Inquilab Logo Happiest Places to Work

بورڈ آف پیس اسرائیل کو غزہ امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کرے، حماس کا مطالبہ

Updated: August 17, 2026, 3:03 PM IST | Gaza

حماس نے بورڈ آف پیس اور ثالثی کرنے والے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے، جنگ بندی کی خلاف ورزیاں روکنے اور دوسرے مرحلے کے لائحۂ عمل کی منظوری دینے پر مجبور کریں، یہ مطالبہ حماس کی قیادت اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے جیرڈ کشنر کے درمیان قاہرہ میں ہونے والی دو گھنٹے سے زائد طویل ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے، حماس نے ٹرمپ کے لائحۂ عمل کے دوسرے مرحلے کی منظوری کا اعادہ کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا، امدادی سامان کی فراہمی، انتظامی کمیٹی کے قیام اور غزہ کی تعمیرِ نو شروع کرنے کو اپنی اہم ترجیحات قرار دیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

حماس نے بورڈ آف پیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ کیلئے امن منصوبہ قبول کرنے پر ’’مجبور‘‘ کرے۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب حماس کی قیادت نے قاہرہ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے جیرڈ کشنر سے ملاقات کی۔ حماس نے ایک بیان میں بورڈ آف پیس اور ثالثی کرنے والے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’قابض فریق کو پہلے مرحلے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے، تمام خلاف ورزیاں ختم کرنے، ہلاکتوں اور فوجی دراندازیوں کو روکنے اور دوسرے مرحلے کیلئے لائحۂ عمل کی منظوری دینے پر مجبور کریں۔‘‘ قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات میں بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف بھی شریک تھے۔ مذاکرات دو گھنٹے سے زائد جاری رہے۔ واضح ہو کہ یہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ۱۵؍ نکاتی لائحۂ عمل کے دوسرے مرحلے کی جانب پیش رفت اسرائیل کی جانب سے اسے مسترد کیے جانے کے بعد تعطل کا شکار ہے، جبکہ غزہ میں اسرائیلی حملے بھی دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: حماس کے اعلیٰ سطحی وفد کا مصری حکام کے ساتھ مذاکرات

تخفیف اسلحہ کی شرائط

حماس کے عہدیداروں نے جیرڈ کشنر کے سامنے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی تفصیلات پیش کیں اور کہا کہ اسرائیل کی پیشگی منظوری کے بغیر نئے اقدامات قبول نہیں کیے جائیں گے۔ کشنر نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ڈونالڈ ٹرمپ منصوبے کو آگے بڑھانے کیلئے پرعزم ہیں اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت کرتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی انضمام یا منصوبے کے آئندہ مراحل کی جانب پیش رفت سے قبل فلسطینی دھڑوں کو غیر مسلح کرنا ایک بنیادی شرط ہے۔

ایکسِیوس اور رائٹرز کی جانب سے ذرائع کے حوالے سے شائع کردہ اطلاعات کے مطابق، بورڈ آف پیس حماس سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اپنا فوجی ڈھانچہ ختم کرے، بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی کی اجازت دے اور انتظامی اختیارات ایک آزاد فلسطینی ماہرین کی کمیٹی کو منتقل کرے۔ اس انتظام کے تحت مستقبل میں غزہ کی حکمرانی میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ توقع ہے کہ جیرڈ کشنر پیر کے روز تل ابیب جائیں گے، جہاں وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کرکے دونوں فریقوں کی باہمی ذمہ داریوں پر بات کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے: ’ٹرمپ انتظامیہ ایران پر جوہری حملے پر غور کر رہی ہے‘: مارجوری ٹیلر گرین کا بڑا دعویٰ

اسرائیلی حکام نے امریکہ کی جانب سے مخصوص اہداف کو نشانہ بنا کر قتل کرنے کی کارروائیاں روکنے کے مطالبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ نیتن یاہو کا مؤقف برقرار ہے کہ اسرائیلی فوج کے کسی بھی انخلا سے پہلے فلسطینی تنظیموں کو غیر مسلح کرنا ضروری ہے۔ ملاقات کے بعد حماس نے ایک بار پھر ٹرمپ کے لائحۂ عمل کے دوسرے مرحلے کی باقاعدہ منظوری کا اعادہ کیا۔ حماس نے اپنی ترجیحات میں فوری طور پر فوجی دراندازیوں کا خاتمہ، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا، امدادی سامان کی فراہمی، انتظامی کمیٹی کا قیام اور غزہ کی تعمیرِ نو شروع کرنا شامل قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK