Updated: June 02, 2026, 1:56 PM IST
| New Delhi
ان کامیابیوں کے باوجود، رپورٹ میں ہندوستان کی اے آئی کو اپنانے کی شرح اور اس میں ہونے والی سرمایہ کاری کے مابین ایک نمایاں فرق کی نشان دہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، عالمی اے آئی صارفین میں ہندوستان کا بڑا حصہ ہے، لیکن نجی اے آئی اسٹارٹ اپس کی سرمایہ کاری میں وہ صرف ۱۶ء۱ بلین ڈالر ہی راغب کرسکا۔
آئی سی آر آئی ای آر - پروسیس سینٹر فار انٹرنیٹ اینڈ ڈجیٹل اکانومی (ICRIER-Prosus Centre for Internet and Digital Economy) کی جانب سے جاری کردہ ’اسٹیٹ آف انڈیاز ڈجیٹل اکانومی‘ (SIDE) ۲۰۲۶ء رپورٹ کے مطابق، ہندوستان دنیا کی پانچویں سب سے بڑی ڈجیٹلائزڈ معیشت بن گیا ہے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان میں انفرادی رینکنگ میں چوتھے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی جی ڈی پی کے ۹۶ فیصد کی نمائندگی کرنے والے ۷۱ ممالک کے موازنے پر مبنی اس رپورٹ کے مطابق، ہندوستان ۲۰۲۵ء میں آٹھویں مقام سے تین پائیدان اوپر چڑھ کر ۲۰۲۶ء میں پانچویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔ ہندوستان اے آئی کی کارکردگی کے اشاریوں میں جرمنی، فرانس، جاپان، کنیڈا اور جنوبی کوریا جیسے ممالک سے آگے ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اب دنیا بھر میں اے آئی صارفین میں ہندوستان کا حصہ ۹ء۱۹ فیصد ہے جو چین کے ۵ء۲۰ فیصد کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ ہندوستان اور چین میں دنیا کے اے آئی صارفین کی تقریباً دو تہائی تعداد رہائش پذیر ہیں۔ ہندوستان کے پاس امریکہ کے بعد اے آئی ٹیلنٹ کا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا پول بھی موجود ہے اور یہ اے آئی مہارتوں کے پھیلاؤ (AI skills penetration) کے اشاریے میں عالمی سطح پر پہلے مقام پر ہے، جو مختلف پیشوں میں اے آئی کی صلاحیتوں کی وسعت کو ناپتا ہے۔ رپورٹ میں مصنوعی ذہانت پر ہندوستان کے پبلک سیکوریٹی کے مضبوط اعتماد کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ہندوستان کا ٹرسٹ اسکور ۴ء۸۳ رہا، جبکہ اس کے مقابلے میں سنگاپور کا اسکور ۶ء۵۵ اور چین کا اسکور ۳۳ تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی بہت مہنگا ثابت ہو رہا ہے ، مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ انسان سستے ہیں
ہندوستان ڈجیٹل طور پر فراہم کی جانے والی خدمات (digitally delivered services) کے میدان میں دنیا کا چوتھا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن کر بھی ابھرا ہے۔ ملک نے ۳۲۸ بلین ڈالر مالیت کی ڈجیٹل خدمات برآمد کیں۔ اس فہرست میں ہندوستان سے اوپر صرف امریکہ، برطانیہ اور آئرلینڈ ہے۔ رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ ہندوستان ان چند کم متوسط آمدنی والی معیشتوں میں سے ایک ہے جس نے ڈجیٹل تجارت میں یہ مقام حاصل کیا ہے۔
ان کامیابیوں کے باوجود، رپورٹ میں ہندوستان کی اے آئی کو اپنانے کی شرح اور اس میں ہونے والی سرمایہ کاری کے مابین ایک نمایاں فرق کی نشان دہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، عالمی اے آئی صارفین میں ہندوستان کا بڑا حصہ ہے، لیکن نجی اے آئی اسٹارٹ اپس کی سرمایہ کاری میں وہ صرف ۱۶ء۱ بلین ڈالر ہی راغب کرسکا۔ اس کے برعکس، امریکہ نے ۰۸ء۱۰۹ بلین ڈالر اور چین نے ۲۹ء۹ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی۔ رپورٹ میں اس عدم توازن کو ہندوستان کے بڑے چیلنجوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ اپنے بڑے ڈجیٹل فٹ پرنٹ اور ٹیلنٹ بیس کے باوجود ملک کو عالمی نجی اے آئی سرمایہ کاری کا صرف ایک فیصد حصہ ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہانگ کانگ، سوئزرلینڈ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے بڑا کراس بارڈر ویلتھ ہب بن گیا: بی سی جی رپورٹ
ہندوستان کی سب سے کمزور کارکردگی ”پروٹیکٹ اینڈ سسٹین“ (تحفظ اور پائیداری) کے زمرے میں رہی، جہاں اس نے ۳۲ واں مقام حاصل کیا۔ رپورٹ میں سائبر سیکوریٹی کی کمزوریوں، ڈجیٹل فراڈ اور ماحولیاتی پائیداری کے خدشات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ سائبر سیکیورٹی پر اخراجات ۰۶ء۳ بلین ڈالر رہے، جبکہ ہندوستان نے ۲۰۲۵ء میں انٹرپرائز رینسم ویئر کے ۱۳۷ متاثرین ریکارڈ کئے اور جی۔۲۰ ممالک کے ای میل لیکس کا ۱۰ فیصد حصہ ہندوستان سے تھا۔
رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اے آئی معیشت میں ہندوستان کی مستقبل کی ترقی کا انحصار کمپیوٹ انفراسٹرکچر (تخمینی ڈھانچے) کی توسیع، رسک کیپیٹل میں اضافے، یونیورسٹیوں اور اسٹارٹ اپس کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے اور تجارتی راستوں کو بہتر بنانے پر ہوگا تاکہ اس کی بڑھتی ہوئی ڈجیٹل اور اے آئی صلاحیتوں کا درست مقابلہ کیا جاسکے۔