Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان اور ڈومبیولی میں ۷۱۲؍ عمارتیں خطرناک قرار دی گئیں

Updated: July 01, 2026, 1:17 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan

مکینوں کا سوال: انسانی جانوں کے ضائع ہونے کے بعد کلسٹر ری ڈیولپمنٹ اسکیم پر عمل درآمد کا کیا فائدہ؟

File photo of a dilapidated building
ایک مخدوش عمارت کی فائل فوٹو

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کےڈی ایم سی) کی حدود میں مخدوش عمارتوں کا بحران ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔مانسون کی آمد کے ساتھ ہی سیکڑوں خستہ حال عمارتوں میں رہائش پذیر ہزاروں شہریوں کی جان و مال ایک بار پھر شدید خطرے سے دوچار ہو گئی ہے لیکن برسوں سے زیرِ التوا کلسٹر ری ڈیولپمنٹ اسکیم آج بھی فائلوں سے باہر نہیں نکل سکی۔

گزشتہ برس سپت شرنگی عمارت کے المناک انہدام میں ۶؍ بے گناہ افراد کی ہلاکت کے باوجود انتظامیہ کی بے حسی اور سست روی برقرار ہے۔اس صورتحال نے مخدوش عمارتوں کے مکینوں میں شدید بے چینی اور غم و غصہ پیدا کر دیا ہے جو سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر قیمتی انسانی جانوں کے ضائع ہونے کے بعد ہی کلسٹر ری ڈیولپمنٹ اسکیم پر عمل درآمد ہونا ہے تو پھر ایسے منصوبے کی افادیت اور مقصد آخر کیا رہ جاتا ہے؟

شہری انتظامیہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق کے ڈی ایم سی حدود میں اس وقت مجموعی طور پر ۷۱۲؍ عمارتیں مخدوش قرار دی گئی ہیں جن میں ۲۲۴؍ عمارتیں انتہائی خطرناک ہیں۔ ان انتہائی مخدوش عمارتوں میں سے صرف ۵۱؍ عمارتیں اب تک منہدم کی جا سکی ہیں جبکہ ۱۴۳ ؍انتہائی خطرناک عمارتوں میں اب بھی سیکڑوں خاندان رہائش پذیر ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً ۵ ؍ہزار ۸۶۵؍ افراد ایسی عمارتوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آنے کا خدشہ برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی کے بجلی صارفین کو بقایا بل میں راحت دینے کیلئے حکومت کوشاں

گزشتہ سال مانسون کے دوران کلیان مشرق کی سپت شرنگی عمارت اچانک منہدم ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں ۶؍ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔حادثے کے بعد عمارت کو منہدم کر دیا گیا تاہم متاثرہ خاندانوں کی مناسب بازآبادکاری آج تک مکمل نہیں ہو سکی جس سے شہریوں میں شدید بے چینی اور ناراضی پائی جاتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کارپوریشن حدود میں مخدوش عمارتوں کی تعداد ۶۷۶ ؍تھی جن میں ۴۵۱ ؍مخدوش اور ۲۲۵؍ انتہائی خطرناک عمارتیں شامل تھیں۔ رواں سال یہ تعداد بڑھ کر ۷۱۲؍ ہوگئی ہے یعنی ایک سال کے دوران مزید ۳۶؍عمارتیں مخدوش قرار دی گئی ہیں۔ اس وقت ۴۸۸؍ عمارتیں مخدوش جبکہ ۲۲۴؍ عمارتیں انتہائی خطرناک زمرے میں شامل ہیں۔ہر سال برسات سے قبل میونسپل انتظامیہ مخدوش عمارتوں کے مکینوں کو عمارتیں خالی کرنے کا نوٹس جاری کرتی ہے مگر بیشتر  افراد متبادل رہائش نہ ہونے یا دیگر مجبوریوں کے باعث گھروں سے نکلنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ان میں بڑی تعداد کرایہ داروں اور پگڑی نظام کے تحت رہنے والوں کی ہے۔ دوسری جانب زمین مالکان، عمارت مالکان اور کرایہ داروں کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازعات بھی ری ڈیولپمنٹ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔تاہم شہریوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا مجوزہ کلسٹرعلاقوں میں تمام مخدوش اور انتہائی خطرناک عمارتوں کو شامل کیا گیا ہے یا نہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو کلسٹر ری ڈیولپمنٹ اسکیم اپنے بنیادی مقصد سے محروم ہو جائے گی اور ہر مانسون میں ہزاروں شہریوں کی زندگیاں اسی طرح خطرے سے دوچار رہیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK