• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رائے گڑھ غرقابی حادثے کی اعلیٰ سطحی جانچ کا حکم جاری

Updated: October 03, 2026, 4:05 PM IST | Siraj Sheikh | Raigad

ریاستی وزیر گریش مہاجن نے کہا کہ خاطیوں کو بخشا نہیں جائےگا،پونے کی وِنرز اکیڈمی کو سیل کرنے کی کارروائی شروع، منتظمین کے خلاف کیس درج۔

This harrowing image is from Thursday, when bodies were recovered from the sea and laid out on the Diu coast. Photo: INN
یہ دل دہلادینے والی تصویر جمعرات کی ہے،جب دیویاگرساحل پر لاشیں سمندر سے نکال کر رکھی گئی تھیں۔ تصویر: آئی این این

ریاست کے ضلع رائے گڑھ کے مشہور سیاحتی مقام دیویاگر بیچ پرجمعرات کو پیش آنے والے انتہائی دردناک غرقابی واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں وزیر مملکت برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ گریش مہاجن نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ضلع ایس پی کو انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔انہوں نے واضح کہا کہ اس معاملے میں لاپرواہی برتنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔  یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب پونے کے علاقے آلندی سے تعلق رکھنے والی ایک نجی کوچنگ انسٹی ٹیوٹ ’وِنرز اکیڈمی‘کے طلبہ وہاں پکنک کے لئے گئے ہوئے تھے۔ سمندر کی لہروں کا صحیح اندازہ نہ ہونے کے باعث۸؍ طلبہ غرقاب ہو کر ہلاک ہو گئے۔

یہ بھی پڑھئے:اکھلیش یادو ناراض ساتھیوں سے ہاتھ ملائیں گے

تحقیقات کا حکم اور خاطیوں کے خلاف کارروائی

مہاراشٹر کے وزیر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ گریش مہاجن نے رائے گڑھ کے کلکٹر اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس(ایس پی) کو فون کر کے واقعہ کی تفصیلی معلومات لیں اور سخت انکوائری کا حکم دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوتاہی یا لاپرواہی برتنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔اس ضمن میں آلندی نگر پریشد کے صدر بلدیہ پرشانت کرہا ڈہے نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر کام کرنے اور طلبہ کی حفاظت میں سنگین غفلت اور لاپرواہی برتنے پر انتظامیہ کی جانب سے وِنرز اکیڈمی کے منتظمین کے خلاف مجرمانہ غفلت کا کیس درج کرنے کی کارروائی شروع ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ یہ کوچنگ کلاس بغیر رجسٹریشن اور غیر قانونی طور پر چلائی جا رہی تھیں، جس کے بعد اکیڈمی کی عمارت کو سیل کرنے کی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

یہ دردناک حادثہ کیسے پیش آیاتھا؟

پونے نے ۴۴؍ افراد کا ایک گروپ جس میں۴۲؍ طلبہ اور ۲؍ اساتذہ شامل تھے نجی بس کے ذریعے دیویاگر بیچ پہنچا تھا۔ ساحل پر تفریح کے دوران گیارہویں اور بارہویں جماعت  کے چند طلبہ سمندر میں نہانے کیلئے اترے۔ پانی کی گہرائی اور سمندری لہروں کے تیز بہاؤ کا درست اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے۸؍ طلبہ گہرے پانی میں ڈوب گئے۔ مقامی ریسکیو ٹیموں اور پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام۸؍ لاشوں کو برآمد کر لیا ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں متعلقین کے حوالے کر دی گئی۔

اعلیٰ حکام نے کیا کہا؟

وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس نے اس واقعہ کو انتہائی المناک اور دل دہلا دینے والا قرار دیا اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔  ریاست کی وزیر ادیتی تٹکرے نے بھی متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور یقین دلایا کہ مستقبل میں ساحلی علاقوں پر ایسے حادثات کو روکنے کے لئے نئے حفاظتی رہنما خطوط جاری کیے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK