Inquilab Logo Happiest Places to Work

گجرات کے کچھ میں ۳۰؍ تعمیرات بشمول مساجد اور مکانات کا انہدام

Updated: July 01, 2026, 9:03 PM IST | Gandhinagar

گجرات کے کچھ میں ۳۰؍ تعمیرات بشمول مساجد اور مکانات مسماری کی خبرہے، جبکہ مکینوں نے نوٹس نہ ملنے کا الزام عائد کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

گجرات کے ضلع کچھ میں گزشتہ چند روز کے دوران نام نہاد انکروچمنٹ ( غیر قانونی قبضہ)مخالف مہم کے تحت تقریباً۳۰؍ تعمیرات ، جن میں مساجد، متعدد مزار، تجارتی عمارات اور مسلمانوں کے رہائشی مکانات شامل ہیں کو مسمار کر دیا گیا ہے، جس کے بعد مقامی باشندوں نے من مانی کارروائی اور قانونی طریقہ کار سے انکار کے الزامات عائد کیے ہیں۔کچھ کے گاندھی دھام تعلقہ میں واقع جونا کنڈلا مسجد کو اتوار کی رات مسمار کر دیا گیا۔ مسجد کمیٹی اور مکتوب میڈیا کے مطابق، یہ مسجد۱۹۶۵؍ سے گجرات اسٹیٹ وقف بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ ہے۔ مسجد کمیٹی کے صدر محمد سمر نے کہا، ’’مسجد کو بغیر کسی پیشگی نوٹس کے مسمار کیا گیا۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ،’’انتظامی کمیٹی کے ارکان مسماری کے بارے میں جاننے کے بعد افسران تک پہنچنے کی کوشش کی، لیکن انہیں جائے وقوعہ تک جانے سے روک دیا گیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بنگال: بی جے پی کی انتقامی سیاست کا عروج، ٹی ایم سی لیڈروں پر کارروائیاں

بعد ازاںجمعیۃ علماء ہند (JUH) کا ایک حقائق تلاش کرنے والا وفد، جس کی قیادت اس کے سیکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی کر رہے تھے، پیر کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور مکینوں، مسجد کمیٹی کے ارکان اور کمیونٹی نمائندوں سے مل کر مسماری مہم کے اثرات کا جائزہ لیا۔ وفد نے قانونی ماہرین سے بھی قانونی راستوں کے بارے میں مشورہ کیا۔تاہم انہوںنے افسران پر ان کے سوالوں کے جواب نہ دینے کا الزام عائد کیا۔ تنظیم کے ابتدائی نتائج کے مطابق، اب تک۳۰؍ تعمیرات مسمار کی جا چکی ہیں، جن میں۱۱؍ مذہبی مقام،۱۷؍ تجارتی عمارات اور دو رہائشی مکانات شامل ہیں۔ مذہبی مقام میں تین مساجد اور کئی مزار تھے۔تنظیم نے مزید الزام لگایا کہ انہدام کے خلاف احتجاج کرنے والے۲۵؍ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کر کے نانا ورنورہ گاؤں میں جیل بھیج دیا گیا۔
جمعیۃ کی ایک ٹیم نے خود ان مسمار شدہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور عدالت سے یہ جاننے کے لیے رجوع کرے گی کہ یہ مسماریاں کیوں ایک دم انجام دی گئیں۔انتظامیہ کی طرف سے ان میں سے بعض مسماریوں کو سیکیورٹی کے حوالے سے جائز قرار دیا گیا، جس میں علاقے کی ہند-پاک سرحد سے قربت کا حوالہ دیا گیا۔گجراتی نیوز پورٹل ’’گجرات فرسٹ‘‘ کے مطابق، ریاستی حکومت نے انکروچمنٹ مخالف مہم کا حکم دیا تھا، جو وزیر اعلیٰ بھو یپیندرپٹیل اور ہوم سٹیٹ منسٹر ہرش سنگھوی کی ہدایت پر گجرات کی ’’زیرو ٹالرنس‘‘ پالیسی کے تحت چلائی گئی۔کچھ کےمقامی کارکن محسن علی محمد ہنگوراجا نے مکتوب میڈیا کو بتایا کہ نانا ورنورہ گاؤں میں۷؍ جون کو ۹؍ مسلم مکانات اور۲۱؍ دکانیں، جنہیں غیر قانونی قرار دیا گیا تھا، مسمار کر دی گئیں، یہ کنڈلا مسماریوں سے پہلے ہوا۔ اس کے علاوہ مقامی انتظامیہ نے گزشتہ جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے بہت سے مکینوں کو بھی گرفتار کیا۔ جبکہ مقامی گجراتی روزنامہ ’’سندیش‘‘ نے رپورٹ کیا کہ یہ مسماری کچھ کلیکٹر انیل راناواسیہ کی براہِ راست نگرانی میں کی گئیں۔ محسن نے کہا، پوچھنے پر مقامی انتظامیہ ان مسماریوں کو نانا ورنورہ اور رائے دھن پار گاؤں کے نوجوانوں کے درمیان پہلے ہونے والی جھڑپوں سے جوڑ رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے نانا ورنورہ میں کارروائیاں کیں، معصوم مکینوں کو جن کا واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا، اٹھایا، گرفتار کیا اور ان کی جائیدادوں پر بلڈوزر چلائے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: منواسمرتی معاملہ پر پرکاش امبیڈکر کی مرکز پر سخت تنقید

بعد ازاں ۷؍ جون کو’’آل کچھ مسلم سماج‘‘نے کچھ ضلعی انتظامیہ کو ایک یادداشت پیش کی، جس میں الزام لگایا گیا کہ ضلع میں حالیہ مسماری مہم اور پولیس کارروائی نے غیر متناسب طور پر معصوم مسلم خاندانوں کو متاثر کیا ہے اور قانونی طریقہ کار کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔یادداشت میں الزام لگایا گیا کہ پولیس کریک ڈاؤن کے دوران تشدد سے کوئی تعلق نہ رکھنے والے متعدد افراد جن میں روزانہ مزدوری کرنے والے اور حتیٰ کہ ذہنی طور پر معذور بچے بھی شامل تھے، کو حراست میں لیا گیا۔یادداشت میں کہا گیا،انتظامیہ نے قانون کی حکمرانی کی پیروی کرنے کے بجائے بلڈوزر پر مبنی نقطۂ نظر اختیار کیا ہے۔ انتظامی کارروائی صرف قانونی عمل مکمل کرنے کے بعد اور قدرتی انصاف اور آئین کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔محسن نے کہا،’’انتظامیہ نے چالاکی سے گرام پنچایت کے سرپنچ سے ایک دستاویز پر دستخط کروائے جس میں گاؤں میں انہدام کی منظوری دی گئی، جبکہ اس دستاویز میں ان کا اپنا گھر بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا، ’’جیسے ہی انہیں معلوم ہوا کہ گرام پنچایت نے مسماری نوٹس کی واپسی کے لیے ایک قرارداد منظور کر لی ہے، اور متاثرہ مکینوں نے گجرات ہائی کورٹ سے رجوع کیا، تو عدالت نے مسماریوں پر روک لگا دی۔جبکہ عدالت نے نوٹ کیا تھا،’’ پنچایت نے پہلے ہی مسماری روکنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ اچانک مسماری نہیں کر سکتی۔ جب تک ہم دونوں فریقوں کو نہ سن لیں، مسماری بند رہنی چاہیے۔‘‘ تاہم محسن نے کہا،’’اس کے باوجود،۱۵؍ جون کو انہدامی کارروائی کی گئی اور مسلمانوں سے متعلق مزید ڈھانچے زمین بوس کر دیے گئے۔
دریں اثناء احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے، کچھ مسلم سماج نے انہدام کی اعلیٰ سطحی، غیر جانبدارانہ انکوائری، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی، متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ، اور اس کے بیان کردہ من مانے بلڈوزر کارروائی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ یادداشت کے اختتام پر کہا گیا، ’’اگر انصاف نہیں دیا گیا تو ہم آئین اور گاندھیائی اصولوں کے دائرے میں ایک پرامن جمہوری تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK