استعفیٰ نہ دینے پرسخت احتجاج کا نیشنل اسٹوڈنٹس آف انڈیا مہاراشٹر کے صدر ساگر سالونکھے اور ممبئی یوتھ صدر زینت شبرین کا انتباہ۔بی جےپی حکومت پراقلیتو ں،غریبوں اور پسماندہ طبقات کو تعلیم سے دوررکھنے کا الزام لگایا۔
EPAPER
Updated: July 28, 2026, 12:11 PM IST | Iqbal Ansari | Dadar
استعفیٰ نہ دینے پرسخت احتجاج کا نیشنل اسٹوڈنٹس آف انڈیا مہاراشٹر کے صدر ساگر سالونکھے اور ممبئی یوتھ صدر زینت شبرین کا انتباہ۔بی جےپی حکومت پراقلیتو ں،غریبوں اور پسماندہ طبقات کو تعلیم سے دوررکھنے کا الزام لگایا۔
نیٹ پیپرلیٖک کے خلاف طلبہ کے زبردست احتجاج کے بعد آخرکارمرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کو استعفیٰ دینا پڑا۔ اب ریاست میں ٹی ای ٹی پیپرلیٖک معاملے میں کانگریس کی جانب سے ریاستی وزیرتعلیم دادابھسےسے استعفے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔کانگریس کی نیشنل اسٹوڈنٹس آف انڈیا (این ایس یو آئی) مہاراشٹر کے صدر ساگر سالونکھے اور ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین نے کہا ہے کہ نیٹ امتحان کا پیپرلیٖک ہوا تھا اسی طرح ریاست میں سی ای ٹی اور ٹی ای ٹی کے پرچے بھی لیٖک ہوئے جس سےتقریباً۶؍لاکھ طلبہ اوراساتذہ متاثر ہوئے ہیں۔ بی جے پی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے لاکھوں طلبہ، اساتذہ اور والدین کو نقصان پہنچا ہے اور ان کے خواب چکنا چور ہوئے ہیں اس کیلئے ریاستی وزیر تعلیم دادا بھسے ذمہ دار ہیں۔ان لیڈروں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیرتعلیم دادا بھسے ان امتحانا ت کے پیپر لیٖک کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ۷؍ دن کے اندر استعفیٰ دیں بصورت دیگر ہم خیال جماعتوں اور تنظیموں کےساتھ کانگریس کی یوتھ اور طلبہ تنظیموں کے اراکین سڑکوں پر اتریں گے اور سخت احتجاج کریں گے۔ ان لیڈروں نے یہ الزام بھی عائد کیاکہ بی جےپی حکومت اقلیتوں ، پسماندہ اور غریب طلبہ کو تعلیم سے دور رکھنے کا کام کر رہے ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے: ریا کوآن لائن دھمکیاں، شکایت درج
پیر کو کانگریس کے دفتر تلک بھون (دادر) میں ساگر سالونکھے اور زینت شبرین نے پریس کانفرنس کی جس میں مذکورہ اعلان کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’ اگر ۷؍ دن میں دادابھسے نے استعفیٰ نہیں دیا تو ان کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج کیا جائے گا ۔‘‘
’’دادابھسے جین زی کے رپورٹ کارڈ میں فیل ‘‘
اس پریس کانفرنس میں این ایس یو آئی اور یوتھ کانگریس نے جین زی یونیورسٹی کے ذریعے وزیر تعلیم دادا بھسے کا علامتی رپورٹ کارڈ بھی پیش کیا جس میں ۱۰۰؍ میں سے صفر نمبر دیئے گئے اور وزیر تعلیم کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا۔ ساگر سالونکھے اور زینت شبرین نے کہاکہ جین زین نے ریاستی وزیر تعلیم کا جو رپورٹ کارڈ تیار کیا ہے، اس میں دادا بھسے پیپر لیٖک روکنے میں (۲۰/۰)، سرکاری اسکولوں کو بند ہونے سے روکنے میں (۲۰/۰)، طالبات کےڈراپ آؤٹ کو روکنے میں (۲۰/۰)، اساتذہ پر بڑھتے دیگر کاموں کے بوجھ کو کم کرنے (۲۰/۰) اور طلبہ کو روزگار فراہم کرنے میں (۲۰/۰) اور پوری طرح ناکام (۱۰۰/۰) ثابت ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مونوریل، میٹرو۳؍ اور مہالکشمی اسٹیشن کو جوڑنے والے اسکائی واک کا کام۹۰؍فیصد مکمل
اساتذہ کو بی ایل او کی ڈیوٹی دینے سے تعلیم بری طرح متاثر
اس موقع پر ساگر سالونکھے نے کہا کہ ریاست میں تعلیمی نظام تباہ ہوچکا ہے۔ بی جے پی مہایوتی حکومت نے تعلیم کو خدمت کا نہیں بلکہ پیسہ کمانے کا ذریعہ بنایا لیا ہے۔ اساتذہ کو بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او)کا کام دینے سےا سکول ویران ہو گئے، بچے مشکلات کا شکار ہیں۔ جون مہینے سے نیا تعلیمی سال شروع ہو ا ہے لیکن اساتذہ کو ایس آئی آر کا کام سونپاگیا ہے جس کی وجہ سے پڑھائی نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی فرسٹ یونٹ ٹیسٹ منعقد ہو رہے ہیں۔ اضافی کام کے دباؤ سے اساتذہ کی دماغی صحت بگڑ گئی ہے، ممبئی میں ایک ٹیچر کی اسی ذہنی تناؤ کی وجہ سے موت ہو گئی۔ تینوں محکموں: اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ اور میڈیکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں افراتفری ہے۔
قبائلی طلبہ کوجھانسہ دےکر فیس وصولی جارہی ہے !
این ایس یو آئی کے صدر ساگر سالونکھے کے بقول ضلع نندوربار میں قبائلی طلبہ کو جھانسہ دے کر ہزاروں روپے وصول کئے جا رہے ہیں۔ بوگس نرسنگ اسکول قائم کیا گیا ہے۔ پونے کے سی ای او پی کالج میں طلبہ سےڈیولپمنٹ فیس کے نام پر ۸۱؍ہزار روپے، لیباریٹری فیس کے طور پر۲۲؍ہزار روپے اور ۱۷؍ہزار روپے ٹیوشن فیس کے طور پر وصول کئے جاتے ہیں، چندرکانت پاٹل کی وزارت میں اس طرح لوٹ مارمچی ہے۔اسی طرح میڈیکل ایجوکیشن میں بھی لوم مار مچی ہے۔انہوںنے مزید کہا کہ ’’ محکمہ تعلیم نے تعلیم کو پیسہ کمانے کا کاروبار بنا رکھا ہے، کالج میں داخلے کے عمل کیلئے۵؍کروڑ روپے کا ٹینڈر دیا گیا ہے لیکن۱۱؍ویں جماعت کے۴؍لاکھ طلبہ کو داخلہ دینا اب بھی باقی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر محکمہ تعلیم میں ان بے قاعدگیوں کو نہ روکا گیا تو ہم سڑکوں پر اتر کر حکومت سے جواب مانگیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’عوامی مقامات پر کچرا اور پلاسٹک پھینکے والوں کیخلاف کیس درج کرایا جائے‘‘
طالبات کے ڈراپ آؤٹ روکنے میں حکومت ناکام
زینت شبرین نے کہا کہ ’’اب بھی ریاست میں ۱۰ء۳؍ فیصد لڑکیاںنویں اور دسویں جماعت پہنچنے تک پڑھائی چھوڑ دیتی ہیں۔ ریاست کے ۸۹۰؍ اسکولوں میں طالبات کیلئے علاحدہ بیت الخلاء نہیںہے۔ بیڑ ، پربھنی اور ہنگولی اضلاع میں لڑکیوں کے ڈراپ آؤٹ کا فیصد زیادہ ہے۔‘‘
محکمہ تعلیم کی بدانتظامی اور بدعنوانی پر این ایس یو آئی کے ریاستی جنرل سیکریٹری ہریشی کیش کھنڈالے کو ایک پرزنٹیشن پیش کیا گیا۔ اس پریس کانفرنس میں ساؤتھ سینٹرل ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر پرگیہ دھاولے اور این ایس یو آئی کے ترجمان ریشیکیش کھنڈالے بھی موجود تھیں۔