Inquilab Logo Happiest Places to Work

پرائمری اسکولوں کے اساتذہ کو بی ایل او کی ڈیوٹی دینے کے خلاف عرضی

Updated: July 28, 2026, 12:15 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ہائی کورٹ نے حکومت کو دو ہفتے میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ، کہا کہ سرکار کے اس فیصلہ سے یقینی طور پر طلبہ کا تعلیمی نقصان ہورہا ہے۔

Filling out the BLOSIR form. (Photo: Inquilab)
بی ایل او ایس آئی آر کا فارم بھرتے ہوئے۔(تصویر: انقلاب)

ٹیچروں کو اضافی کام سونپے جانے پر اساتذہ کی تنظیموں نےبطور بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او) تعینات کرنے ، اس کام کے سبب انہیں ذاتی طور پر ہونے والی پریشانی کے علاوہ بچوں کا تعلیمی نقصان ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ میںمفادعامہ کی عرضداشت داخل کی تھی ۔اس معاملہ میں بامبے ہائی کورٹ کی کولہاپور بنچ نے مہاراشٹر حکومت کو پرائمری اسکول کے اساتذہ کی بطور بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او)اور اسسٹنٹ بی ایل او کی تعیناتی کو چیلنج کرنے والی درخواست پر دو ہفتوں میں حلف نامہ کا داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ کورٹ نے اساتذہ کی اپیل کا جائزہ لینے کے بعد اپنے مشاہدہ میں یہ بھی کہا ہے کہ اساتذہ کو غیر تعلیمی کام سونپنے سے بچوں کا تعلیمی نقصان یقینی ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: ٹی ای ٹی پیپر لیٖک معاملے میں ریاستی وزیر تعلیم سے ۷؍ دن میں استعفیٰ کا مطالبہ

مہاراشٹر راجیہ پراتھمک شکشک مہاسنگھ اور ۴؍ ضلع پریشد اور میونسپل اسکولوں کے اساتذہ کی طرف سے دائردرخواست پرسماعت کرتے ہوئے جسٹس ملند جادھو اور نندیش پانڈے کی بنچ نے نوٹ کیا کہ اساتذہ کو پولنگ کے دنوں میں یا تعطیلات میںانتخابی ڈیوٹی تو سونپی جا سکتی ہے لیکن تعلیمی سلسلہ شروع ہونے کے بعد اساتذہ پر درس و تدریس کے علاوہ دیگر کام کا بوجھ ڈالنا نہ صرف ان کے ساتھ نا انصافی ہوگی بلکہ طلبہ کی تعلیم بھی متاثر ہوگی۔ کورٹ نے خصوصی طورپر پرائمری سطح پر چلائی جانے والے ضلع پریشد اسکولوں کے اساتذہ کو ایس آئی آر کی ڈیوٹی پر تعینات کرنے پر اعتراض کیا ہے ۔ مذکورہ معاملہ میں درخواست گزاروں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ۱۴؍ مئی کو جاری کردہ حکم ،۲۷؍ جون کو مہاراشٹرکے چیف الیکٹورل آفیسراور متعلقہ ضلعی سطح کے احکامات کو چیلنج کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے احکامات کے مطابق پرائمری اسکولوں کے اساتذہ کو بی ایل او کی ڈیوٹی انجام دینے کے علاوہ انتخابی سرگرمیوں سے منسلک کام بھی سونپے گئے ہیں۔ درخواست گزاروں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ سال بھر بی ایل او کے فرائض انجام دینے کے علاوہ گھر گھر جاکر رائے دہندگان کی تصدیق کرنا، ووٹروں کے ناموںکا اندراج کرنا اور ناموں کو حذف کرنےکے علاوہ آدھار کارڈ کی تصدیق کرناساتھ ہی ووٹر لسٹ اپڈیٹ کرنا اور انتخابات سے متعلق کام کرنا ان کے دائرہ کار میں نہیں آتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ریا کوآن لائن دھمکیاں، شکایت درج

اساتذہ تنظیم نے کورٹ کویہ بھی بتایا کہ مذکورہ کام کی انجام دہی نہ کرنے پر ان کے خلاف تادیبی کارروائیوں کے علاوہ ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی ہے۔ انہوںنے کورٹ سے محکمہ جاتی کارروائیوں کو روکنے، درج کی گئی ایف آئی آر کو خارج کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔

ہائی کورٹ کی  ۲؍ رکنی بنچ نے اس اپیل کا جائزہ لینے کے بعد حکومت اور ریاستی محکمہ تعلیم کو دو ہفتوں میں جواب داخل کرنےکی ہدایت دی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK