بی ایم سی کی جانب سے تقریباً ۱۲ ؍سال کی طویل تاخیر کے بعد ہاکرس کو کیو آر کوڈ پر مبنی شناختی کارڈ جاری کرنے کا عمل اب تنازع اور غم و غصے کا شکار ہو گیا ہے۔
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 11:42 AM IST | Sajid Mehmood Shaikh | Mumbai
بی ایم سی کی جانب سے تقریباً ۱۲ ؍سال کی طویل تاخیر کے بعد ہاکرس کو کیو آر کوڈ پر مبنی شناختی کارڈ جاری کرنے کا عمل اب تنازع اور غم و غصے کا شکار ہو گیا ہے۔
بی ایم سی کی جانب سے تقریباً ۱۲ ؍سال کی طویل تاخیر کے بعد ہاکرس کو کیو آر کوڈ پر مبنی شناختی کارڈ جاری کرنے کا عمل اب تنازع اور غم و غصے کا شکار ہو گیا ہے۔ اسی عمل کے دوران ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک غریب پھیری والا کیو آر کوڈ حاصل کرنے کی جلد بازی اور ذہنی دباؤ کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ولے پارلے کے ہنومان روڈ پر پھیری لگانے والے ببلو رام اوتار ورما کی اتر پردیش سے ممبئی واپسی کے دوران ٹرین میں دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی۔ اس واقعے کے بعد ممبئی کی ہاکر برادری میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب ۲۵۸؍ جھونپڑوں پر ریلوے کا بلڈوزر
آزاد ہاکرس یونین کے جنرل سیکریٹری جے شنکر سنگھ نے انقلاب کو بتایا کہ ببلو ورما کا آبائی وطن اترپردیش کے ضلع مئو کا گھوسی کا چیوتی دند (نئی بازار) ہے۔ وہ کچھ دنوں کے لئے اپنے گاؤں گئے ہوئے تھے۔ اسی دوران انہیں اطلاع ملی کہ بی ایم سی نے پھیری والوں کو کیو آر کوڈ والے شناختی کارڈ تقسیم کرنے شروع کر دیئے ہیں اور ان کا ممبئی میں موجود ہونا لازمی ہے۔ روزگار چھن جانے کے خوف اور شناختی کارڈ حاصل کرنے کی فکر میں انہوں نے فوراً ممبئی واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ عجلت میں واپسی کے سبب ببلو ورما کو ٹرین کا ریزرویشن ٹکٹ نہ مل سکا اور انہیں جنرل بوگی میں سفر کرنا پڑا۔ اتر پردیش میں جاری شدید گرمی اور ڈبے میں حد سے زیادہ بھیڑ کے باعث ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ ٹرین کے گھوسی سے جونپور پہنچنے سے قبل ہی انہیں شدید دل کا دورہ پڑا اور وہ موقع ہی پر دم توڑ گئے۔متوفی کے اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے اور ہاکرس تنظیموں میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔