ہیروشیما کے ایٹم بم دھماکے کے بارے میں ۸۱؍؍ سال بعد حیران کن دریافت کرلی ہے، سائنسدانوں نے ہیروشیما کے ساحلوں پر موجود ’’ہیروشیماائٹ‘‘ کے اندر ایک عجیب مادہ دریافت کیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 12:04 PM IST | Tokyo
ہیروشیما کے ایٹم بم دھماکے کے بارے میں ۸۱؍؍ سال بعد حیران کن دریافت کرلی ہے، سائنسدانوں نے ہیروشیما کے ساحلوں پر موجود ’’ہیروشیماائٹ‘‘ کے اندر ایک عجیب مادہ دریافت کیا ہے۔
ہیروشیما کے ایٹمی بم دھماکے کے ۸۰؍ سال بعد ایک نیا تخلیقشدہ مادہ جسے ابھی دریافت کیا گیا ہے۔ اس ہولناک واقعے میں ۷۰؍ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے اور دنیا ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ ایک تجزیے سے ہیروشیما کی ساحلی ریت سے حاصل کردہ ایک خردبینی ذرےکے اندر ایک سلکان سے بھرپور کثیراجزائی مرکب کا انکشاف ہوا ہے۔ ہیروشیماائٹس کے نام سے جانے جانے والے پگھلے ہوئے ملبے کے یہ ٹکڑے اس وقت بنے جب دھماکے نے سیکنڈوں میں درجہ حرارت ۷؍ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھا دیا۔
مطالعہ کے مصنفین نے جرنل سائنس ایڈوانسز میں لکھاہم ہیروشیما کی خلیج کی ساحلی ریت سے برآمد ہونے والے ایک ہیروشیمائٹ ذرے کے اندر جو ۶ ؍اگست ۱۹۴۵ء کے ایٹمی فضائی دھماکے کے دوران تشکیل پایا ۔اس سے قبل نامعلوم مرکب کی دریافت کی رپورٹ پیش کرتے ہیں ٹیم نے مقالے میں لکھا یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یہ دونوں واقعات رونما ہوئے اور انہوں نے فطرت میں تیز رفتار سیاروں کے تصادم، الکا کے اثرات اور بجلی گرنے کے مقابلے کے حالات پیدا کیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جاپان: زلزلے کے بعد شاپنگ مال میں خوفناک دھماکہ، سیکڑوں افراد دب گئے
بعد ازاں محققین نے کہا کہ دھماکے نے ایک آتشی گولہ پیدا کیا جس میں عمارتوں کے بخارات بنے ہوئے مواد، دھاتیں، مٹی، شیشہ اور پانی شامل تھے۔یہ آتشی گولہ پھر تیزی سے ٹھنڈا ہو کر خردبینی قطرات میں تبدیل ہو گیا جو زمین پر جم گئے۔ وہ بنیادی طور پر کیلشیم-ایلومینیم-سلکان شیشوں سے بنے ہیں جو اس وقت بنے جب درجہ حرارت تقریباً۱۸۰۰؍ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا۔ تاہم اب سائنسدانوں کو ’’ہیروشیماائٹ مواد‘‘ کی ایک نئی قسم ملی ہے جو اس سے بھی زیادہ درجہ حرارت کی حد میں تشکیل پاتی ہے۔ انہیں آئرن سے بھرپور مرکبات کے چھوٹے قطرے ملے، جن میں آئرن -کرومیم مرکبات شامل ہیں جن میں نکل، مینگنیز اور مولیبڈینم کی مختلف مقداریں ہیں۔ چھوٹے گول قطرات اور بے قاعدہ دانوں کی شکل میں موجود، یہ مرکبات شیشے کے ذروں کا صرف تین فیصد بنتے تھے۔ جبکہ دھماکے کے وقت ہیروشیما کی ریت میں مقامی دھاتوں کا یہ مرکب موجود تھا۔لیکن ایک چھوٹے دانے میں اردگرد کے آئرن-کرومیم مرکبات سے کہیں زیادہ سلکان تھا۔ اس میں تقریباً ۶۳؍ فیصد آئرن، ۱۵؍ فیصد کرومیم، نو فیصد نکل اور سات فیصد سلکان تھا۔
واضح رہے کہ اس طرح کے کرسٹل معمول کے حالات میں نہیں بنیں گے۔جبکہ یہ نتائج اس غیر متوقع طریقے کو ظاہر کرتے ہیں جس میں مادہ انتہائی درجہ حرارت پر ردعمل ظاہر کر سکتا ہے، جس سے مواد کی ایک نئی قسم بھی تشکیل پا سکتی ہے۔