کاکروچ جنتا پارٹی کی پریس کانفرنس، اگر۲؍ دن میں استعفیٰ نہ دیا تو پورے ملک میں شدید احتجاج کیا جائیگا، جنتر منتر تحریک کا بھی اشارہ۔
EPAPER
Updated: September 25, 2026, 9:12 AM IST | Fazil Ahmed | New Delhi
کاکروچ جنتا پارٹی کی پریس کانفرنس، اگر۲؍ دن میں استعفیٰ نہ دیا تو پورے ملک میں شدید احتجاج کیا جائیگا، جنتر منتر تحریک کا بھی اشارہ۔
الیکشن کمیشن کی ایس آئی آر مہم اور ووٹر لسٹ سے متعلق بعض فیصلوں پرسنگین اختلافات کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں ۴۸؍ گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ پارٹی نے بالکل واضح اور صاف لفظوں میں کہا کہ اگر ۴۸؍ گھنٹے کے اندر اندر گیانیش کمار نے استعفیٰ نہیں دیا تو ملک بھر میں احتجاج شروع کیا جائے گا۔ پارٹی نے دہلی میں دوبارہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے کا بھی انتباہ دیا ہے۔جمعرات کو نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں سی جے پی کے بانی اور کنوینر ابھیجیت دِپکے، شریک کنوینر سورو داس اور ترجمان اشوتوش رانکا نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھئے:کیرالا فلم فیسٹیول میں دہلی کے صفائی ملازمین پر بنی دستاویزی فلم کی نمائش مسترد
ابھیجیت دپکے نے کہا کہ پارٹی گیانیش کمار کے استعفیٰ تک اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ۴۸؍ گھنٹے کے اندر استعفیٰ نہیں دیا گیا تو پہلے ملک گیر احتجاج کیا جائے گا اور اس کے بعد دہلی میں ’جنتر منتر پر دوبارہ احتجاج کیا جائے گا۔ دپکے نے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گیانیش کمار کے الیکشن کمشنر بننے کے بعد مہاراشٹر اور اتر پردیش میں دو کروڑ ووٹروں کے نام ہٹائے گئے، جبکہ مغربی بنگال میں ۹۷؍ لاکھ لوگوں کو ووٹنگ سے محروم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں اب تک ۱۳؍کروڑ ووٹ ہٹائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخابات میں جیتنے والے این ڈی اے اور ہارنے والے انڈیا الائنس کے درمیان صرف تین فیصد کا فرق تھا۔ اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام ہٹایا جانا انتخابی نتائج پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ دپکے نے کہاکہ انتخابی نشانات سے جڑے معاملات میں بھی الیکشن کمیشن کے کردار پر سوال اٹھے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ این سی پی اور شیو سینا کے انتخابی نشانات چھین کر بی جے پی کی ’’شیل ‘‘پارٹیوں کو دے دیے گئے۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے ساتھ بھی ایساہی کیا جارہا ہے۔ اسی لئے ہم کہہ رہے ہیں کہ گیانیش کمار کو الیکشن کمشنر کے عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینیوں نے قرض معافی مہم میں ۷۵؍ ملین شیکل کے چیک، کھاتے جلا دیے
سی جے پی کے مطالبات کیا ہیں؟
گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹایا جائے اور ان کے خلاف مجرمانہ کارروائی شروع کی جائے۔ساتھ ہی یہ واضح کیا جائے کہ انہیں ہدایات کون دے رہا ہے۔
آنے والے تمام انتخابات کو ملتوی کرنے اور ایس آئی آر کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
سپریم کورٹ ایس آئی آر سے متعلق فائلوں کو ضبط کر کے اپنی نگرانی میں لے تاکہ ریکارڈ محفوظ رہے۔
الیکشن کمشنرس سے متعلق۲۰۲۳ء کے قانون کو منسوخ کیا جائے اور ایسا نیا قانون بنایا جائے جس میںکمشنرس کا انتخاب منصفانہ طریقے سے ہواور اس میں حکومت کی اکثریت نہ ہو۔
پارٹی نے بالکل صاف اور واضح لفظوں میں کہا کہ اگر ۴۸؍ گھنٹے کے اندر چیف الیکشن کمشنر نےاستعفیٰ نہیں دیا تو ان کے خلاف پورے ملک میں شدید احتجاج کیا جائے گا اور جنتر منتر پر جین زی دوبارہ پہنچ جائیں گے۔