Updated: March 09, 2026, 6:01 PM IST
| New Delhi
ہندوستان میں نصاب اور درسی کتابیں تیار کرنے والے مرکزی ادارے National Council of Educational Research and Training نے نویں جماعت کیلئے نصاب کا نیا مسودہ جاری کیا ہے جس میں طلبہ کو ۱۰؍ مضامین پڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس مجوزہ نصاب کے تحت ایک اضافی زبان اور چار نئے مضامین شامل کیے جائیں گے۔ تاہم بعض اسکولوں کے سربراہان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے طلبہ پر تعلیمی بوجھ بڑھ سکتا ہے، جبکہ کچھ ماہرین تعلیم نے اس تبدیلی کو مثبت قرار دیا ہے۔
ہندوستان کے تعلیمی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی تجویز سامنے آئی ہے، جہاں این سی ای آر ٹی نے نویں جماعت کے لیے نصاب کے نئے مسودہ میں طلبہ کے لیے مضامین کی تعداد بڑھانے کی سفارش کی ہے۔ فی الحال نویں کے طلبہ عام طور پر درج ذیل مضامین پڑھتے ہیں:دو زبانیں، ریاضی، سائنس اور سماجی علوم۔ لیکن نئے مجوزہ نصاب کے مطابق طلبہ کو اب ایک اضافی زبان اور چار نئے مضامین بھی پڑھنے ہوں گے، جس سے کل مضامین کی تعداد ۱۰؍ تک پہنچ جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ناصرجنید قتل کیس: ضمانت کے بعد مونو مانیسر کا گروگرام گاؤں میں شاندار استقبال
نئے مضامین کون سے ہوں گے
نئے مسودے کے مطابق نویں جماعت میں درج ذیل نئے مضامین شامل کیے جائیں گے:معاشرے میں افراد، پیشہ ورانہ تعلیم، فنون کی تعلیم اور جسمانی تعلیم اور بہبود۔ این سی ای آر ٹی کے مطابق یہی مضامین دسویں میں بھی برقرار رہیں گے، تاہم ’’معاشرے میں افراد‘‘ کے مضمون کو بعد میں ماحولیاتی تعلیم سے تبدیل کر دیا جائے گا۔
قومی تعلیمی فریم ورک کا حوالہ
اس تبدیلی کی بنیاد نیشنل کریکیولم فریم ورک فار اسکول ایجوکیشن ۲۰۲۳ء پر رکھی گئی ہے۔ اس فریم ورک کے مطابق چھٹی سے دسویں تک طلبہ کو تین زبانیں سیکھنے کی ضرورت ہوگی۔ این سی ای آر ٹی اس نئے نصاب کے مطابق نویں کی نئی درسی کتابیں تیار کر رہا ہے، جنہیں مارچ کے آخر تک جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بہار: نتیش کمارکے فرزند نشانت کمار کی سیاست میں ’ انٹری‘
اسکولوں کے خدشات
کئی اسکولوں کے سربراہان نے اس تجویز پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایک نجی اسکول کے پرنسپل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ این سی ای آر ٹی کا مسودہ نصاب براہ راست اسکولوں میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ان کے مطابق ’’نصاب صرف اسی صورت میں نافذ ہوگا جب متعلقہ اسکول بورڈ اسکولوں کو اس پر عمل کرنے کی ہدایت دے۔ ابھی تک سی بی ایس ای نے ہمیں اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے مضامین انڈر گریجویٹ داخلوں کے امتحانات کا حصہ نہیں ہیں، اس لیے طلبہ انہیں صرف امتحان پاس کرنے کے لیے پڑھیں گے۔
ایک اور پرنسپل نے کہا کہ مضامین کی تعداد بڑھانا قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء کے اس مقصد کے خلاف ہے جس میں تعلیمی مواد کا بوجھ کم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ ان کے مطابق شمالی ہندوستان کے کئی اسکول اضافی زبان کے طور پر سنسکرت پڑھائیں گے جس سے طلبہ پر مزید بوجھ پڑ سکتا ہے۔
ماہر تعلیم کی حمایت
دوسری جانب کچھ ماہرین تعلیم نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔ ریٹائرڈ پروفیسر رمیش گھانٹا جو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے وابستہ رہے ہیں اور این سی ٹی ای کے سابق رکن بھی ہیں، نے کہا کہ متنوع مضامین طلبہ کی ہمہ جہت تربیت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’’تعلیم کا مقصد ذمہ دار شہری پیدا کرنا ہے۔ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ تعلیمی معلومات اور تربیت کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ پیشہ ورانہ تعلیم، جسمانی تعلیم، فنون کی تعلیم اور ماحولیاتی تعلیم جیسے مضامین شخصیت کی نشوونما کے لیے ضروری زندگی کی مہارتیں فراہم کرتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں: رسوئی گیس کے ذخیرہ کے خاتمے کی افواہ، قیمت میں اضافہ
اساتذہ کی تیاری ایک بڑا چیلنج
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان مضامین کی کامیابی اساتذہ کی تیاری پر منحصر ہوگی۔ ان کے مطابق اس وقت بہت سے سرکاری اسکولوں میں ایسے اساتذہ موجود نہیں ہیں جو ان نئے مضامین کو پڑھانے کے لیے تربیت یافتہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ’’نئے مضامین شامل کرنے سے پہلے اساتذہ کو مناسب تربیت دینا ضروری ہے۔‘‘
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی وسائل مناسب طور پر فراہم کیے جائیں تو یہ تبدیلی طلبہ کی عملی مہارتوں اور مجموعی شخصیت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔