’انڈین ایکسپریس‘ کی دوسری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوا کے انتخابی افسر نے اہل ووٹروں کے تعلق سے ۷؍ دنوں میں ۸؍ ای میل بھیجے، لیکن مرکزی الیکشن کمیشن نے ایک بھی ای میل کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ راہل گاندھی کی پریس کانفرنس ، سی ای سی گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ، الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ انہیں تحفظ دے رہے ہیں، راہل نے انتخابی عمل اور ووٹوں کے تحفظ پر بھی سوال اٹھائے۔
چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبہ پر یوتھ کانگریس نے دہلی میں زبردست احتجاج کیا۔ تصویر: پی ٹی آئی
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی نا اہلی اور مرکز کے ساتھ ان کی سانٹھ گانٹھ کی پول کھولنے کے دوسرے دن اپنی تحقیقی رپورٹ کے دوسرے حصے میں انڈین ایکسپریس نے گوا میں کی گئی انتخابی گڑبڑیوں کی رپورٹ پیش کی ہے جس سے الیکشن کمیشن پر مزید سوال اٹھنے لگے ہیں اور گیانیش کمار کی برطرفی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں کیا ہے ؟
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوا کے انتخابی افسران نے اہل ووٹروں کی شمولیت کے تعلق سے ۷؍ دنوں میں ۸؍ ای میل بھیجےلیکن الیکشن کمیشن نے ایک بھی ای میل کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا اور اس کا اثر یہ ہوا کہ کئی اہل ووٹرس ووٹ نہیں دے پائے۔ یہ انکشاف ایک بار پھر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی من مانی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شروری نے ممبئی کے رائل اوپیرا ہاؤس کو تشہیر کیلئے بہتر جگہ قرار دیا
معاملہ کیا ہے ؟
دراصل معاملہ فروری کا ہے جب گوا میں ایس آئی آر کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق۱۷؍ فروری کو گوا میں ایس آئی آر کے تحت حتمی ووٹر لسٹ جاری ہونےسے ۴؍ دن قبل ریاست کے چیف الیکٹورل افسر نے دہلی میں الیکشن کمیشن کو خط لکھا تھا۔ ۷؍دنوں میں یہ ان کا آٹھواں ای میل تھا۔ خط کے ساتھ ۹۷؍ اہل ووٹرز کی فہرست بھی تھی۔ ان ۹۷؍ ووٹرس کی گوا کے ہی ای آر او نے سپریم کورٹ کے طے کردہ عمل کے مطابق سماعت کی ، جانچ کی کارروائی انجام دی اور اہل پایا تھا۔ ای میل میں مرکزی الیکشن کمیشن کو مطلع کیا گیا تھا کہ انھیں ہٹانے کے پرانے فیصلوں کو تبدیل کرنا ہوگا لیکن ای آر او سافٹ ویئر (ای سی آئی نیٹ) کے ذریعہ ان فیصلوں کو وہ تبدیل نہیں کرسکے کیوں کہ ایسا کرنے کی اجازت دہلی سے کنٹرول ہوتی تھی اور وہاں سے کوئی اجازت نہیں دی گئی ۔
گوا الیکشن کمشنر کا بیان
رپورٹ کے مطابق جب ریاستی الیکشن کمیشن سےسوال کیا گیا کہ کئی ووٹر اہل ہونے کے باوجود حتمی ایس آئی آر لسٹ میں شامل نہیں کئے گئے تو گوا کے چیف الیکٹورل افسر سنجے گوئل نے بتایا کہ ہم نے مرکزی الیکشن کمیشن کو ان معاملات کے بارے میں مطلع کیا تھا اور انہیں شامل کیا جانا چاہئے تھا لیکن سافٹ ویئر میں منطقی خامیوں کی وجہ سے ان ووٹرس کو’’ فلیگ‘‘ کر دیا گیا تھا۔ سنجے گوئل نے یہ بھی بتایا کہ ووٹرز کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ اُن کا تھا لیکن ای آر او سطح پر ووٹرس کو پھر سے شامل کرنے کے لئے سافٹ ویئر میں التزام ہونا چاہئے۔
مسئلہ سافٹ ویئر اور اجازت کا ہے
قانون کے مطابق ہر اسمبلی حلقہ کی ووٹر لسٹ اس کے ای آر او کے ذریعہ تیار کی جاتی ہے، جو ہر دعوے اور اعتراضات کی سماعت کرتا ہے اور ہر نام پر فیصلہ کرتا ہے۔ جنوری سے ملک کی ہر ووٹر لسٹ ای سی آئی نیٹ پر موجود ہے۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جسے الیکشن کمیشن نے اپنے سسٹم کو ایک ساتھ لانے کیلئے لانچ کیا تھا اور اس کا رول-مینجمنٹ ماڈیول ’ای آر او نیٹ‘ ہے۔ اس پر ای آر او کیا کر سکتا ہے، یہ دہلی میں الیکشن کمیشن کے آئی ٹی ڈویژن کے ذریعہ مقرر کردہ اجازت سے طے ہوتا ہے۔ اسی لئے ووٹر لسٹ میں بہت سے نام اپڈیٹ نہیں ہوپارہے ہیں۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ انہیں تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کی تقرری وزیر اعظم مودی نے کی تھی اور ان کے خلاف پہلے لکھے گئے خطوط پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی کیونکہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ انہیں بچا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کا ایس ایم آر برآمدات کے لیے عملی منصوبے کا اعلان
پریس کانفرنس میں سنگین الزامات
الیکشن کمیشن میں گڑبڑیوں کے موضوع پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے پاس اس معاملے سے متعلق متعدد ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں وہ پہلے کبھی نہیں تھا اور ہندوستان میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔
گیانیش کمار کو کٹھ پتلی قرار دیا
راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت پڑھے لکھے ہیں اور انہیں سمجھنا چاہئے کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق انتخابی عمل میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ہندوستان کے بنیادی نظریہ اور جمہوریت کے خلاف ہےجبکہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری لوگوں کے ووٹوں کی حفاظت کرنا ہے۔ راہل نے واضح طور پر کہا کہ گیانیش کمار کٹھ پتلی ہیں۔ ان کے پیچھے بیٹھےلوگ انہیں استعمال کررہے ہیں۔
مودی اور شاہ کی تفتیش کا مطالبہ
کانگریس لیڈرنے کہا کہ گیانیش کمار کو فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے ووٹ کو ہائی جیک کیا جا رہا ہے اور اس معاملے میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی سازش کی تحقیقات ہونی چا ہئے۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے ووٹ چوری کے تعلق سے کی گئی اپنی کئی سابقہ پریس کانفرنسوں کے سلائڈ شوز بھی دکھائے ۔ ساتھ ہی ایک سلائڈ شو میں ووٹ چوری کے ماسٹر مائنڈس اور ووٹ چوری انجام دینے والے افراد کی تصاویر دکھاتے ہوئے کئی تلخ سوال پوچھے۔
یہ بھی پڑھئے: دنیا کے نایاب ترین پرندے کو نیوزی لینڈ کا ’’برڈ آف دی ایئر‘‘ قرار دیا گیا
حکومت مخالف رجحان کاذکر
پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے حکومت کے خلاف عوامی رجحان کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مہاراشٹر، ہریانہ اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں حکومت مخالف رجحان کا اثر کیوں نظر نہیں آیا ، بی جے پی مسلسل انتخابات میں کامیابی کیسے حاصل کر رہی ہے۔
حکومت مخالف رجحان
راہل گاندھی نے حکومت مخالف رجحان کے بارے میں کہا کہ اس سے کوئی حکومت بچ نہیں سکتی۔ ہریانہ میں مختلف حکومتوں کے خلاف برسوں سے موجود یہ رجحان ختم ہو گیا، مہاراشٹر میں بھی ایسا ہوا، جبکہ گجرات سمیت کئی دیگر ریاستوں میں بھی اس رجحان کے بارے میں سوال اٹھتا ہے۔
راہل نے اس کا موازنہ ایسے ممالک سے کیا جہاں جمہوری نظام موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق اور شمالی کوریا میں اینٹی انکم بینسی نہیں ہوتی کیونکہ وہاں جمہوریت نہیں ہے۔ ان کے مطابق اسی تناظر میں ہندوستان میں انتخابی عمل کا تحفظ ضروری ہے۔