں عوامی بہبود کے لیے ہزاروں کروڑ روپے شامل ہیں۔‘‘انہوں نے حکومت کے اس اعتراف پر بھی تنقید کی کہ علاقائی عدم توازن کے باوجود سی ایس آر  سرمایہ کاری کی زیادہ مساوی تقسیم کی حوصلہ افزائی کے لیے اس کے پاس کوئی طریقہ کار یا پالیسی نہیں ہے۔سنتھل نے کہا، ’’ایک حکومت جو نہ تو غیر استعمال شدہ سی ایس آر  فنڈز کا حساب کھتی ہے اور نہ ہی اس بارے میں پالیسی رہنمائی فراہم کرتی ہے کہ سماجی سرمایہ کاری کی سب سے زیادہ ضرورت کہاں ہے، وہ جامع ترقی کے لیے پرعزم ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔

یہ بھی پڑھئے: نتن گڈکری کا فوری طور پر استعفیٰ لیا جائے : ہرش وردھن سپکال

مزید برآں انہوں نے استدلال کیا کہ سی ایس آر کو سماجی انصاف کے ایک آلے کے طور پر تصور کیا گیا تھا، نہ کہ احتساب سے عاری ایک رسمی عمل کے طور پر۔انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ  سی ایس آر کے نفاذ کی نگرانی، احتساب کو یقینی بنانے اور پسماندہ سماج میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک شفاف فریم ورک قائم کرے۔
واضح رہے کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری ( سی ایس آر) کو کمپنی ایکٹ ۲۰۱۳ءکی دفعہ۱۳۵؍ کے تحت لازمی قرار دیا گیا تھا، جس سے ہندوستان ان اولین ممالک میں شامل ہو گیا جنہوں نے قانونی طور پر کارپوریٹ سماجی اخراجات کو لازمی قرار دیا۔جن کمپنیوں کی خالص مالیت ۵۰۰؍ کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہے، سالانہ کاروبار۱۰۰۰؍ کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہے، یا خالص منافع۵؍ کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہے، انہیں پچھلے تین مالی سالوں کے اوسط خالص منافع کا کم از کم۲؍ فیصد اہل سی ایس آر سرگرمیوں پر خرچ کرنا ہوگا۔ ان سرگرمیوں میں تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، غربت کا خاتمہ، ماحولیاتی پائیداری، دیہی ترقی اور صنفی مساوات جیسے شعبے شامل ہیں، جیسا کہ ایکٹ کے شیڈ یو ل ہفتم میں درج ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK