Inquilab Logo Happiest Places to Work

خلیجی کشیدگی: ایک ہفتے میں ۵۲؍ ہزار سے زائد ہندوستانی وطن لوٹے

Updated: March 09, 2026, 9:06 PM IST | New Delhi

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فضائی سفر میں رکاوٹوں کے باعث گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ۵۲؍ ہزار سے زیادہ ہندوستانی شہری خلیجی ممالک سے واپس ہندوستان پہنچ چکے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق فضائی حدود جزوی طور پر کھلنے کے بعد خصوصی اور تجارتی پروازوں کے ذریعے مسافروں کی واپسی ممکن بنائی گئی۔ حکومت نے متاثرہ شہریوں کی مدد کے لیے ہیلپ لائنز اور کنٹرول روم بھی قائم کر دیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور فضائی سفر کی رکاوٹوں کے درمیان ہندوستانی حکومت نے خلیجی ممالک میں موجود اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ وزارت خارجہ نے ۷؍ مارچ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ یکم مارچ سے ۷؍ مارچ کے درمیان ۵۲؍ ہزار سے زائد ہندوستانی شہری خلیجی خطے سے واپس ہندوستان پہنچ چکے ہیں۔ وزارت کے مطابق حکومت مسلسل خطے کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور ان شہریوں کی مدد کے لیے اقدامات کر رہی ہے جو سفر کی رکاوٹوں کے باعث متاثر ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی کا اعلان: یو ڈی ایف حکومت بنی تو کیرالا میں پانچ بڑی ضمانتیں

فضائی حدود جزوی طور پر کھلنے کے بعد پروازیں بحال
وزارت خارجہ کے مطابق مغربی ایشیا کے بعض حصوں میں فضائی حدود کے جزوی طور پر دوبارہ کھلنے کے بعد مسافروں کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا ہوئی۔بیان میں کہا گیا کہ’’گزشتہ چند دنوں میں پورے خطے میں فضائی حدود کے جزوی طور پر کھلنے کے بعد ہندوستانی اور غیر ملکی ایئر لائنز تجارتی پروازیں چلا رہی ہیں، جن میں غیر طے شدہ اضافی پروازیں بھی شامل ہیں تاکہ ٹرانزٹ میں پھنسے ہوئے یا مختصر دورے پر آنے والے ہندوستانی مسافروں کی واپسی ممکن بنائی جا سکے۔‘‘ حکام کے مطابق واپس آنے والے مسافروں میں سے ۳۲؍ ہزار ۱۰۷؍ افراد نے ہندوستانی ایئر لائنز کے ذریعے سفر کیا۔ وزارت نے یہ بھی اشارہ دیا کہ آنے والے دنوں میں مزید پروازوں کا انتظام کیا جا سکتا ہے تاکہ واپسی کے منتظر دیگر مسافروں کو بھی سہولت فراہم کی جا سکے۔

خلیجی ممالک میں ہندوستانیوں کی بڑی تعداد
رپورٹس کے مطابق خلیجی ممالک میں ہندوستانی شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی شہری خلیجی ممالک میں رہتے اور کام کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے خطے میں پیدا ہونے والی کسی بھی ہنگامی صورتحال کا براہ راست اثر بڑی تعداد میں ہندوستانی شہریوں پر پڑتا ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ’’بیرون ملک ہندوستانی شہریوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔‘‘ وزارت کے مطابق حکومت خطے کی مختلف حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر ہندوستانی شہریوں کو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: این سی ای آر ٹی کا نیا ڈرافٹ، نویں جماعت میں ۱۰؍ مضامین پڑھانے کی تجویز

ہیلپ لائن اور کنٹرول روم قائم
وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے میں موجود ہندوستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں نے شہریوں کی مدد کے لیے ۲۴؍ گھنٹے ہیلپ لائنز قائم کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے ہیڈکوارٹر میں ایک خصوصی کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ متاثرہ مسافروں اور ان کے اہل خانہ کے سوالات کے جواب دیے جا سکیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں کہ کسی بھی شہری کو ہنگامی صورتحال میں فوری رہنمائی مل سکے۔

شہریوں سے سفارت خانوں میں رجسٹریشن کی اپیل
خطے میں ہندوستانی سفارت خانوں نے متاثرہ شہریوں سے اپنی تفصیلات جمع کرانے کی اپیل بھی کی ہے۔ مثال کے طور پر قطر میں ہندوستانی سفارتخانے نے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوستانی شہری جو ۲۸؍ فروری سے ۷؍ مارچ کے درمیان پروازوں کی منسوخی کے باعث قطر میں پھنس گئے ہیں، وہ اپنی تفصیلات آن لائن فارم کے ذریعے جمع کریں۔ سفارت خانے کے مطابق اس اقدام کا مقصد:’’قطر میں پھنسے ہوئے ہندوستانی شہریوں کی درست تعداد اور تفصیلات معلوم کرنا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو قطر کے مستقل رہائشی نہیں ہیں۔‘‘ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی رجسٹریشن سے حکومت کو سفری انتظامات کرنے اور دستیاب پروازوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ناصرجنید قتل کیس: ضمانت کے بعد مونو مانیسر کا گروگرام گاؤں میں شاندار استقبال

شہریوں کے لیے حکومتی ہدایات
وزارت خارجہ نے مغربی ایشیا میں موجود ہندوستانی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مقامی حکام اور ہندوستانی سفارت خانوں کی ہدایات پر عمل کریں۔ وزارت نے کہا کہ’’خطے میں موجود تمام ہندوستانی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مقامی حکام کے رہنما خطوط اور اپنے مقام پر ہندوستانی سفارت خانے یا قونصل خانے کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری پر عمل کریں۔‘‘ جن ممالک میں تجارتی پروازیں محدود ہیں، وہاں موجود شہریوں کو قریبی ہندوستانی سفارت خانے یا قونصل خانے سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے تاکہ متبادل سفری انتظامات کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK