امریکہ نے تصدیق کی کہ اردن میںاس کے۲؍ فوجی ہلاک ہوئے،۴؍ زخمی اور ایک لاپتہ ہے ، امریکی میڈیا نےمتعدد ہیلی کاپٹرز بھی تباہ ہونے کا دعویٰ کیا۔
EPAPER
Updated: July 20, 2026, 11:02 AM IST | Washington/Tehran
امریکہ نے تصدیق کی کہ اردن میںاس کے۲؍ فوجی ہلاک ہوئے،۴؍ زخمی اور ایک لاپتہ ہے ، امریکی میڈیا نےمتعدد ہیلی کاپٹرز بھی تباہ ہونے کا دعویٰ کیا۔
امریکی فوج نے بتایا ہے کہ اس نے ایران پر فضائی حملوں کی آٹھویں رات مکمل کر لی ہے۔ ان حملوں میں خاص طور پر پاسداران انقلاب کی ان قوتوں کو نشانہ بنایا گیا جو اردن میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت میں ملوث تھیں۔ اسی دوران ایران نے کویت میں بھی اہداف پر ضربیں لگانا جاری رکھا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے ایرانی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا جن میں پاسداران انقلاب کی وہ فورسز شامل ہیں جنہوں نے ۱۷؍ جولائی کو اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے کیے تھے۔
سینٹکام نے اعلان کیاکہ اردن میں ایرانی گولہ باری کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ ۷؍ جولائی کو لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد ہلاک ہونے والے پہلے امریکی فوجی ہیں۔ اس طرح ۲۸؍ فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد ۱۶؍ ہو گئی ہے۔ایرانی خبر رساں ایجنسیوں مہر اور تسنیم کے مطابق امریکی طیاروں نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع شہر سیرک پر حملے کیے جبکہ سرکاری ایجنسی ارنا کا کہنا ہے کہ ایک امریکی حملے میں جنوبی صوبے ہرمزگان کا شہر حاجی آباد نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب ایرانی مسلح افواج نے بتایا کہ اس نے امریکی بمباری کے جواب میں کویت میں موجود دو امریکی اڈوں کو خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ان حملوں میں کویت کے الادیراع اڈے پر موجود امریکی فوج کے اسلحہ ڈپو اور علی السالم ایئر بیس پر موجود پیٹریاٹ ریڈار سسٹم اور ایئر سرویلانس ریڈار کو نشانہ بنایا گیا۔کویتی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بیلجیم : مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے سامان کی درآمد پر پابندی کی منظوری
یہ پیش رفت کویت پر جمعہ اور ہفتہ کے روز ہونے والے حملوں کے بعد ہوئی ہے جن میں دو بجلی گھر اور تیل کے شعبے کا ایک مقام متاثر ہوا تھا۔ دوسری جانب امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل حملے میں اردن میں تعینات دو اہلکار ہلاک، ایک لاپتہ جبکہ دیگر ۴؍ زخمی ہوگئے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے یہ حملہ جمعہ کو اردن میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر کیے تھے۔امریکی سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجی ایران کے حملوں کے خلاف دفاعی کارروائیوں میں مصروف تھے کہ اسی دوران بیلسٹک میزائل حملے کی زد میں آ گئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کے نتیجے میں ۲؍ اہلکار موقع پر ہلاک جبکہ ۴؍ اہلکار زخمی ہوگئے اور ایک لاپتہ ہے۔
ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کو باضابطہ اطلاع دیے جانے تک ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی۔تاحال ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں کی ہلاکت سے متعلق سینٹکام کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ لاپتہ فوجی کی تلاش کے لیے امدادی اور فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ دریں اثناء امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اُردن میں ایرانی حملوں میں کئی امریکی ہیلی کاپٹروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اردن میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں درجنوں امریکی فوجی زخمی اور بڑی تعداد میں ہیلی کاپٹروں کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر ایرانی حملوں میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کے پاس نہ صرف قابل ذکر میزائل ہتھیار موجود ہیں بلکہ اس نے امریکی فضائی دفاعی نظام سے بچنا بھی سیکھ لیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران: سپریم لیڈر نے ٹرمپ کے دستخط کو بے وقعت قرار دیا، وعدے سے مکرنے کا الزام
ایران کا امریکی ’ایم کیو- ۹؍ڈرون‘ مارگرانے کا دعویٰ
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے ملک کے جنوب مغربی شہر اہواز کی فضائی حدود میں ایک امریکی’ایم کیو-۹؍‘ ریپر ڈرون کو جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا ہے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے کارروائی کے دوران امریکی ڈرون کو نشانہ بنایاجس کے بعد وہ تباہ ہو کر گر گیا۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کارروائی میں ایران کے نئے اور جدید فضائی دفاعی نظام کا استعمال کیا گیا، تاہم اس نظام کی نوعیت یا تکنیکی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں ۔ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی ’ایم کیو ۹؍‘ ڈرون نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور بعض اوقات یہ حملہ آور کارروائیوں کی صلاحیت بھی رکھتا ہے ۔یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں اور سخت بیانات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ امریکی حکام نے تاحال ایران کے اس دعوے کی تصدیق نہیںکی ہے۔