Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار میں طلبہ کا شدید احتجاج، لاٹھی چارج اور پانی کی توپوں کا استعمال

Updated: August 26, 2026, 1:15 PM IST | Inquilab News Network | Patna

وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے گھیراؤ سے روکے جانے پر پولیس کے ساتھ ٹکراؤ، واٹر کینن داغے جانے پر مظاہرین شیمپو لگا کرنہانے لگے۔

Students and protesters are having fun facing water cannons in Patna. Picture: INN
پٹنہ میں پانی کی توپ کے سامنے طلبہ اور مظاہرین لطف انددوز ہورہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرنے کی اپیل پر منگل کو راجدھانی پٹنہ کی سڑکوں پر اترنے والے ہزاروں طلبہ کو روکنے کیلئےپولیس نے  لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا ۔اس دوران ہاتھوں میں ترنگا لئے  مظاہرین نے احتجاج کا انوکھا انداز اختیار کیا۔ کچھ طلبہ پانی کی تیزدھار کے درمیان شیمپو لگا کر نہانے لگے۔ اس دوران پولیس نے بعض طلبہ کو زبردستی وہاں سے ہٹایا، جبکہ ایک طالب علم کی طبیعت بھی بگڑ گئی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کنال چاہتا تھاکہ بس اس کے والد گھر آجائیں‘‘

دراصل پٹنہ کے گردنی باغ میں بی پی ایس ٹی آر ای-۴؍ سمیت مختلف سرکاری بھرتیوں کے مطالبے کی حمایت میں طلبہ کی تحریک مسلسل جاری ہے۔ ۱۸؍ اگست سے دھرنے پر بیٹھے طلبہ نے منگل کو وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرنے کیلئے مارچ کیا۔ آل بہار اسٹوڈنٹ یونین (اے بی ایس یو) کی قیادت میں نکالے گئے اس مارچ کو روکنے کیلئے  جے پی گولمبر پر بھاری تعداد میں پولیس اور سی آر پی ایف کی تعیناتی کی گئی تھی۔ طلبہ نے جے پی گولمبر پر لگائی گئی بیریکیڈنگ توڑ دی اور ڈاک بنگلہ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس اور طلبہ کے درمیان کشیدگی کی صورت حال بنی رہی۔ گاندھی میدان سے انکم ٹیکس گولمبر تک کئی مقامات پر پولیس اور احتجاجی طلبہ کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ طلبہ کے مطالبات میں بی پی ایس سی ٹی آر ای-۴؍ اساتذہ تقرری کیلئے  پی ٹی اور مینس کی بجائے ایک امتحان لینے کااہم مطالبہ شامل ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ تقرری کے عمل کو واضح اور آسان بنایا جائے تاکہ امیدواروں کو بار بار الگ الگ امتحان  میں شرکت نہ کرنی پڑے۔ اس کے علاوہ مظاہرین ٹی آرای -۴؍کے امتحان میں منفی مارکنگ ختم کرنے اور سرکاری بھرتیوں میںصد فیصد ڈومیسائل پالیسی نافذ کرنے کی بھی مانگ کر رہے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ بہار کی سرکاری ملازمتوں میں مقامی امیدواروں کو ترجیح ملنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: شکر کی دو قیمتیں طے کرنے کا فارمولا، عام صارفین اور صنعتوں کیلئے مختلف داموں کی تجویز

مظاہرین کا موازنہ کتوں سے کرنا مہنگا پڑا

مظاہرین کے مشتعل ہونے کی فوری وجہ بی پی ایس سی کے امتحان کنٹرولر راجیش کمار سنگھ کا تبصرہ تھا۔ پیر کو ایک پریس کانفرنس  میں احتجاج سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہوئے سنگھ نے ہندی کا محاورہ استعمال کیا کہ ’’ہاتھی چلے بازار، کتے بھونکیں ہزار‘‘۔ اس پر مظاہرین اور سیاسی لیڈروں نے شدید تنقید کی اور الزام لگایا کہ امتحان کنٹرولر نےمظاہرین کو کتا کہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK