Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناصرجنید قتل کیس: ضمانت کے بعد مونو مانیسر کا گروگرام گاؤں میں شاندار استقبال

Updated: March 09, 2026, 4:04 PM IST | Jaipur

ہریانہ میں ناصر اور جنید کے قتل کیس کے مرکزی ملزم مونو مانیسرکو راجستھان ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد جیل سے رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد اپنے آبائی علاقے میں اس کے حامیوں نے اس کا استقبال کیا جس پر مقتولین کے اہلِ خانہ نے تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا۔

Monu Manesar. Photo: INN
مونو مانیسر۔ تصویر: آئی این این

مونو مانیسر، جو۲۰۲۳ءمیں ہریانہ میں ناصر اور جنید کے قتل کے الزام میں گرفتار تھا، کو سنیچر کی شام بھرت پور سینٹرل جیل سے رہا کر دیا گیا، جب راجستھان ہائی کورٹ نے اسے ضمانت دے دی۔ جیل سے رہائی کے بعد اس کے حامیوں کی بڑی تعداد نے اس کا استقبال کیا۔ بلٹ پروف جیکٹ پہنے ہوئے وہ سڑک کے راستے اپنے آبائی گاؤں گڑگاؤں روانہ ہوا، جہاں اس کا پھولوں کے ہاروں اور ڈھول کی تھاپ کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ ناصر (۲۵؍ سال) اور جنید (۳۵؍ سال)۱۵؍ فروری۲۰۲۳ءکو لاپتہ ہو گئے تھے اور ایک دن بعد ان کی جلی ہوئی لاشیں ہریانہ کے ضلع بھیوانی کے لوہارو علاقے میں ملی تھیں۔ الزام ہے کہ انہیں گاؤ رکشا کے نام پر سرگرم افراد (گاؤ رکشکوں ) نے قتل کیا، جنہیں شک تھا کہ وہ غیر قانونی طور پر مویشی لے جا رہے ہیں۔ تاہم، پولیس کے مطابق جب ان لوگوں کو کوئی مویشی نہیں ملا تو انہوں نے مبینہ طور پر دونوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ثبوت مٹانے کیلئے انہیں آگ لگا دی۔ 
۵؍ مارچ کو جسٹس انیل کمار اپمن کی بنچ نے مونو کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔ عدالت نے اس بات کو بنیاد بنایا کہ وہ تقریباً دو سال سے جیل میں تھا اور اس دوران۷۴؍ گواہوں میں سے ایک کا بھی بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ ناصر کے ایک رشتہ دار جمیل احمد نے کہا:’’مونو مانیسر کی ضمانت سے متاثرہ خاندان بہت مایوس اور خوفزدہ ہیں۔ ہمارا دکھ اور بڑھ گیا ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ وہ آئندہ کوئی غلط قدم اٹھا سکتے ہیں اور ہمارے گواہوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ ہمیں شدید مایوسی ہے۔ ‘‘یہ اس مقدمے میں مونو کی ہائی کورٹ میں دوسری ضمانت کی درخواست تھی، جو بھرت پور کے گوپال گڑھ پولیس اسٹیشن میں درج کیس سے متعلق تھی۔ اس مقدمے میں تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت اغوا، کسی شخص کو شدید نقصان پہنچانے کیلئے اغوا اور غیر قانونی حراست جیسے الزامات شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: بہار: نتیش کمارکے فرزند نشانت کمار کی سیاست میں ’ انٹری‘

اس سے پہلے گزشتہ سال جنوری میں ہائی کورٹ نے مونو اور اس کے ایک ساتھی ملزم انیل کمار کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ بعد میں انیل کمار نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جس نے۲۸؍ جنوری کو اسے ضمانت دے دی۔ مونو کے وکلاء اشون گرگ اور دیگر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اسے جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شریک ملزم انیل کمار مرکزی ملزم ہے جبکہ مونو پر صرف سازش کا الزام ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مونو کے خلاف تین پرانے مقدمات تھے جن میں سے دو میں وہ بری ہو چکا ہے اور تیسرے میں اسے پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔ وکلاء نے یہ بھی کہا کہ مقدمے کے جلد ختم ہونے کا امکان کم ہے کیونکہ اب تک ۷۴؍ میں سے ایک بھی گواہ پیش نہیں ہوا۔ مزید یہ کہ مونو۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء سے حراست میں تھا اور دو سال سے زیادہ جیل میں گزار چکا ہے۔ ان کے مطابق مزید حراست کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں: رسوئی گیس کے ذخیرہ کے خاتمے کی افواہ، قیمت میں اضافہ

سرکاری وکیل وجے سنگھ اور شکایت کنندہ کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل سید شاہد حسن نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ جرم کی سنگینی اور دستیاب شواہد کو دیکھتے ہوئے ملزم کو ضمانت نہیں دی جانی چاہئے۔ جسٹس اپمن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ چونکہ شریک ملزم انیل کمار کو سپریم کورٹ پہلے ہی ضمانت دے چکی ہے اور اب تک کسی گواہ کا بیان نہیں ہوا، جس کی وجہ سے مقدمہ ختم ہونے میں کافی وقت لگ سکتا ہے، اس لئے بغیر مقدمے کے میرٹ پر تبصرہ کئے مونو کی دوسری ضمانت کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ وہ ایک لاکھ روپے کا ذاتی مچلکہ اور پچاس پچاس ہزار روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرائے۔ اسے ہدایت دی گئی کہ جب بھی عدالت طلب کرے، وہ پیش ہو۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ چونکہ ملزم کا ماضی مجرمانہ رہا ہے، اس لئے ضمانت کے دوران وہ کسی نئے جرم میں ملوث نہیں ہونا چاہئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بینائی سے متاثر کشمیر کے عرفان احمد نے سول سروس امتحان میں کامیابی حاصل کرلی

مزید برآں اسے حکم دیا گیا کہ مقدمہ ختم ہونے تک ہر تین ماہ بعد متعلقہ پولیس اسٹیشن میں اپنی حاضری درج کرائے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو متعلقہ ایس ایچ او فوراً عدالت کو اطلاع دے گا۔ اگست۲۰۲۳ءمیں جب مونو مفرور تھا تو اس معاملے پر راجستھان کی اشوک گہلوت حکومت اور ہریانہ کی منوہر لال کھٹر حکومت کے درمیان سیاسی تنازع بھی پیدا ہوا تھا۔ گہلوت نے ہریانہ پولیس پر تعاون نہ کرنے کا الزام لگایا تھا، جبکہ ہریانہ پولیس نے راجستھان پولیس کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی تھی۔ ستمبر۲۰۲۳ء میں ہریانہ پولیس نے مونو کو حراست میں لے کر راجستھان پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ پولیس کے مطابق بعض ملزمان سے پوچھ گچھ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ’’جنید کی موت پہلے فیروز پور جھرکا میں ہوئی تھی، جبکہ بعد میں بھیوانی میں ناصر کو گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا۔ اس کے بعد گاڑی اور دونوں لاشوں پر پٹرول ڈال کر انہیں آگ لگا دی گئی۔ ‘‘یہ بیان اس وقت کے بھرت پور رینج کے آئی جی گورو سریواستو نے دیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK