• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہارورڈ کے سابق لیکچرر کا دعویٰ، ’’جنت‘‘ کا سراغ پالیا، کائناتی افق کے پار

Updated: February 25, 2026, 5:01 PM IST | New York

ہارورڈ میں فزکس ڈپارٹمنٹ کے سابق لیکچرر مائیکل گیلن نے تجویز کیا ہے کہ ’’جنت‘‘ کائنات میں ایک حقیقی جسمانی مقام ہو سکتی ہے جو کائناتی افق کے پار واقع ہے۔ تاہم دیگر ماہرین فلکیات نے اس نظریے کو سائنسی کے بجائے مابعد الطبیعاتی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

سابق ہارورڈ فزکس لیکچرر اور سائنس کمیونیکیٹر Michael Guillen (مائیکل گیلن) نے اپنی حالیہ تحریر میں دعویٰ کیا کہ جس مقام کو ہم ’’جنت‘‘ کہتے ہیں، وہ ممکنہ طور پر کائناتی افق (Cosmic Horizon) سے پرے واقع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ایڈون ہبل کے دریافت کردہ ہبل قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے تیزی سے دور ہو رہی ہیں، حتیٰ کہ کچھ کی رفتار روشنی کے قریب پہنچ رہی ہے۔ گیلن کے مطابق، اگر کائناتی افق سے آگے ایک مکمل کائنات موجود ہے تو وہاں ایسی ہستی یا مقام کا تصور کیا جا سکتا ہے جو ہماری نظر سے ہمیشہ اوجھل رہے گا۔ ان کے اندازے کے مطابق یہ فاصلہ زمین سے تقریباً ۴۳۹؍ ارب کھرب کلومیٹر ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا فوجی ہیلی کاپٹر پھلوں کی منڈی میں گرکر تباہ ، ۴؍ کی موت

کنیکٹیکٹ کالج کے فلکیات کے اسوسی ایٹ پروفیسر ایلکس گیانیناس نے اس نظریے سے اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’کائناتی افق کوئی جسمانی جگہ نہیں ہے، بلکہ ایک محدود حد ہے جس سے آگے ہم دیکھ نہیں سکتے یا بات چیت نہیں کر سکتے۔‘‘ ماہرین کے مطابق کائنات تقریباً ۸ء۱۳؍ ارب سال پرانی ہے اور چونکہ روشنی کی رفتار تقریباً ۳؍ لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے، اس لیے ہم صرف ان علاقوں کو دیکھ سکتے ہیں جہاں سے روشنی کو زمین تک پہنچنے کے لیے کافی وقت ملا ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کائنات وہاں ختم ہو جاتی ہے۔
گیلن نے اپنے دلائل میں البرٹ آئنسٹائن کے خصوصی اور عمومی نظریۂ اضافیت کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے مطابق، اضافیت کے اصولوں کے تحت وقت کائناتی افق پر ’’رک‘‘ سکتا ہے، جس کے بعد ماضی، حال اور مستقبل کا تصور باقی نہیں رہتا۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا مقام موجود ہو جہاں وقت کا وجود نہ ہو، تو وہ مذہبی تصورات میں بیان کردہ ’’ابدیت‘‘ سے مطابقت رکھ سکتا ہے۔ مزید یہ کہ جدید کاسمولوجی کے مطابق کائناتی افق کے کنارے مشاہدہ کائنات کی قدیم ترین اشیاء پائی جاتی ہیں، جس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ اس سے آگے کی حقیقت ’’بگ بینگ‘‘ سے بھی پہلے کی ہو۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی قانون ساز نے مقبوضہ مغربی کنارے اورغزہ میں امریکی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی کا بل پیش کیا

بیشتر سائنسدان اس نظریے کو سائنسی مفروضے کے بجائے فلسفیانہ یا مابعد الطبیعاتی قیاس آرائی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، چونکہ کائناتی افق سے آگے کوئی مشاہدہ یا تجربہ ممکن نہیں، اس لیے اس بارے میں کوئی سائنسی دعویٰ ثابت یا رد نہیں کیا جا سکتا۔ بعض مفکرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ بگ بینگ کو ’’آغاز‘‘ کہنا بعض اوقات تخلیق کی مذہبی کہانیوں سے مماثلت پیدا کر سکتا ہے، جو سائنسی مکالمے میں احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK